فرانسیسی پارلیمان میں آیا کے لیے مذہبی علامات پر پابندی پر غور

برقع پر پابندی کے بعد ایک اور مسلم مخالف متنازعہ قانون

نشر في:

فرانس میں مسلم خواتین کے حجاب اوڑھنے پر پابندی کے بعد ایک اور متنازعہ قانون کے مسودے پر پارلیمان کے ایوان زیریں میں غور کیا جا رہا ہے جس کے تحت بچوں کی نگہداشت کے تمام اداروں اور ان کی دیکھ بھال پر مامور آیاٶں اور معاونین کے مذہبی علامات استعمال کرنے پر پابندی عاید کر دی جائے گی۔

فرانس کی قومی اسمبلی اس وقت اس قانون کے مسودے کا جائزہ لے رہی ہے۔اس سے قبل 17جنوری کو سینیٹ نے اس متنازعہ بل کی منظوری دی تھی اور اس کو توثیق کے لیے قومی اسمبلی کو بھیجا تھا اور وہاں اس کے حق میں ووٹ کی صورت میں اسے صدر نکولا سارکوزی کے پاس دستخطوں کے لیے بھیجا جائے گا جس کے بعد یہ قانون بن جائے گا۔

فرانسیسی سینیٹ میں یہ بل بائیں بازو کی سخت گیر''ریڈیکل پارٹی'' کی ایک سینیٹر فرانکویس لابوردے نے متعارف کرایا تھا۔اس کے مسودے میں کہا گیا ہے کہ ''اگر کسی انفرادی آجر کے ساتھ معاہدے میں واضح نہیں کردیا جاتا تواس وقت تک بچوں کی نگہداشت پر مامور معاون کے لیے لازم ہوگا کہ وہ مذہبی معاملات میں غیر جانبدار رہے''۔

اس سینیٹر کے بہ قول :''والدین کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ ایک ایسی آیا کی خدمات حاصل کرسکیں جو مذہبی حوالے سے بالکل غیرجانبدار ہو''۔اس مجوزہ قانون کے مخالفین کا کہنا ہے کہ مس لابوردے نے مسلم آیاٶں اور بچوں کی نگہداشت کرنے والے مسلم معاونین کو ہدف بنانے کی کوشش کی ہے''۔

اس خاتون سینیٹر کا کہنا تھا کہ ان کی ایک نجی نرسری کے اقدام سے اس بل کو پیش کرنے کے لیے حوصلہ افزائی ہوئی تھی جس نے اسلامی حجاب نہ اتارنے والی اپنی ایک ملازمہ کو برخاست کردیا تھا۔ واضح رہے کہ 27اکتوبر 2011ء کو فرانسیسی شہر ورسیلیز میں اپیل عدالت نے اس ملازمہ کو برطرف کرنے کا فیصلہ برقرار رکھا تھا اور اس کو قانونی قرار دیا تھا۔

بچوں کی دیکھ بھال پر مامور ایک مسلم خاتون جمیلہ نے پارلیمان میں متعارف کردہ نئے متنازعہ قانون کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ''یہ ہرگز بھی اس کا کردار نہیں کہ وہ بچوں کے ساتھ مذہب پر بات کرے''۔انھوں نے ایک فرانسیسی ویب سائٹ سے بات چیت میں کہا کہ ''ہم تین سال سے کم عمر بچوں کی نگہداشت کرتے ہیں،کیا آپ مجھے یہ بتاسکتے ہیں کہ وہ اس عمر میں کیا سمجھ سکتے ہیں''۔

سیکولر ازم کے ایک تجزیہ کار ژاں بوبروت نے ویب سائٹ میڈیا پارٹ پر پوسٹ کیے گئے اپنے بلاگ میں سیکولر ازم کے پردے میں مسلمانوں کے خلاف امتیازی قانون کی مذمت کی ہے۔ انھوں نے فرانس کی حکمراں جماعت یونین برائے پاپولر تحریک اور وزیر داخلہ کلاڈے گوئن پر الزام عاید کیا کہ ''انھوں نے مذہب اور ریاست کے درمیان تعلق قائم کرکے مذہبی آزادیوں سے متعلق سیکولر ازم کے اصول کو تار تار کر دیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ ایک مذہب سے وابستہ افراد کے خلاف کریک ڈاٶن کی کارروائیاں بھی کر رہے ہیں''۔

واضح رہے کہ فرانسیسی پارلیمان میں نئے متعارف کردہ متنازعہ قانون میں نام لے کر کسی خاص مذہبی علامت کا ذکر نہیں کیا گیا لیکن یہ یقین کیا جاتا ہے کہ اس کے تحت مسلم خواتین کے حجاب اور سرپوش ہی کو نشانہ بنایا جائے گا حالانکہ فرانسیسی حکومت پہلے ہی سرکاری اداروں اور عوامی مقامات پر مسلم خواتین کے سرپوش اوڑھنے پر پابندی عاید کر چکی ہے۔نئے متنازعہ فرانسیسی قانون کے خلاف مسلم دنیا میں احتجاج کیا جا رہا ہے اور بعض جنگجو تنظیموں نے فرانس کے خلاف حملوں کی دھمکی بھی دے رکھی ہے۔