افغان صدر کی طالبان لیڈروں کے استاد مولانا سمیع الحق سے ملاقات

حامد کرزئی پاکستان میں طالبان سے روابط کے لیے کوشاں

نشر في:

افغانستان کے صدر حامد کرزئی نے اسلام آباد میں پاکستان کی سیاسی و دینی جماعتوں کے قائدین سے الگ الگ ملاقاتیں کی ہیں اور ان سے اپنے ملک میں قیام امن اور خاص طور پر طالبان کے ساتھ مذاکرات کا عمل آگے بڑھانے کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا ہے۔

افغان صدر سے ملاقات کرنے والوں میں بیشتر طالبان لیڈروں کے استاد اور پاکستان کی ایک دینی سیاسی جماعت جمعیت العلماء اسلام کے سربراہ مولانا سمیع الحق بھی شامل ہیں۔ حامد کرزئی نے مولانا سے طالبان مزاحمت کاروں کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے مدد کی درخواست کی ہے۔ مولانا سمیع الحق نے ان سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ''وہ اسی صورت میں طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے پر آمادہ کر سکتے ہیں، اگر وہ بھی اس کے خواہاں ہوں''۔

ان کے علاوہ افغان صدر سے مسلم ليگ قاف، عوامی نیشنل پارٹی (اے اين پی)، پختونخواہ ملی عوامی پارٹی اور پیپلز پارٹی شير پاٶ گروپ کے قائدين نے ملاقاتيں کی ہيں۔ افغان صدر نے ان سے گفتگو کرتے ہوئے خطے ميں قيام امن کے لیے پاکستانی کوششوں پر اطمينان کا اظہار کرتے ہوئے اس بات کا عزم ظاہر کيا کہ امن عمل کے حوالے سے کوئی ڈکٹيشن قبول نہيں کی جائے گی۔

حامد کرزئی کی ان ملاقاتوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ پاکستان کے اندر طالبان مزاحمت کاروں سے سلسلہ جنبانی شروع کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور اس ضمن میں وہ پاکستانی سیاسی اور مذہبی لیڈروں کی مدد کے خواہاں ہیں۔

افغان صدر نے جمعہ کو پاکستانی صدر آصف علی زرداری اور ایرانی صدر محمود احمدی نژاد سے ملاقات کی تھی اور ان سے افغانستان میں قیام امن کے لیے کوششوں پر تبادلہ خیال کیا تھا۔ پاکستانی قیادت نے انھیں یقین دلایا تھا کہ ان کا ملک افغانستان کی قیادت میں امن عمل کی حمایت کرنے کو تیار ہے۔

حامد کرزئی نے سہ فریقی بات چیت کے بعد نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ''ہمیں اس وقت امن عمل کو آگے بڑھانے کے لیے ایک ایسی پالیسی وضع کرنے کی ضرورت ہے جو قابل عمل اور قابل نفاذ ہو''۔

امریکی تصدیق


قبل ازیں جمعرات کو امریکی وائٹ ہاٶس نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ وہ افغانستان کی قیادت میں مصالحتی عمل میں شریک ہے۔

وائٹ ہاٶس کے ترجمان جے کارنے نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ''ہم افغانستان کی قیادت میں مصالحتی عمل کی حمایت کرر ہے ہیں''۔ ان کا کہنا تھا کہ بیشتر مزاحمتی سرگرمیوں کا خاتمہ تنازعات کے سیاسی حل کی صورت ہی میں برآمد ہوا تھا۔

ترجمان نے کہا کہ ہم افغانستان کی قیادت میں اس عمل کا حصہ ہیں۔ہم افغان حکومت کو کسی بھی قسم کی بات چیت میں اپنے ساتھ شریک رکھ رہے ہیں لیکن اس مرحلے پر مذاکرات میں شریک شخصیات کے ناموں کو ظاہر کرنا مصالحتی عمل کے لیے سود مند ثابت نہیں ہو گا۔

واضح رہے کہ امریکا افغانستان میں گذشتہ ایک عشرے سے جاری جنگ کے خاتمے کے لیے اپنی بعض شرائط کو ماننے والےکسی بھی گروپ کے ساتھ مذاکرات پر آمادگی ظاہر کر چکا ہے ۔ اس کا کہنا ہے کہ مذاکرات میں حصہ لینے والے طالبان یا دوسرے مزاحمتی گروپوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ ہتھیار ڈال دیں، القاعدہ سے اظہار لاتعلقی کریں اور افغان آئن سے اپنی وابستگی کا اظہار کریں۔