اسد نواز ملیشیا نے حمص میں تین خاندان ذبح کر دیئے
20 شہریوں کو گلے کاٹ کر ہلاک کیا گیا
انسانی حقوق کی ایک آبزرویٹری نے بتایا کہ بدھ کے روز حمص شہر میں بشار الاسد کی حامی ملیشیا نے تین بے گناہ خاندانوں کے بیس افراد کو قتل کر دیا ہے۔ آبزرویٹری کے مطابق یہ خاندان حمص کی ان کالونیوں میں رہائش پذیر تھے کہ جو شامی حکومت مخالف تحریک کی سرگرمیوں کا مرکز رہی ہیں۔
بشار الاسد حکومت کے مخالف جلاوطن رہ نما اور لندن میں قائم انسانی حقوق آبزرویٹری کے سربراہ رامی عبدالرحمن نے "رائیٹرز" سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اجرتی قاتلوں پر مشتمل ملیشیا نے تین گھروں پر رات کے وقت شب خون مارا۔ اس کارروائی میں ملیشیا نے پانچ افراد پر مشتمل خاندان کو ذبح کر دیا۔ بشار الاسد نواز ملیشیا کی بربریت کا شکار ہونے والوں میں میاں، بیوی اور ان کے تین بچے شامل ہیں۔ دوسرے گھر میں ایسی ہی دلخراش کارروائی میں اجرتی قاتلوں نے سات جبکہ تیسرے گھر میں آٹھ افراد کو قتل کر دیا۔
شامی حکام نے حمص میں نہتے شہریوں کو ذبح کرنے سے متعلق اس خبر اب تک کوئی تبصرہ نہیں کیا، تاہم انقلاب سپریم کونسل نے تین خاندانوں کو چھریوں سے ذبح کرنے کے واقعات کی تصدیق کی ہے۔ العربیہ کے نامہ نگار کے مطابق حمص شہر کی گلیوں اور محلوں پر شامی فوج کی مسلسل گولا باری کی وجہ سے شہری ایک حقیقی جنگ کا سامنا کر رہے ہیں۔