فلسطینی وزیر اعظم اسماعیل ھنیہ ایران کا دورہ کریں گے

خلیجی عرب ملکوں کا دورہ منسوخی پر زور

نشر في:

اسلامی تحریک مزاحمت ۔ حماس کے رہ نما اور فلسطینی وزیر اعظم اسماعیل ھنیہ جمعہ کے روز ایران کا دورہ کریں گے۔ فلسطینی رہنما کا یہ دورہ ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران 1979ء کے انقلاب کی سالگرہ منا رہا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ ایران کے نائب صدر محمد رضا رحیمی، فلسطینی رہ نما کا استقبال کریں گے، تاہم دورے کے دوسرے پروگراموں سے متعلق ایرانی حکام نے مزید کوئی تفصیل نہیں بتائی۔

ایرانی ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ اسماعیل ھنیہ دورے میں ایرانی حکام سے ملاقاتیں کریں گے۔ انہیں تہران یونیورسٹی کی جانب سے ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگری دی جائے گی۔

اسماعیل ھنیہ کے قریبی ذرائع، جو کہ ان دنوں خیلجی عرب ریاستوں کے دورے پر ہیں، نے اس دورے کی تصدیق نہیں کی ہے۔ عربی اخبار القدس کا کہنا ہے کہ خلیجی رہنما تہران سے کشیدہ تعلقات کی وجہ سے اسماعیل ھنیہ کو دورہ منسوخ کرنے کا مشورہ دے رہے ہیں۔

ایرانی صدر ہفتے کے روز انقلاب کی 33 سالگرہ کے موقع پر خصوصی خطاب کریں گے۔ وہ فلسطین ایشو سے جذباتی لگاؤ اور مسئلے کے فوری حل کے پرزور حامی ہیں۔ دوسری جانب اسرائیل غزہ پر حکمران حماس کو دہشت گرد تنظیم سمجھتا ہے۔ تل ابیب کا الزام ہے کہ ایران، حماس کو اسلحہ فراہم کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے۔

احمدی نژاد متعدد مواقع پر اسرائیل کے وجود کو مسترد کر چکے ہیں۔ اسی ضمن میں وہ یہودی ریاست کے مخالفین، بشمول حماس کی کھلے بندوں حمایت اور امداد کرتا ہے.

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے گزشتہ ہفتے ایک خطاب میں اسرائیل کو سرطانی ناسور قرار دیکر اس کے خاتمے کی کال دی دی تھی۔ یاد رہے کہ حماس نے مغربی کنارے پر حکمران فتح موومنٹ کے ساتھ ایک معاہدے پر دستخط کئے تھے جس کے تحت مغربی کنارے اور غزہ میں فلسطینی قومی اتفاق رائے کی حکومت تشکیل دیں گے۔

اسرائیل نے اس معاہدے کو مسترد کرتے ہوئے محمود عباس کو خبردار کیا ہے کہ وہ حماس کے مصالحت یا پھر اسرائیل سے امن میں کسی ایک کا انتخاب کرے۔ فتح کے اعلی عہدیدار نے بتایا کہ نئی فلسطینی حکومت کا اعلان اٹھارہ فروری کو قاہرہ میں کیا جائے گا۔