بدھ 08 جمادى الأولى 1434هـ - 20 مارچ 2013م
آخری وقت اشاعت: جمعہ 25 ربيع الأول 1433هـ - 17 فروری 2012م KSA 18:33 - GMT 15:33

سہ فریقی سربراہی اجلاس کے اختتام پر تینوں صدور کی نیوز کانفرنس

کسی دباؤ سے پاک ۔ ایران تعلقات متاثر نہیں ہو سکتے: صدر پاکستان

جمعہ 25 ربيع الأول 1433هـ - 17 فروری 2012م
ایرانی، پاکستانی اور افغان صدور مشترکہ نیوز کانفرنس سے خطاب کر رہے ہیں
ایرانی، پاکستانی اور افغان صدور مشترکہ نیوز کانفرنس سے خطاب کر رہے ہیں
اسلام آباد ۔ العربیہ، ایجنسیاں

پاکستان کے صدر آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ کسی دباؤ سے پاک ۔ ایران تعلقات متاثر نہیں ہو سکتے۔ ایران اور پاکستان ہمسایہ ممالک ہیں۔ دونوں ملک ایک دوسرے کی ضرورت ہیں۔ دہشت گردی عالمی مسئلہ ہے۔ اس جنگ میں ہم نے بے نظیر بھٹو کو کھو دیا. ایرانی صدر بیرونی طاقت کو خطے پر قبضہ نہیں‌ کرنے دیں‌ گے۔.

افغان اور ایرانی ہم منصب کے ساتھ اسلام آباد میں مشترکہ نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صدر زرداری نے کہا کہ خطے میں دوستانہ تعلقات قائم کرنا چاہتے ہیںِ۔ بیرونی مداخلت سے افغانستان میں موجود مسائل سےانکار نہیں کیا جا سکتا۔

اس موقع پر ایرانی صدر محمود احمد نژاد نے کہا کہ پاکستان کے ساتھ دوستی اور تجارت کا سلسلہ جاری رہے گا۔ خطے میں کوئی مسائل نہیں، بیرونی خطرات کا سامنا ہے۔ تمام مسائل مل کر حل کریں گے۔ اسلام آباد سے بہتر تعلقات چاہتےہیں۔ ہمیشہ کی طرح خطے میں امن کے خواہشمند ہیں۔ خطے کے مسائل ہمارے اپنے نہیں، مسلط کیے گئے ہیں۔ خطے میں طاقت کے توازن کو برقرار رکھنے کے خواہشمند ہیں۔ مسائل کو حل کرنے کی جانب بڑھ رہے ہیںِ۔ مذاکرات کے دور رس نتائج ثابت ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ بیرونی طاقتوں کو خطے پر قبضہ کرنے نہیں دیں گے۔ صدر زرداری کے مشکور ہیں۔ پاکستان اور افغانستان سے ثقافتی تعلقات ہیں۔ ہم ان چیلنجوں سے مشترکہ طور پر نمٹیں گے۔ سربراہ اجلاس سے خطے پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ ایک سوال کے جواب میں محمود احمدی نژاد نے کہا کہ مذاکرات پر صدر زرداری اور وزیر اعظم گیلانی کے مشکور ہیں۔ پاکستانی قوم ایرانی عوام کے دلوں میں رہتی ہے۔ ایرانی عوام پاکستانیوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔

افغان صدر حامد کرزئی کا کہنا تھا کہ مذاکرات کامیاب رہے۔ ایک دوسرے کے نقطہ نظر کو سمجھنے کا موقع ملا۔ مذاکرات میں مفید بات چیت ہوئی ہے۔ تینوں ممالک میں مذاکرات سازگار ماحول میں ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ کابل سے واشنگٹن کی نسبت اسلام آباد زیادہ قریب ہے۔ بعد ازاں تینوں ممالک کے صدور نے سہ ملکی کانفرنس کے مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے۔