فلسطینی قیدی کی بھوک ہڑتال کا چونسٹھواں روز

اسرائیلی اسپتال میں اسلامی جہاد کے لیڈر قریب المرگ

نشر في:

اسرائیلی فوج کے زیر حراست فلسطینی تنظیم اسلامی جہاد کے لیڈر خضر عدنان گذشتہ 64 روز سے بھوک ہڑتال پر ہیں جس کی وجہ سے ان کی حالت بگڑ گئی ہے اور وہ قریب المرگ ہیں۔

اسرائیلی سکیورٹی فورسز نے انھیں 17 دسمبر 2011ء کو مغربی کنارے کے شہر جنین میں ان کے گھر سے گرفتار کیا تھا اور وہ تب سے بھوک ہڑتال پر ہیں۔ ان پر صہیونی ریاست کی سکیورٹی کے لیے خطرہ بننے کا الزام عاید کیا گیا تھا۔انھوں نے کسی الزام کے بغیر قید رکھنے کے خلاف احتجاج کے طور پر کھانا پینا چھوڑ دیا تھا۔

خضر عدنان کے خاندان اور ان کے وکلاء کی ٹیم نے اسی ہفتے اس امید کا اظہار کیا تھا کہ انھیں چھوڑ دیا جائے گا۔ان کا کیس مغربی کنارے میں قائم عفر فوجی عدالت میں بھیجا گیا تھا لیکن اس عدالت نے ان کی اپیل مسترد کردی ہے اور انھیں مزید چار ماہ کے لیے انتظامی حراست میں رکھنے کا حکم دیا ہے۔ اب ان کی حراستی مدت 8 مئی کو ختم ہو گی۔

اس فوجی عدالت نے قراردیا ہے کہ خضر عدنان اپنی صحت کو پہنچنے والے نقصان کے خود ہی ذمے دار ہیں۔ دوسری جانب اسرائیلی سپریم کورٹ نے ان کی جانب سے دائر کردہ رٹ درخواست سماعت کے لیے منظور کر لی ہے۔تاہم اس کی سماعت کے لیے ابھی کوئی تاریخ مقرر نہیں کی۔

درایں اثناء اسرائیلی معالجین برائے انسانی حقوق کی شاخ نے خضرعدنان کی جسمانی حالت پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ قیدیوں اور انسانی حقوق کے لیے سرگرم ایک اسرائیلی تنظیم سے وابستہ ایک وکیل سحر فرانسیس نے اسلامی جہاد کے لیڈر سے صفاد میں واقع ضیف اسپتال میں ملاقات کے بعد بتایا ہے کہ وہ ذہنی طور پر مکمل طور پر ٹھیک ہیں لیکن جسمانی طور پر بہت کمزور ہو چکے ہیں۔

ضیف اسپتال کے ایک سنئیر میڈیکل افسر نے جمعرات کو بتایا تھا کہ خضر عدنان کی حالت بہتر ہے لیکن بھوک ہڑتال کی وجہ سے ان کے جسم کو پہنچنے والا نقصان مستقل ہو سکتا ہے اور اگر وہ آیندہ دنوں میں زندہ بچ گئے تو بھی فاقہ کشی کے ان پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔

واضح رہے کہ خضر عدنان نے اسرائیلی حکام کی چیرہ دستیوں اور سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں کے خلاف احتجاج کے طور پر فلسطینیوں کی تاریخ میں سب سے لمبی بھوک ہڑتال کی ہے اور ان کے اس عمل کی وجہ سے اسرائیل کو اس وقت فلسطینیوں کی بلاجواز گرفتاریوں اور زیر حراست رکھنے کی پالیسیوں پر تنقید کا سامنا ہے۔

اسرائیلی فوج نے ابھی تک اس امر کی وضاحت نہیں کہ اسلامی جہاد کے اس لیڈر کو کیوں گرفتار کیا گیا تھا۔البتہ صرف یہ کہا ہے کہ ان کے کیس کو قانون کے مطابق دیکھا جارہا ہے اور ان کی انسانی صورت حال کو خصوصی توجہ دی جارہی ہے۔ صہیونی فوج نے دسمبر میں ان کے علاوہ تین سو سات فلسطینیوں کو گرفتار کیا تھا اور وہ تب سے انتظامی حراست کی پالیسی کے تحت اسرائیلی جیلوں میں قید ہیں۔

خضر عدنان کی اہلیہ راندہ عدنان نے تین روز پہلے برطانوی اخبار انڈی پنیڈینٹ کے نمائندے سے گفتگو کرتے ہوئے تھا کہ ''میں اپنے خاوند کو جانتی ہوں۔ وہ اپنے ذہن کو تبدیل نہیں کریں گے۔میں ان کی موت کی توقع کرتی ہوں''۔

فلسطینی خبر رساں ایجنسی "معا" نے خضر عدنان کی جانب سے ان کے وکیل کو بھیجے گئے خط کی ایک کاپی حاصل کی ہے جس میں انھوں نے لکھا تھا کہ ''ہمارے عوام کے خلاف اسرائیلی قبضہ اپنی انتہاؤں کو چھو رہا ہے۔خاص طور پر قیدیوں سے ناروا سلوک کیا جا رہا ہے، میرے ساتھ بھی ناروا سلوک کیا گیا ہے ،مجھے تفتیش کاروں نے کسی جواز کے بغیر مارا پیٹا اور ہراساں کیا۔ اس لیے میں خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں اسرائیل کی انتظامی حراست کی پالیسی کے خلاف لڑوں گا''۔

انھوں نے گذشتہ ماہ بھیجے گئے اس خط میں مزید لکھا کہ ''میں اسپتال کے بستر پرہوں،جیل کے وارڈنز نے میرا محاصرہ کررکھا ہے ،مجھے ہتھکڑیاں لگی ہوئی ہیں اور میرے پاؤں بستر کے ساتھ بندھے ہوئے ہیں۔ میں صرف یہ کر سکتا ہوں کہ میں اپنی روح کو خدا کے سپرد کر دوں۔ میں اس بات میں یقین رکھتا ہوں کہ راست بازی اور انصاف بالآخر جبر واستبداد کے مقابلے میں فتح یاب ہوں گے''۔