بدھ 08 جمادى الأولى 1434هـ - 20 مارچ 2013م
آخری وقت اشاعت: ہفتہ 26 ربيع الأول 1433هـ - 18 فروری 2012م KSA 10:33 - GMT 07:33

ایرانی صدر کی اپنے پاکستانی ہم منصب کو تجویز

"بلوچستان میں امریکی قونصل خانہ نہ کھولنے دیا جائے"

ہفتہ 26 ربيع الأول 1433هـ - 18 فروری 2012م
اسلام آباد ۔ بکر عطیانی [بیورو چیف العربیہ]

ایرانی صدر محمود احمدی نژاد نے پاکستان کو تجویز دی ہے کہ وہ ایران سے ملحقہ شورش زدہ صوبہ بلوچستان میں امریکا کو قونصل خانہ قائم کرنے کی اجازت نہ دے۔

العربیہ ذرائع کے مطابق ایرانی صدر نے یہ تجویز اسلام آباد میں پاکستان، ایران اور افغانستان کے سہ سریقی اجلاس کے دوران صدر آصف علی زرداری کو دی۔ احمدی نژاد کا کہنا تھا کہ ایران سمجھتا ہے کہ کوئٹہ میں امریکی قونصلیٹ کے قیام سے تہران کی سلامتی کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ امریکی قونصل خانہ ایران میں مسلح کارروائیوں میں ملوث شدت پسند تنظیم جنداللہ اور دیگر شدت پسند گروپوں کی کارروائیوں میں معاون ثابت ہو سکتا ہے۔

ذرائع کا یہ بھی کہنا تھا کہ ایرانی صدر نے شورش زدہ صوبہ بلوچستان کے بارے میں اپنے پاکستانی ہم منصب کے ساتھ تفصیل سے تبادلہ خیال کیا۔ اس سے پہلے بھی پاکستانی سیکیورٹی ذرائع نے العربیہ کو بتایا تھا کہ پاکستان کی سیکیورٹی فورسز بھی بلوچستان میں امریکا کو قونصل خانہ کھولنے کی اجازت دینے کے خلاف ہیں۔

ادھر پاکستانی میڈیا رپورٹس کے مطابق سہ فریقی اجلاس میں دوطرفہ ملاقات کے دوران صدر آصف علی زرداری نے ایرانی صدر محمود احمدی نژاد کو یقین دلایا کہ امریکا کے ایران پرحملے کی صورت میں پاکستان اپنی سر زمین اور فضاء کے استعمال کی اجازت نہیں دے گا۔

جمعہ کے روز ختم ہونے والے سہ فریقی اجلاس کے اعلامیے میں تینوں پڑوسی ملکوں نے ایک دوسرے کی داخلی سلامتی، خود مختاری کو یقینی بنانے اور اپنی سرزمین ایک دوسرے کےخلاف استعمال نہ کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔۔