امریکی صدر نے ایران کے مرکزی بنک پر سخت پابندیاں عاید کردیں
رقوم کے خفیہ لین دین کے بعد اقدام
امریکی صدر براک اوباما نے ایران اور اس کے مرکزی بنک پر سخت پابندیاں عاید کرنے کے لیے ایک انتظامی حکم نامے پر دستخط کردیے ہیں۔
وائٹ ہاؤس کی جانب سے سوموار کو جاری کردہ ایک بیان کے مطابق صدر اوباما کے حکم نامے کے تحت ایرانی حکومت ،ایران کے مرکزی بنک (سی بی آئی) اور امریکی دائرہ اختیار میں آنے والے تمام ایرانی مالیاتی اداروں کی تمام املاک اور مفادات کو منجمد کردیا گیا ہے۔
اس نئے حکم کے تحت امریکی اداروں کو ایران اور ایرانی اداروں کے اثاثے اور ان کی جانب سے لین دین کے لیے استعمال ہونے والی رقوم کو واپس کرنے کے بجائے ضبط کرنے کا اختیار دے دیا گیا ہے حالانکہ اس سے پہلے امریکی ادارے ایرانی اثاثوں کو بلاک کرنے کے بجائے صرف مسترد کرسکتے تھے یعنی آنے والی رقوم کو واپس کرسکتے تھے۔
صدر اوباما نے کانگریس کے نام خط میں لکھا ہے کہ ''میں اس امر میں پختہ اعتقاد رکھتا ہوں کہ ایران کے خلاف اضافی پابندیاں ضروری تھیں۔خاص طور پر ایران کے مرکزی بنک اور دوسرے بنکوں کی جانب سے دھوکا دہی سے رقوم کی منتقلی کے عمل کی وجہ سے یہ پابندیاں ناگزیر تھیں''۔
ان کے بہ قول ایران کی جانب سے پابندیوں کا شکاراداروں کو اس کے مرکزی بنک اور دوسرے بنکوں کی جانب سے رقوم کی منتقلی سے بین الاقوامی مالیاتی نظام کے لیے خطرات پیدا ہوگئے ہیں ،اس لیے ان کے خلاف سخت پابندیاں ناگزیر تھیں۔
امریکی محکمہ خزانہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ نئی پابندیوں سے تمام ایرانی وزارتوں اور سرکاری اداروں کے اثاثے متاثر ہوں گے۔امریکی کانگریس نے ان وسیع تر پابندیوں کی گذشتہ سال منظوری دی تھِی اور ان کے تحت ایران کے مرکزی بنک یا دوسرے اداروں کے ساتھ لین دین کرنے والے غیرملکی مالیاتی اداروں پر بھی پابندیاں عاید کی جاسکیں گی۔
امریکی صدربراک اوباما نے چند ہفتے قبل ہی ایران کے خلاف سخت پابندیوں کے بل پر دستخط کیے تھے۔اس کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ اس سے ایران کی اپنے جوہری پروگرام کے لیے فنڈز فراہم کرنے کی صلاحیت پرزدپڑے گی اور اس کی بین الاقوامی تنہائی میں اضافہ ہوگا۔
امریکی کانگریس کے ایران کے خلاف سخت پابندیوں کے لیے منظورکردہ بل کے تحت ایران کو ریفائن پیٹرولیم مصنوعات کی برآمد نہیں کی جاسکے گی اور امریکی بنکوں پرایران کے پاسداران انقلاب کوخدمات مہیا کرنے والے غیرملکی بنکوں کے ساتھ لین دین پرپابندی لگادی گئی ہے۔
اوباما انتظامیہ کو توقع ہے کہ اقوام متحدہ کی ایران کے خلاف چار مراحل میں عاید کردہ پابندیوں کے ساتھ امریکا کی جانب سے سخت یک طرفہ پابندیوں کے نتائج برآمد ہوں گے لیکن ماضی میں ایران پر عاید کردہ پابندیاں اسے جوہری پروگرام پر پیش رفت سے روکنے میں ناکام رہی ہیں۔اقوام متحدہ نے اپنی پابندیوں میں ایران کے پاسداران انقلاب،بیلسٹک میزائل اور جوہری پروگرام سے متعلق سرمایہ کاری پر قدغنیں لگائی تھیں۔
امریکی صدراوباما نے کانگریس کی جانب سے ایران کے خلاف منظورکردہ پابندیوں کوماضی کے مقابلے میں سخت ترین قراردیا تھا لیکن ساتھ ہی ان کا کہنا تھا کہ وہ پابندیاں تو نہیں لگانا چاہتے تھے لیکن یہ ایرانی حکومت ہے جس نے اس راستے کا انتخاب کیا ہے کیونکہ اس نے اقوام متحدہ کی قراردادوں کے باوجود اپنے جوہری پروگرام پر کام جاری رکھا ہوا ہے۔