فضائی کمپنیوں کا فربہ مسافروں پر اضافی ٹیکس عائد کرنے کا فیصلہ
بعض موٹے مسافروں کو ایک کے بجائے دو ٹکٹیں خرید کرنا پڑیں گی
"موٹاپا دوہری مصیبت" کی کہاوت اگرچہ فربہ جسم والے لوگوں کے لیے صدیوں پرانی ہے لیکن برطانیہ کی ایک عدالت نے یہ کہاوت سچ کر دکھائی ہے۔ برطانیہ میں موٹے اور بھاری بھرکم جسامت والے مسافروں کو فضائی سفر کے دوران فضائی کمپنیوں کو اضافی ٹیکس ادا کرنا پڑے گا۔ یہ ٹیکس خود "موٹے مسافر" اور اس کے ساتھ والی نشست پر بیٹھنے والے مسافروں کی سہولت اور حقوق کے تناظر میں لگایا جا رہا ہے۔ زیادہ بھاری جسم والے کسی ایک مسافر کو ہوائی جہاز میں نشست کے لئے دو ٹکٹیں بھی خریدنا پڑیں گی۔ یوں وہ خود بھی جہاز کی سیٹ پر سکون سے بیٹھ سکے گا اور اس کا ہمسفر بھی اس سے متاثر نہیں ہو گا۔
رپورٹ کے مطابق موٹے جسم والے مسافروں کے لیے یہ نیا ٹیکس خود ایسے ہی دو مسافروں کے ایک عدالت میں دائر دعوے کے جواب میں لگایا جا رہا ہے۔ برطانوی اخبار "ڈیلی میل" نے لندن میں قائم "آوٹرٹیمپیل" نامی تھینک ٹینک سے وابستہ وکیل "ڈینیئل بارنیٹ" کے حوالے سے بتایا ہے کہ لندن کی اپیل کورٹ نے موٹے مسافروں پر ٹیکس لگانے کا فیصلہ خود ان کے دائر کردہ مقدمہ پر فیصلہ سناتے ہوئے کیا ہے۔
ڈینیئل نے بتایا کہ برطانوی فضائی کمپنیوں"برٹش ایئرویز" اور "ٹومس کاک" کے جہازوں میں سفر کرنے والے دو موٹے مسافروں نے عدالت میں اپنے ساتھ کی جانے والی بدسلوکی کا دعویٰ دائر کیا۔ اپیل کورٹ نے فضائی کمپنیوں کے وکلاء کا ردعمل معلوم کرنے کے بعد آئندہ کے لیے موٹے مسافروں کو اس قسم کا دعویٰ دائر کرنے اور ہرجانے کا حق دینے سے بھی محروم کر دیا۔
فضائی کمپنیوں کے وکلاء کی جانب سے عدالت کو بتایا گیا کہ بھاری جسامت والے مسافروں کی وجہ سے دیگر مسافروں اور خود جہازوں کا عملہ بھی متاثر ہوتا ہے۔ موٹے مسافروں سے عملے کو عموما یہ شکایت رہتی ہے کہ وہ اپنے موٹاپے کے بہانے اضافی مراعات مانگتے ہیں۔ خاص طور پر خور و نوش کی جہاز میں فراہم کی جانے والی اشیاء میں اضافے کا مطالبہ کیا جاتاہے۔
اس کےعلاوہ موٹے مسافر کے ساتھ کسی دبلے پتلے مسافر کا سفر کرنا بھی ایک کار دشوار ہے۔ اگر موٹے مسافرکو دیگر مسافروں سے ہٹ کر اضافی سہولیات فراہم کی جائیں تو باقی لوگ بھی شکایت کرتے ہیں۔ اس پر عدالت نے دونوں موٹے مدعیان کی درخواست مسترد کرتے ہوئے کمپنیوں کو اجازت دی کہ وہ ایک درمیانے جسامت کے مسافر کا تعین کریں۔ جو مسافر زیادہ فربہ ہو اس کا وزن کر کے اضافی وزن کے لحاظ اس سے ٹیکس وصول کیا جائے۔
ایڈووکیٹ ڈینیئل کا کہنا ہے کہ عدالت کے فیصلے کے مطابق موٹے مسافروں کا باقاعدہ وزن کیا جائے گا اور اضافی وزن کے عوض انہیں ان کمپنیوں کو ٹیکس ادا کرنا پڑےگا۔ انہوں نے کہا کہ زیادہ موٹی جسامت والے افراد کو فضائی سفر کے دوران دو ٹکٹیں خریدنا پڑیں گی تاکہ وہ خود بھی سکون کے ساتھ دو نشستوں پر آرام سے بیٹھ سکے اور ساتھ والوں کو بھی کسی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
مبصرین کا خیال ہے کہ برطانوی عدالت نے جہاں موٹے لوگوں کو ایک نئی پریشانی میں ڈال دیا وہیں فضائی کمپنیوں کی ایک مشکل بھی حل کر دی ہے کیونکہ بہت سی کمپنیوں کو موٹے مسافروں سے ڈیلنگ کے حوالے سے شکایات رہتی تھیں۔ برطانوی عدالت کا فیصلہ موٹاپے کے شکار لوگوں کو اپنا اضافی وزن کم کرنے کے بارے میں غور کا موقع بھی فراہم کرے گا۔