کرم ایجنسی میں خودکش بم دھماکا،26 افراد جاں بحق
پاراچنار میں صورت حال کشیدہ ،کرفیو نافذ
پاکستان کے وفاق کے زیرانتظام قبائلی علاقے کرم ايجنسی کے صدر مقام پاراچنار میں ایک مسجد کے باہر خودکش بم دھماکے کے نتیجے ميں چھبیس افراد جاں بحق اور چاليس سے زیادہ زخمی ہوگئے ہيں۔
افغان سرحد کے نزدیک واقع کرم ایجنسی کی پوليٹيکل انتظاميہ کے مطابق پاراچنار کے مين بازار ميں واقع اہل تشیع کی مسجد کے باہر نمازجمعہ ختم ہونے کے بعد حملہ آور نے اپنی بارود سے بھری جیکٹ کو دھماکے سے اڑا دیا جس سے متعدد دکانیں تباہ ہوگئی ہیں۔دھماکے کے فوری بعد سکیورٹی اہلکاروں نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے لیا اور امدادی کارروائياں شروع کردی گئیں۔
پاراچنار میں اس خودکش حملے کے خلاف مقامی لوگوں نے احتجاجی مظاہرہ کیا۔پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے ان پر فائرنگ کردی جس سے تین افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔ پولیٹیکل انتظامیہ میں شہر میں صورت حال پر قابو پانے کے لیے کرفیو نافذ کردیا ہے۔
ایک مقامی اہلکار لیاقت بنگش نے بتایا ہے کہ پارا چنار کے ڈسٹرکٹ ایجنسی اسپتال میں بم دھماکے میں مرنے والوں کی اکیس لاشیں لائی گئی ہیں اور پانچ شدید زخمی اپنے زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے خالق حقیقی سے جاملے ہیں۔ باقی زخمیوں میں دس کی حالت تشویش ناک بتائی جاتی ہے جس کے پیش نظر مرنے والوں کی تعداد میں اضافے کا خدشہ ہے۔
کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے ایک منحرف دھڑے نے پاراچنار میں خودکش بم حملے کی ذمے داری قبول کرلی ہے۔اس تنظیم کے سربراہ فضل سعید نے میڈیا کے نمائندوں کے ساتھ کسی نامعلوم مقام سے ٹیلی فون پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ''ہم نے شیعہ کمیونٹی کے افراد کو اس لیے نشانہ بنایا ہے کیونکہ وہ ہمارے خلاف سرگرمیوں میں ملوث تھے''۔
انھوں نے علاقے کی پولیٹکل انتظامیہ کو بھی خبردار کیا ہے کہ ''وہ ہمارے ساتھ تمام تنازعات میں اہل تشیع کی طرف داری کرنے سے گریز کرے''۔فضل سعید ایک شیعہ مخالف کالعدم تنظیم کے کمانڈر ہیں لیکن وہ گذشتہ سال کالعدم تحریک طالبان کی قیادت کے ساتھ اختلافات کے بعد اس سے الگ ہوگئے تھے۔ان کے افغانستان میں غیرملکی فوجوں سے برسرپیکار حقانی نیٹ ورک کے ساتھ قریبی تعلقات بتائے جاتے ہیں۔