عراق: مفرور نائب صدر کے ملازمین خفیہ جیلوں میں مقید

گرفتار محافظوں پر تشدد کیا جا رہا ہے: طارق الہاشمی

نشر في:

عراق کے مفرور نائب صدر طارق الہاشمی نے کہا ہے کہ ان کے محافظوں اور دوسرے ملازمین کو خفیہ جیلوں میں قید کر دیا گیا ہے اور انھیں وہاں تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

طارق الہاشمی نے سوموار کو مختلف عراقی ٹی وی چینلز سے نشر ہونے والے بیان میں کہا کہ ''ان کے دفتر سے گرفتار کیے گئے ملازمین اور محافظوں کو خفیہ جیلوں میں منتقل کر دیا گیا ہے اور ان سے تشدد کے ذریعے اعترافی بیانات حاصل کیے جارہے ہیں حالانکہ وزارت انصاف کو ایسا کوئی اختیار نہیں ہے''۔

انھوں نے کہا کہ ''ان کے پاس ایسی تصاویر اور شواہد موجود ہیں جن سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ ان کے محافظوں کو جسمانی اور نفسیاتی تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے''۔واضح رہے کہ ماضی میں طارق الہاشمی کے محافظوں کے اعترافی بیانات ٹیلی ویژن پر براہ راست نشر کیے گئے ہیں۔

عراقی نائب صدر کا اپنے ہم وطنوں سے کہنا تھا کہ ''وہ اعلٰی عدالتی کونسل کے ترجمان کی جانب سے عاید کردہ الزامات پر کوئی یقین نہ کریں''۔انھوں نے اعلیٰ عدالتی کونسل پر الزام عاید کیا کہ وہ ایک ایسے کیس کی بنیاد پر رائے عامہ پر اثر انداز ہونے کی کوشش کر رہی ہے جس کی خفیہ طور پر تحقیقات کی جانی چاہیے۔ انھوں نے کہا کہ وہ اپنے خلاف عاید کردہ الزامات کا سامنا کرنے کے لیے ایک منصفانہ عدالتی نظام کے روبرو پیش ہونے کو تیار ہیں جس کی وجہ سے سچ کی جانب پیش رفت ہو سکے۔

عدالتی کونسل کے ترجمان عبدالستار بیرک دار کہ بہ قول طارق الہاشمی کے محافظوں کے اعترافی بیانات سے ایک سو پچاس سے زیادہ کیسوں کی نشاندہی ہوئی ہے۔انھوں نے کردستان کے حکام سے ایک مرتبہ پھر مطالبہ کیا ہے کہ وہ نائب صدر کو ان کے حوالے کردیں۔

واضح رہے کہ عراقی سکیورٹی فورسز نے نائب صدر طارق الہاشمی کے سولہ محافظوں کو سرکاری حکام اور ججوں کے قتل کے الزام میں گرفتار کر رکھا ہے۔ ان پر خاموش بندوقوں اور پستولوں کے ذریعے افسروں اور ججوں کو قتل کرنے کے الزامات لگائے گئے ہیں۔

عراق کے شیعہ وزیر اعظم نوری المالکی کی حکومت نے دسمبر میں سنی نائب صدر طارق الہاشمی کے خلاف ڈیتھ اسکواڈ چلانے کے الزام میں وارنٹ گرفتاری جاری کیے تھے اور ان پر بغداد میں پارلیمان کے باہر بم دھماکا کرانے کا الزام بھی عاید کیا گیا تھا۔ وہ بغداد سے فرار ہو کر شمالی عراق چلے گئے تھے اور اس وقت خود مختار علاقے کردستان میں ایک سرکاری مہمان خانے میں مقیم ہیں۔

طارق الہاشمی نے اپنے خلاف عاید کردہ الزامات کو فرقہ واریت پر مبنی قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ یہ الزامات انھیں سیاسی طور پر ختم کرنے کے لیے عاید کیے جارہے ہیں۔ وزیر اعظم المالکی اور ان کے حکومت کے دوسرے عہدے دار متعدد مرتبہ کرد حکام سے طارق الہاشمی کو حوالے کرنے کا مطالبہ کر چکے ہیں لیکن کرد حکام انھیں بغداد حکومت کے حوالے کرنے سے انکار کرتے چلے آ رہے ہیں۔