ماسکو میں شامی سفارت خانے کی عرب میڈیا کےخلاف شر انگیز مُہم

صحافیوں کو سنگین نتائج کی دھمکیاں

نشر في:

شام میں صدر بشار الاسد کےخلاف عوامی بغاوت کی تحریک کے آغاز ہی سے غیر جانبدار ذرائع ابلاغ کو سخت نوعیت کی پابندیوں اور مشکلات کا سامنا رہا ہے۔ شام کے اندر جہاں صحافیوں کو کھلے عام صورتحال کی کوریج کی اجازت نہیں بلکہ باغیوں کی طرح صحافیوں کو بھی وحشیانہ جارحیت کا سامنا ہے۔ وُہیں بیرون ملک بشار الاسد کے حامی آزاد ذرائع ابلاغ کا گلا گھونٹنے کی اسی طرز کی سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔

" العربیہ ڈاٹ نیٹ" کے مطابق روس کے دارالحکومت ماسکو میں قائم شامی سفارت خانہ بھی غیر جانبدار میڈیا کےخلاف اسی طرح کی ایک شرا نگیز مہم جاری رکھے ہوئے ہے۔ رپورٹ کے مطابق حال ہی میں بشار الاسد کی ترجمان خبر رساں ایجنسی "سانا" نے ایک غیر مصدقہ مراسلے کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا ہے جس میں کہا گیا کہ دمشق میں قطری سفارت خانہ سے عرب صحافیوں کو شام کےخلاف رپورٹنگ کرنے پرمالی معاونت فراہم کی جاتی ہے۔

رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ 10 دسمبر 2011ء کو ماسکو میں قطری سفارت خانے سے روس میں مختلف عرب نشریاتی اور اشاعتی اداروں کے لیے کام کرنے والے عرب صحافیوں کے نام ایک مراسلہ جاری کیا گیا۔ یہ مراسلہ صحافیوں کے علاوہ کئی دیگر عرب شخصیات کو بھی پہنچایا گیا ہے، جس میں شامی صدر کے جرائم کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے بالخصوص ماسکو میں شامی سفارت خانے کو بدنام کرنے بھی زور دیا گیا ہے ۔

"سانا" کی رپورٹ کے مطابق قطری سفارت خانے کی جانب سے جاری کردہ خفیہ مراسلے میں ان عرب صحافیوں کے نام بھی بتائے گئے ہیں جو ماسکو میں صدر بشار الاسد کی مخالفت میں رپورٹنگ کرتے ہیں اور اس کے عوض قطری سفارتخانہ انہیں مالی مدد فراہم کرتا ہے۔

شامی خبر رساں ایجنسی نے جس مراسلے کا ذکر کیا ہے، اس کے مصدقہ اور باوثوق ہونے کا کوئی ثبوت نہیں دیا گیا۔ صرف اتنا کہا گیا ہے کہ ماسکو میں قطری سفارت خانہ شام کےخلاف سازشیں کرتے ہوئے صحافیوں کوخرید رہا ہے تاکہ وہ روسی حلقوں میں بشار الاسد کے جرائم کو بڑھا چڑھا کر پیش کریں۔

ادھرب عض دوسری میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ ماسکو میں قائم شامی سفارت خانہ مبینہ طور پر صحافیوں کو ڈرانے دھمکانے اور انہیں لالچ کے ذریعے بشار الاسد کی حمایت میں رپورٹنگ کرنے کی ترغیب دے رہا ہے۔ شامی سفارت کار پوری کوشش کر رہے ہیں کہ ماسکو میڈیا میں صدر بشار الاسد کی ساکھ کو بچا سکیں، لیکن میڈیا کے میدان میں انہیں سخت مشکلات کا بھی سامنا ہے۔

ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو دھمکیاں

"العربیہ ڈاٹ نیٹ" کے مطابق شام کے اتحادی سمجھے جانے والےملک روس میں شامی حکومتی شخصیات کی آمدو رفت اور مصروفیات میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ جب سے شام میں عوامی بغاوت کی تحریک اٹھتے ہی ماسکو نے بھی شامی بغاوت کی تحریک کےخلاف آستینیں چڑھا لی ہیں اورہ کھل کر بشار الاسد کی پالیسیوں کی حمایت کر رہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق ماسکو آنے والی حکومتی شخصیات کو صحافیوں کے تند وتلخ سوالات کا بھی سامنا رہتا ہے، لیکن اب شامی سفارت خانے نے صحافیوں زبان بند کرنے کے لیے مختلف حربے استعمال کرنا شروع کر دیے ہیں۔ اطلاعات ملی ہیں کہ صحافیوں کو سفارت خانے کی جانب سے ایک سرکلر جاری کیا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے شام کی حکومتی شخصیات سے متنازعہ نوعیت کے سوالات پوچھنے بالخصوص صدر اسد کی ساکھ کو بدنام کرنے والے سوالات پوچھنے والے صحافیوں کو سنگین انجام سے دوچار ہونا پڑ سکتا ہے۔

رپورٹ کےمطابق سفارت خانے کی جانب سے عرب نامہ نگاروں کے لیے جو نیا ضابطہ اخلاق جاری کیا گیا ہے اس میں صرف ایسے سوالات ہی پوچھنے کی اجازت دی گئی ہے جن سے بشار الاسد کے مظالم کے بجائے باغیوں کو ظالم اورحکومت کو مظلوم ثابت کیا جا سکے۔

ماسکو میں کام کرنے والے بعض غیر جانبدار نامہ نگاروں کےحوالے سے شامی سفارت خانے کا کہنا ہے کہ وہ مغرب اور اسرائیل کے ایجنٹ ہیں جو شام کے خلاف روس میں مغرب کی مہم چلاتے ہوئے غیر ملکی ایجنڈے پر عمل پیرا ہیں۔

روس میں غیر ملکی صحافیوں بالخصوص عرب ممالک کے نامہ نگاروں کے مشترکہ فورم "عرب پریس کلب" نے شامی سفارت خانے کے منفی کردار کی شدید مذمت کرتے ہوئے صحافیوں کو دی جانے والی دھمکیوں کو میڈیا کی آزادی پر حملہ قرار دیا ہے۔ پریس کلب کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ جس طرح شام میں صدر بشار الاسد کی حامی فوجیں بے گناہ شہریوں کو کچلنے میں مصروف ہیں، اسی طرح صدر اسد کے دوسرے ملکوں میں تعینات پریس اتاشی میڈیا کے خلاف شر انگیز مہم جاری رکھے ہوئے ہیں۔