دو ایرانی بحری جہاز شامی بندرگاہ پر لنگرانداز
ایرانی اہلکار شامیوں کو تربیت دے رہے ہیں:سرکاری میڈیا
ایرانی بحریہ کے دوجہاز تربیتی مشن پر شام پہنچے ہیں اور اس کی طرطوس بندرگاہ پرلنگرانداز ہوگئے ہیں۔
ایران کے سرکاری پریس ٹی وی نے سوموار کو ان دونوں جہازوں کے شامی بندرگاہ پر لنگرانداز ہونے کی اطلاع دی ہے۔وہ وہاں ہفتے کے روز پہنچے تھے اور ان پر تعینات اہلکار شامی بحریہ کو دوسال قبل دونوں ممالک کے درمیان طے پائے دفاعی معاہدے کے تحت تربیت دے رہے ہیں۔
ایران کی نیم سرکاری خبررساں ایجنسی فارس نے وزیردفاع احمد وحیدی کا ایک بیان نقل کیا ہے جس میں انھوں نے کہا کہ ''ہمارے جہاز نہرسوئز سے گذر کر آگے گئے ہیں اور بین الاقوامی پانیوں میں ایرانی بحریہ کی موجودگی ہمارا حق ہے''۔
شام کی بندرگاہ پر دو ایرانی بحری جہازوں کی موجودگی کی اطلاع ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایک طرف توایران کی مغرب کے ساتھ جوہری پروگرام کے تنازعے پرکشیدگی جاری ہے اور یہ قیاس آرائیاں کی جارہی ہیں کہ اسرائیل اس کی جوہری تنصیبات پر پیشگی فضائی حملہ کرسکتا ہے۔
دوسری جانب ایران پر شامی صدر بشارالاسد کی سکیورٹی فورسز کے حکومت مخالفین کے خلاف کریک ڈاؤن کی حمایت کے الزامات بھی عاید کیے جارہے ہیں اور یہ اطلاعات سامنے آچکی ہیں کہ ایرانی کمانڈوز شامی فورسز کی حزب اختلاف کو کچلنے کے لیے کریک ڈاؤن کارروائیوں میں بہ نفس نفیس معاونت و شرکت کررہے ہیں اور وہ اس وقت شام کے شورش زدہ شہروں میں موجود ہیں۔
ایرانی بحریہ کے کمانڈر حبیب اللہ سیاری نے دوروز پہلے سرکاری خبررساں ایجنسی ایرنا کو بتایا تھا کہ ان کے بحری جنگی جہاز مصر کی حدود میں نہرسویز کو عبور کرنے کے بعد بحر متوسطہ میں داخل ہوگئے ہیں اور یہ ایرانی جہاز 1979ء کے بعد دوسری مرتبہ نہر سویز میں داخل ہوئے تھے۔ان کے بہ قول اس سرگرمی کا مقصدعلاقائی ممالک کو ایران کی قوت دکھانا ہے۔
ایرانی میڈیا کی اطلاعات کے مطابق اس سے پہلے دوبحری جہاز شاہد کندی اور سامان رسد لے جانے والا خارج 4فروری کو بحرمتوسطہ پر واقع سعودی شہر جدہ کی بندرگاہ پر لنگرانداز ہوئے تھے۔حبیب اللہ سیاری کا کہنا تھا کہ بحرمتوسط میں ایرانی بحریہ کو تعینات کرنے کا مقصد علاقائی ممالک کو اسلامی جمہوریہ کی قوت دکھانے کے علاوہ انھیں امن اور دوستی کا پیغام دینا ہے۔
بحر متوسطہ میں ایران نے فروری 2011ء میں پہلی مرتبہ اپنے جنگی بحری جہازوں کو بھیجا تھا جس پر اسرائیل اور امریکا نے اپنے شدید ردعمل کا اظہار کیا تھا اور اسرائیل نے اپنی بحریہ کو ہائی الرٹ کردیا تھا۔بحرہند اور خلیج عدن میں مال بردار ایرانی جہازوں کو صومالی قزاقوں کی لوٹ مار سے بچانے کے لیے بین الاقوامی پانیوں میں گذشتہ ایک سال سے ایران کے متعدد جنگی بحری جہازوں گشت کر رہے ہیں۔