اسرائیلی صدر شمعون پیریز کا ایرانیوں کے لیے پیغام امن
''ہم دشمن پیدا ہوئے اور نہ دشمن رہنے کی ضرورت ہے''
اسرائیلی صدر شمعون پیریز نے ایرانیوں کو امن کا پیغام دیا ہے اور کہا ہے کہ دونوں ممالک کے عوام کو دشمن بنے رہنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔
وہ اسرائیلی پارلیمان الکنیست کے قیام کی تریسٹھویں سالگرہ کے موقع پر خطاب کر رہے تھے۔ انھوں نے کہا کہ ''ہم دشمن پیدا نہیں ہوئے تھے اور ہمیں دشمن بنے رہنے کی بھی کوئی ضرورت نہیں ہے''۔
اسرائیلی صدر نے کہا کہ ''مخالفت کے جھنڈے کو اپنے تاریخی ورثے پر تاریک سائے ڈالنے کی اجازت نہ دو۔ آپ کے لوگ حساس ہیں جو دوستی اور امن چاہتے ہیں اور وہ تنازعات اور جنگیں نہیں چاہتے ہیں''۔اب یہ واضح نہیں کہ شمعون پیریز کے مخاطب اسرائیلی پارلیمان کے ارکان تھے یا وہ ایرانیوں سے مخاطب تھے۔
ان سے قبل گذشتہ جمعہ کو ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے ایک نشری تقریر میں اسرائیل کو کینسر کا ٹیومر قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ اس کو کاٹ دیا جانا چاہیے۔ ان کے الفاظ میں اللہ نے چاہا تو ایسا ہو گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم صہیونی رجیم سے لڑنے والے کسی بھی گروپ کی حمایت کریں گے۔
ایرانی سپریم لیڈر نے مغربی ممالک کی جانب سے تیل کی برآمدات پرعاید کردہ پابندیوں اور جوہری تنصیبات پر ممکنہ امریکی واسرائیلی حملے کی صورت میں جوابی اقدامات کی دھمکی دی تھی۔ ایران میں اسلامی انقلاب کی سالگرہ کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ''وہ یہ دھمکی دے رہے ہیں کہ تمام آپشنز ان کے زیر غور ہیں، لیکن جنگ کی دھمکیاں امریکا کے لیے بھی تباہ کن ہوں گی اور جنگ پر عمل درآمد کیا جاتا ہے تو یہ اس ملک کے لیے دس گنا تباہ کن ہوگی''۔وہ امریکا کے اس بیان کا حوالہ دے رہے تھے جس میں کہا گیا تھا کہ ایران کو جوہری پروگرام سے دستبردار کرانے کے لیے تمام آپشنز پر غور کیا جا رہا ہے۔
آیت اللہ علی خامنہ ای نے یہ سخت بیان ایسے وقت میں جاری کیا جب یہ قیاس آرائیاں گردش کر رہی ہیں کہ اسرائیل امریکا کی مدد یا اس کے بغیر بھی ایران کی جوہری تنصیبات پر فضائی حملوں کی تیاری کر رہا ہے جبکہ مغربی ممالک نے ایران کی معیشت کو تباہی سے دوچار کرنے کے لیے اس کی تیل کی برآمدات پر نئی پابندیاں عاید کر دی ہیں۔