مصری قومی اسمبلی نے وزراء کے ٹرائل سے متعلق 1958ء کا قانون درست قرار دیا

صدر جمہوریہ کے احتساب کا قانون بھی موجود

نشر في:

مصری قومی اسمبلی کی دستور اور قانون ساز کمیٹی نے وزراء کے مقدمات کی سماعت سے متعلق قانون مجریہ 1958ء کی دفعہ 79 کو قابل عمل قرار دیا ہے ، جس کے بموجب موجودہ وزیر داخلہ کے خلاف گذشتہ ہفتے پورٹ سعید اسٹیڈیم میں ہونے والے پر تشدد واقعات کی روک تھام میں ناکامی پر عدالتی کارروائی کا امکان ہے۔

"العربیہ ڈاٹ نیٹ" کے مطابق پارلیمنٹ کی دستور اور قانون ساز کمیٹی کا اجلاس چیئرمین ایڈووکیٹ محمود الخضیری کی زیر صدارت ہوا۔ اجلاس میں اراکین کے درمیان وجہ نزاع بننے والے 1958ء میں جاری ہونے والے قانون کے فی زمانہ اطلاق کا مسئلہ حل کر لیا گیا۔ خیال رہے کہ یہ آئین سنہ 1958ء میں اس وقت منظور کیا گیا تھا جب شام اور مصر "ون یونٹ" قرار پائے تھے۔

کمیٹی کے اجلاس میں یہ سوال اٹھایا گیا کہ آیا کئی عشرے قبل منظور کردہ اس قانون کی شق 79 پر عمل درآمد کی گنجائش موجود ہے یا نہیں؟ کمیٹی کو بتایا گیا کہ یہ آئین اب بھی اپنی جگہ فعال ہے اور قانون کے تحت وزیر داخلہ کے خلاف مقدمہ چلایا جا سکتا ہے۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ مصر اور شام میں علاحدگی کے باجود یہ قانون اپنی اصل حالت میں اب بھی قابل عمل ہے۔ اس قانون کے تحت کسی بھی وزیر کا عدالتی ٹرائل کیا جا سکتا ہے۔

خیال رہے کہ مصری پارلیمنٹ میں اخوان المسلمون کے رہ نما عصام العریان سمیت 120 اراکین نے اسپیکر کو درخواست دی تھی جس میں موجودہ وزیر داخلہ پر الزام عائد کیا گیا تھا کہ انہوں نے پورٹ سعید میں فٹ بال ٹیموں کے درمیان جاری مقابلے کے دوران سیکیورٹی کے مکمل انتظامات نہیں کیے تھے جس کے نتیجے میں ایک سو کے قریب ہلاک ہو گئے تھے۔ اس لئے ان کےخلاف قانونی کارروائی کی منظوری دی جائے۔ اسپیکر نے یہ درخواست آئینی کمیٹی کو بھجوا دی تھی جس نے پیر کے روز اپنے اجلاس میں غور کے بعد سنہ 1958ء میں وزراء کے ٹرائل سے متعلق منظور کردہ قانون کو درست قرار دیا۔

صدرِ جمہوریہ کا احتساب

پیر کے روز پارلیمنٹ کے اجلاس کے دوران لبرل جماعت "الوسط" کے رکن پارلیمنٹ ایڈووکیٹ عصام سلطان نے انکشاف کیا کہ صدر جمہوریہ کے احتساب کے حوالے سے سنہ 1956 کو منظور کردہ قانون ابھی دستور کا حصہ ہے اور وہ منسوخ نہیں کیا گیا۔

عصام سلطان نے ایوان کو بتایا صدر مملکت کے احتساب کے حوالے سے سن انیس سو چھپن میں منظور کردہ قانون بھی اپنی اصل حالت میں بحال ہے اور اسی سلسلے میں سنہ 1958ء میں وزراء کےخلاف عدالتی کارروائی کے حوالے سے منظور کردہ قانون بھی اپنی اصل شکل میں موجود ہے۔