مصر: پارلیمان کے اجلاس میں سلفی رکن کی نماز کے لیے اذان

اسپیکر نے سختی سے خاموش کرا دیا

نشر في:

مصرکی نئی پارلیمان میں آج اس وقت بدمزگی کی صورت حال پیدا ہو گئی جب ایک سلفی رکن ممدوح اسماعیل نے دوران اجلاس اچانک اپنی نشست پر کھڑے ہوکر نماز کے لیے اذان کہنا شروع کردی جس پر اسپیکر نے انھیں روک دیا اور ان سے سخت الفاظ میں کہا کہ وہ ''اذان کہنا بند کر دیں اور خاموش رہیں''۔

مصر کی عوامی اسمبلی کے اسپیکر سعد الکتاتنی نے سلفی رکن کے ایوان میں اذان کہنے پر سخت ردعمل کا اظہار کیا اور ان سے کہا کہ ''پارلیمان سے باہر مسجد موجود ہے،آپ وہاں چلے جائیں ،وہاں جا کر اذان دیں اور نماز ادا کریں''۔

اسپیکر نے سلفی رکن سے مخاطب ہوکر کہا کہ ''یہ کمرہ بحث مباحثے کے لیے ہے، آپ ہم سے زیادہ مذہبی ہیں اور نہ نماز کی ادائی کے معاملے میں زیادہ پابند ہیں''۔ ممدوح اسماعیل نے جب اسپیکر کے ان کلمات پر احتجاج کرنے کی کوشش کی تو انھوں نے کہا کہ ''کیا آپ میڈیا کی توجہ چاہتے ہیں۔آپ ایک معزز وکیل ہیں اور کیا آپ توجہ چاہتے ہیں؟''۔

اسپیکر نے سلفی رکن کو اس کے بعد بیٹھنے کا حکم دیا اور کہا کہ ''میں آپ کو اجلاس کے دوران بات کرنے کی اجازت نہیں دوں گا''۔ اس پر ممدوح اسماعیل نے اپنے غصے کا اظہار کیا اور احتجاج کی کوشش کی تو اسپیکر نے ان کا مائیکرو فون بند کرا دیا اور اس کے بعد اجلاس کی باقی کارروائی کے دوران ان کی آواز سنائی نہیں دی۔

اجلاس کے بعد ممدوح اسماعیل نے کہا کہ نماز عصر کا وقت ہو چکا تھا،اسی لیے انھوں نے اجلاس کے دوران اذان کہنا شروع کی تھی۔ان کا کہنا تھا کہ ''ہم ویٹی کن میں نہیں رہ رہے ہیں،ایک مسلم ملک میں رہتے ہیں اور ہمیں مقررہ وقت پر نمازیں ادا کرنی چاہئیں''۔

ان کا موقف تھا کہ پارلیمان کے اجلاسوں کی وجہ سے سیاست دانوں کی بہت سی نمازیں قضا ہوجاتی ہیں اور اس مسئلہ کو حل کیا جانا چاہیے۔ان کے بہ قول انھوں نے اس حوالے سے اسپیکر سے متعدد مرتبہ بات کی ہے کہ نمازوں کے اوقات کے دوران اجلاس کو ملتوی کیا جانا چاہیے تاکہ ہماری نمازیں قضا نہ ہوں۔اسپیکر نے اس سے اتفاق کیا تھا اور کہا تھا کہ وہ اس کے لیے کارروائی کریں گے لیکن انھوں نے ابھی تک اس ضمن میں کوئی عملی اقدام نہیں کیا۔

واضح رہے کہ مصر میں عوامی انقلاب کی کوکھ سے جنم لینے والی نئی قومی اسمبلی میں قدامت پسند سلفی تحریک کی ایک چوتھائی نشستیں ہیں اور وہ اسلام کی سخت گیر تشریح پر عمل پیرا ہیں۔سابق مطلق العنان صدر حسنی مبارک کی رخصتی کے بعد منعقدہ پہلے پارلیمانی انتخابات میں اخوان المسلمون کے سیاسی چہرہ آزادی اور انصاف پارٹی کی قیادت میں اتحاد نے سب سے زیادہ قریباً سینتالیس فی صد نشستیں حاصل کی تھیں۔