روس: نو عمروں میں خودکشی کا بڑھتا ہوا رجحان، حکام پریشان

حکومت سے اہم مسئلہ پر قابو پانے کے لیے اقدامات کا مطالبہ

نشر في:

روس میں حال ہی میں نو عمر لڑکے اور لڑکوں میں خودکشیوں کے رجحان میں خوفناک حد تک اضافہ ہوگیا ہے جس پر ماہرین نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ نونہالوں کی غیر طبعی اموات پر قابو پانے کے لیے فوری اقدامات کرے۔

روس میں پندرہ سے انیس سال کے درمیان عمر کے لڑکے اور لڑکیوں میں خودکشیوں کی شرح دنیا میں تیسرے نمبر پر ہے۔ یونیسیف کے اعداد وشمار کے مطابق روس میں ہر سال ڈیڑھ ہزار نو عمر لڑکے اور لڑکیاں اپنے ہاتھوں سے اپنی جان لے لیتے ہیں۔سابق سوویت یونین میں شامل رہی دو ریاستوں بیلارس اور قازقستان میں نو عمروں میں خودکشی کی شرح روس سے بھی زیادہ ہے۔

روس کے کمشنر برائے حقوق اطفال پیول استاخوف نے صدر دمتری میدویدیف کی حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ خودکشیوں کے بڑھتے ہوئے خوفناک رجحان پر قابو پانے کے لیے فوری اور ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کرے۔

انھوں نے اپنی ویب سائٹ پر جاری کردہ ایک بیان میں کہا ہے کہ ''ہماری حکومت خودکشیوں کی بہت زیادہ شرح کو نظر انداز کرنے کا سلسلہ جاری نہیں رکھ سکتی۔ نو عمروں میں خودکشی کے بڑھتے ہوئے رجحان کے پیش نظر حکومت کی جانب سے اس اہم معاشرتی مسئلہ پر قابو پانے کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت ہے''۔

انھوں نے روس کی صحت اور تعلیم کی وزارتوں کو تجویز پیش کی ہے کہ وہ نو عمروں میں خودکشی کے رجحان پر قابو پانے کے لیے مشترکہ پروگرام شروع کریں۔ ماسکو میں قائم سربسکی مرکز برائے نفسیاتی امراض کے ڈائریکٹر بورس پولوژی کا کہنا ہے کہ جب تک اعلیٰ حکام خودکشی کو ایک مسئلہ نہیں سجھتے ،اس وقت تک ہماری مشترکہ کاوشوں کے کوئی مفید نتائج برآمد ہونا مشکل ہے۔

واضح رہے کہ روس کے دارالحکومت ماسکو کے نواح میں واقع ایک قصبے میں اسی ہفتے چودہ سال کی عمر کی دو لڑکیوں نے ایک چودہ منزلہ عمارت سے کود کر خودکشی کر لی تھی۔دونوں نے عمارت سے چھلانگ لگاتے وقت ایک دوسری کا ہاتھ تھام رکھا تھا۔روس کے دوسرے علاقوں میں بھی حالیہ ہفتوں کے دوران خودکشیوں کے متعدد واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔