مارک گراسمین کے قطر میں طالبان سے مذاکرات کی تصدیق

افغان صدر حامد کرزئی سے کابل میں ملاقات کے بعد

نشر في:

افغانستان کے ایک سنئیر عہدے دار نے انکشاف کیا ہے کہ امریکا کے پاکستان اور افغانستان کے لیے خصوصی ایلچی مارک گراسمین نے حال ہی میں قطر میں طالبان مزاحمت کاروں کے لیڈروں کے ساتھ مذاکرات کیے ہیں۔

اس عہدے دار نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ مارک گراسمین نے جنوری کے آخر میں قطر میں طالبان کی قیادت سے بات چیت کی تھی۔اس سے پہلے انھوں نے کابل میں افغان صدر حامد کرزئی سے ملاقات کی تھی۔ بعد میں انھوں نے افغان صدر کو ان کے اٹلی کے دورہ کے موقع پر طالبان کے نمائندوں کے ساتھ اپنی بات چیت کی تفصیل سے آگاہ کیا تھا۔

واضح رہے کہ امریکا نے افغانستان میں گذشتہ ایک عشرے سے جاری جنگ کے خاتمے کے لیے طالبان مزاحمت کاروں کے ساتھ چند ماہ قبل ہی مذاکرات کا سلسلہ شروع کیا تھا اور اس کی اب دونوں جانب سے باقاعدہ تصدیق کی جاچکی ہے۔ افغان صدر حامد کرزئی نے ملک میں قیام امن کے لیے امریکی منصوبے کی حمایت کا اظہار کیا ہے لیکن وہ اپنی اس تشویش کا بھی اظہار کر چکے ہیں کہ طالبان اور امریکا کے درمیان مذاکرات کے عمل میں انھیں سائیڈلائن کیا جا سکتا ہے۔

امریکا نے افغان صدر کی اسی تشویش کو دور کرنے کے لیے گذشتہ ماہ مارک گراسمینن کو کابل بھیجا تھا تاکہ وہ انھیں مذاکراتی عمل کے بارے میں مطمئن کر سکیں اور انھوں نے حامد کرزئی کو اس بات کی یقین دہانی کرائی تھی کہ اگر طالبان سے بات چیت آگے بڑھتی ہے تو انھیں ہی اس عمل میں قائدانہ کردار سونپا جائے گا لیکن اس کے باوجود افغان حکومت کا موقف ہے کہ طالبان کے ساتھ مذاکرات میں افغانستان کو ابھی سے قائدانہ کردار سونپا جانا چاہیے۔

حامد کرزئی نے دسمبر میں ایک بیان میں امریکا کے طالبان کے ساتھ مذاکرات کے عمل میں خود کو نظر انداز کیے جانے پر ناراضی کا اظہار کیا تھا۔تب ایک افغان عہدے دار نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا تھا کہ ''جن امریکی عہدے داروں کے ساتھ ہمارے روابط ہیں، ان کے بہ قول ایک مرتبہ قطر میں طالبان کا دفتر کھل جاتا ہے اور مذاکرات کا عمل شروع ہو جاتا ہے تو قیادت کی ذمے داری افغان حکومت ہی کو سونپی جائے گی۔اس کے بغیر کوئی بات چیت کامیاب نہیں ہو سکتی لیکن فی الوقت افغان حکومت کا مذاکراتی عمل میں کوئی کردار نہیں ہے''۔