وزیر اعظم گیلانی: بلوچستان پر امریکی کانگریس میں قرارداد کی مذمت

''بھارت سميت ہمسايہ ممالک سے بہتر تعلقات کے خواہاں ہیں''

نشر في:

پاکستان کے وزیر اعظم سيد يوسف رضا گيلانی نے بلوچستان کی صورت حال کے حوالے سے امريکی کانگریس میں پیش کردہ قرارداد کی مذمت کی ہے اور اسے پاکستان کی خودمختاری کے خلاف قرار دیا ہے۔

وہ ہفتے کے روز کراچی میں ایک تقریب کے بعد صحافیوں سے گفتگو کر رہے تھے۔ انھوں نے کہا کہ القاعدہ کے لیڈر اسامہ بن لادن کے خلاف امریکی کمانڈوز کی چھاپہ مار کارروائی میں معاونت کرنے والے ڈاکٹر شکيل آفريدی سے پاکستانی قانون کے مطابق نمٹا جائے گا۔

وزیر اعظم نے جرمن شہر بون میں افغانستان کے مستقبل کے حوالے سے منعقدہ کانفرنس میں پاکستان کی عدم شرکت کا دفاع کیا اور کہا کہ اس میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ قومی مفاد میں کیا گیا تھا۔

يوسف رضا گيلانی کا کہنا تھا کہ پاک ايران گيس پائپ لائن منصوبہ ضرورمکمل کياجائے گا۔پاکستان بھارت سميت تمام ہمسايہ ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات چاہتا ہے۔ ايک سوال کے جواب ميں انھوں نے کہا کہ ملکی مفادات کے تحت افغانستان میں موجود نيٹو فوج کے لیے سپلائی کو بند اور شمسی ايئربيس کو خالی کرايا گيا تھا۔

درایں اثناء اسلام آباد میں امريکی سفارت خانے نے ایک بیان جاری کیا ہے جس میں کہا ہے کہ بلوچستان پاکستان کا اندرونی معاملہ ہے، امريکا پاکستان کی خود مختاری کا احترام کرتا ہے۔ بیان کے مطابق امریکی حکومت دنيا بھر ميں انسانی حقوق کی حمايت کرتی ہے اور کانگريس ميں کئی موضوعات زير بحث آتے رہتے ہيں لیکن سفارت خانہ بلوچستان سے متعلق قرارداد پر کوئی تبصرہ نہيں کر سکتا۔

امریکی حزب اختلاف ری پبلکن پارٹی کے رکن ڈانا روہرابچار نے اپنے ساتھی دو ارکان کی حمایت سے ایوان نمائندگان میں گذشتہ روز ایک قرارداد متعارف کرائی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ صوبہ بلوچستان کے عوام کو اپنی قسمت کا فیصلہ کرنے کے لیے انھیں حق خودارادیت دیا جائے۔ قرارداد میں کہا گیا ہے کہ صوبے میں بلوچ عوام کا خون بہایا جارہا ہے۔اس ضمن میں پاکستانی سکیورٹی فورسز پر الزام عاید کیا گیا ہے۔

پاکستان کی وزیرخارجہ حنا ربانی کھر نے اس قرارداد کو چند افراد کی کوشش قرار دیا ہے۔ان کے بہ قول اس کا مقصد دونوں ممالک کے عوام کے درمیان عدم اعتمادی کی فضا پیدا کرنا ہے۔ انھوں نے ہفتے کے روز ایک بیان میں کہا کہ اس متعصبانہ قرار داد کی ایوان نمائندگان میں منظوری نہیں دی جائے گی کیونکہ امریکی ارکان کانگریس کی اکثریت دونوں ممالک کے درمیان دوستانہ تعلقات کی حمایت کرتی ہے۔

واضح رہے کہ پاکستان ایک عرصے سے بعض ممالک پر بلوچستان میں محدود پیمانے پربرپا مسلح عوامی بغاوت کی دامے، درمے، سخنے حمایت کرنے کا الزام عاید کررہا ہے اور پاکستانی ارباب اقتدار کا یہ موقف رہا ہے کہ بلوچستان میں گڑبڑ کے لیے پڑوسی ممالک سے اسلحہ آ رہا ہے جبکہ بعض ممالک نے پاکستانی سکیورٹی فورسز کے خلاف بر سرپیکار بلوچ جنگجوٶں کے لیڈروں کو اپنے ہاں پناہ دے رکھی ہے۔

بعض پاکستانی سیاست دان اور ارباب صحافت امریکا پر کھلے بندوں ملک کے رقبے کے اعتبار سے سب سے بڑے صوبے میں گڑ بڑ پھیلانے کے الزامات عاید کرچکے ہیں،ان کا کہنا ہے کہ معدنی دولت سے مالا مال اس صوبے میں اس وقت کئی قوتیں اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل کے لیے حالات کو خراب کررہی ہیں اور امریکی کانگریس میں پیش کردہ قرارداد بھی اسی سلسلہ کی کڑی ہے.

مغربی میڈیا بھی صوبے میں شورش کے حوالے سے یک طرفہ تصویر پیش کررہا ہے اور مسلح بلوچ جنگجوٶں کے ہاتھوں آبادکار پنجابیوں یا ملک کے دوسرے حصوں سے تعلق رکھنے والے افراد کے آئے دن قتل اور سرکاری تنصیبات پر حملوں کے واقعات کو اجاگر نہیں کیا جارہا ہےاورنہ ان کو درست طور پر رپورٹ کیا جا رہا ہے۔

دوسری جانب پاکستان کی سکیورٹی فورسز پر صوبے میں مسلح سرگرمیوں میں ملوث سیکڑوں کی تعداد میں افراد کو لاپتا کرنے کے الزامات عاید کیے جارہے ہیں لیکن فوج نے ان الزامات کی تردید کی ہے.بعض سکیورٹی ذرائع کے مطابق لاپتا افراد کی تعداد کے حوالے سے مبالغہ آمیزی کی جارہی ہے۔ واضح رہے کہ پاکستان کی عدالت عظمیٰ میں لاپتا افراد کی بازیابی سے متعلق ایک کیس اس وقت زیرسماعت ہے جس کی وجہ سے طاقتور خفیہ اداروں کو عدالت کے روبرو سُبکی کا سامنا بھی کرنا پڑا ہے۔