سابق تیونسی صدر پر بے بنیاد الزامات لگائے گئے:وکیل

زین العابدین کے خلاف فیصلے پراپیل دائر کرنے کا اعلان

نشر في:


تیونس کے سابق صدر زین العابدین بن علی کے لبنانی وکیل اکرم ازوری نے کہا ہے کہ ان کے موکل کے خلاف عاید کردہ الزامات بے بنیاد ہیں اور ان کے خلاف تیونسی عدالت کے فیصلے پر اپیل دائر کی جائے گی۔

اکرم ازوری نے العربیہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ''بن علی اور ان کی اہلیہ کے خلاف عاید کردہ الزامات کی بنیاد پر فیصلے کو اگر چیلنج کیا جائے تو یہ الزامات بآسانی ختم ہوسکتے ہیں''۔ان کا موقف ہے کہ سابق تیونسی صدر کے خلاف ان کی عدم موجودگی میں مقدمہ چلایا گیا ہے۔ان کا ٹرائل منصفانہ نہیں تھا اور اس کے دوران متعدد خلاف ورزیاں کی گئی تھیں۔

لبنانی وکیل نے کہا کہ ''بن علی اور ان کی اہلیہ کے خلاف ٹرائل کے آغاز کے صرف دوگھنٹے کے اندر ہی انھیں پینتیس سال قید کی سزا سنادی گئی تھی اور ان کے وکلاء کی ٹیم کو دفاع میں دلائل دینے کی اجازت ہی نہیں دی گئی تھی''۔

اکرم ازوری سابق تیونسی صدر کے وکلائے صفائی کی ٹیم کے سربراہ ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ''عدلیہ کی تاریخ کا یہ ایک منفرد واقعہ ہے کہ مدعاعلیہان کے وکلاء کو صفائی کا موقع ہی نہیں دیا گیا۔اسی لیے میں نے اس ضمن میں جنیوا میں اقوام متحدہ کے کمیشن برائے انسانی حقوق کو ایک درخواست بھیجی ہے جس میں تیونس کے عدالتی طریق کار کو چیلنج کیا گیا ہے لیکن ابھی تک وہاں سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔

لبنانی وکیل نے بن علی کی تیونس میں واقع رہائش گاہ پر جس طرح انقلابیوں اور سکیورٹی حکام نے دھاوا بولا تھا اور ان کی جائیداد کو جس انداز میں ضبط کیا تھا،اس پر بھی اعتراض کیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ''انھوں نے سابق صدر کی نجی زندگی کو پامال کیا تھا اور غیرقانونی طور پر ان کی املاک کو ضبط کر لیا تھا''۔

ان کا موقف تھا کہ اگر سابق صدر کا منصفانہ انداز میں ٹرائل کیا جاتا تو ان کا احتساب نہیں کیا جاسکتا تھا لیکن ان پر جو الزامات عاید کیے گئے یا کیے جارہے ہیں،وہ ان کی براہ راست توہین ہیں اور ان پر ایسے جرائم کے الزامات لگائے گئے ہیں جن کا انھوں نے ارتکاب ہی نہیں کیا تھا۔ان کے ٹرائل کا واحد مقصد صرف یہ ثابت کرنا تھا موجودہ ارباب اقتدار کتنے صاف اور شفاف ہیں۔

ان کے بہ قول زین العابدین بن علی کے خلاف عاید کردہ الزامات کی کوئی اعتباریت نہیں ہے اور ان کا اس حقیقت سے بھی اظہار ہوتا ہے کہ انقلابیوں نے ان کے دفتر سے جس رقم کو برآمد کرنے کا دعویٰ کیا تھا،وہ تمام رقم کبھی ان کے پاس نہیں رہی تھی۔اکرم ازوری کی دلیل یہ تھی اگر اتنی زیادہ رقم بن علی کے پاس تھی تو وہ اس کو اپنے ساتھ سعودی عرب کیوں نہیں لے کر گئے تھے۔اسی طرح سوئٹزر لینڈ اور یورپی ممالک کے بنکوں میں پڑی ان کی رقوم سے متعلق دعوے غلط ثابت ہو چکے ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ بن علی کی اہلیہ لیلیٰ طرابلسی پر تیونس کے مرکزی بنک سے سونے کی بڑی مقدار چرانے کا الزام عاید کیا گیا تھا جبکہ بنک کے ریکارڈ سے یہ بات ثابت ہوگئی تھی کہ اس کی کوئی چیز بھی غائب نہیں ہوئی تھی اور اسی وجہ سے پراسیکیوٹر جنرل نے وکلائے صفائی کے اس سلسلہ میں دلائل پیش کرنے سے قبل ہی اس الزام کو واپس لے لیا تھا۔

انھوں نے مزید بتایا کہ ان کا ای میل اور موبائل فون کے ذریعے سعودی عرب میں مقیم سابق صدر سے رابطہ رہتا ہے اور کچھ عرصہ قبل انھوں نے جدہ میں ان سے ملاقات کی تھی جہاں ان کی صحت بہتر تھی۔ان کے بہ قول سابق تیونسی صدر العربیہ ٹی وی کی دستاویزی فلم ''قرطاج سے فرار'' دیکھنے کے بعد ڈسٹرب تھے اور ان کا کہنا تھا کہ فلم میں ان کے فرار کی درست طور پر عکاسی نہیں کی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ تیونس کی انٹیلی جنس نے انھیں دھوکا دیا تھا۔لبنانی وکیل نے یہ بھی تسلیم کیا کہ انقلابیوں یا بن علی کے وقت کی حزب اختلاف نے کبھی کسی بھی طریقے سے ان کو ہراساں کرنے کی کوشش نہیں کی۔ان کے بہ قول تیونسی مہذب شہری اور پُرامن لوگ ہیں۔

چوہترسالہ زین العابدین بن علی گذشتہ سال جنوری میں اپنے خلاف مظاہروں کے بعد سعودی عرب فرار ہوگئے تھے۔اس کے کچھ عرصہ کے بعد تیونس کی عبوری حکومت نے بن علی اور ان کی اہلیہ لیلیٰ الطرابلسی کے خلاف بین الاقوامی وارنٹ گرفتاری جاری کیے تھے مگر ان پر ایک سال گزر جانے کے باوجود عمل درآمد کی نوبت نہیں آئی۔سابق صدر اور ان کی اہلیہ ابھی تک تیونسی حکومت کو ناجائز ذرائع سے اثاثے بنانے اور رقوم کو غیر قانونی طورپر بیرون ملک منتقل کرنے کے الزامات میں مطلوب ہیں۔

تیونس کی ایک عدالت نے گذشتہ سال مئی میں سابق صدر بن علی کو ان کی عدم موجودگی میں اپنے دور اقتدار میں منشیات اور ناجائز اسلحہ رکھنے کے مقدمے میں پندرہ سال قید کی سزا سنائی تھی۔ان کے دورصدارت کے آخری دنوں میں صدارتی محل میں ان کے قبضے سے تارِیخی نوادرات برآمد ہوئے تھے۔عدالت نے انھیں ان دونوں مقدمات میں ساڑھے پندرہ سال قید اور اٹھہتر ہزار پانچ سو ڈالرز جرمانے کی سزا سنائی تھی۔

سابق صدر اور ان کی اہلیہ لیلیٰ طرابلسی کو غیر قانونی طور پر رقوم اور زیورات رکھنے کے جرم میں ایک اور مقدمے میں پینتیس سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ بن علی کے خلاف ایک فوجی عدالت میں ریاست کے خلاف سازش اور مظاہرین کے قتل عام کے الزامات میں الگ سے مقدمہ چلایا گیا تھا۔ جنوری 2011ء کے دوسرے ہفتے میں عوامی انقلاب کے نتیجے میں حکومت کے خاتمے کے بعد سابق صدر اور ان کی اہلیہ کے خاندان کے تیس سے زیادہ ارکان کو مالیاتی جرائم اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔

بن علی اور ان کے خاندان کے بارے میں یہ کہا جاتا رہا ہے کہ انھوں نے دوعشرے سے زیادہ عرصے پر محیط حکومت کے دوران اپنے اثاثوں میں گراں بہا اضافہ کیا تھا۔ انھوں نے ہوٹلوں ، بنکوں ،تعمیرات ،اخبارات، ادویہ سازی اور بہت سے دیگر شعبوں اور اداروں کے حصص خرید کرلیے تھے لیکن سابق صدر کے وکلاء نے ان کے خلاف عاید کردہ الزامات کی صحت سے انکار کردیا تھا۔