قطیف کے شیخ کا "سیاسی خطبہ جمعہ"، سعودی حکومت سخت برہمی

"حسن الصفار" شدت پسندی کو فروغ دے رہے ہیں

نشر في:

سعودی عرب کی وزارت داخلہ نے قطیف شہر کے ایک مذہبی پیشوا کے خطبہ جمعہ پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے اسے "سیاست بازی" قرار دیا ہے۔ "قطیف کے شیخ غلط فہمیاں پیدا کر کے شدت پسندی اور دہشت گردی کو فروغ دے رہے ہیں۔"

سعودی وزارت داخلہ کی جانب سے جاری بیان میں قطیف کے مذہبی پیشوا کا نام نہیں لیا گیا تاہم حکومت کا اشارہ شیخ حسن الصفار کی جانب ہے جنہوں نے گذشتہ ہفتے اپنی جمعہ کی تقریر میں حکومتی ضوابط سے ہٹ کر شام میں جاری عوامی تحریک پر بات کی تھی اور اشارہ دیا تھا کہ شام جیسی عوامی تحریک سعودی عرب میں شروع کی جا سکتی ہے۔

ان کی اس تقریر کے بعد قطیف میں سیکیورٹی فورسز اور کچھ نوجوانوں کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئی تاہم سیکیورٹی فورسز نے حالات کو بے قابو نہیں ہونے دیا۔

سعودی وزارت داخلہ کی جانب سے جاری بیان میں چند ماہ پیشتر اور حال ہی میں قطیف میں پیش آنے والے دہشت گردی کے بعض واقعات کی جانب بھی اشارہ کیا گیا۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ قطیف کے کچھ سر پھرے نوجوانوں نے سیکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کے ساتھ دنگا فساد کی کوشش کی تھی۔

بیان کے مطابق قانون نافذ کرنے والوں کے خلاف یہ محاذ آرائی "نئی دہشت گردی" ہے۔ ان مٹھی بھر عناصر کو سیکیورٹی فورسز پر حملوں کے لیے استعمال کیا گیا۔ سعودی حکومت نے قطیف میں رو نما ہونے والے پر تشدد واقعات میں بیرونی ہاتھ کو ملوث قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت ایسے عناصر سے آہنی ہاتھوں سے نمٹے گی۔

گروہی امتیاز کی تردید

سعودی وزارت داخلہ کے ایک سرکردہ عہدیدار نے سرکاری خبر رساں ادارے "واس" سے گفتکو کرتے ہوئے قطیف کے عالم دین کے خطبہ پر شدید تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ محولہ بالا تقریر "سیاست بازی" تھی، جس کے بعد کچھ شدت پسند عناصر نے سیکیورٹی اہلکاروں پر حملے کیے ہیں۔

سرکاری اہلکار نے بتایا کہ شیعہ عالم دین کے خطبہ میں کئی غلط فہمیاں موجود ہیں اور انہوں نے اپنی تقریر میں کئی خطرناک منصوبوں کی طرف بھی اشارہ کیا ہے۔ تاہم شیعہ عالم دین کے خطبہ کے نتیجے میں سیکیورٹی اہلکاروں کے ساتھ شدت پسندوں کی جھڑپیں جگہ قابل مذمت ہیں۔ ریاست ایسے عناصر کی سرکوبی کے لیے تمام آئینی اور قانونی طریقے استعمال کرے گی۔ کسی کو ریاست کے اندر ریاست بنانے اور نئی دہشت گردی کے فروغ کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

ایک سوال کے جواب میں وزارت داخلہ کے عہدیدار نے اس امر کی سختی سے تردید کی کہ ملک میں کسی قسم کی گروہی یا مسلکی عصبیت پائی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت تمام مذہبی اور سماجی طبقات کے ساتھ یکساں سلوک کرتی ہے اور کسی گروہ کے ساتھ غیر منصفانہ امتیازی سلوک نہیں کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ کچھ عناصر بیرونی اشاروں پر سعودی عرب کا امن تباہ کرنے کی سازش کر رہے ہیں۔ جس طرح پڑوسی ملکوں میں خون کی ہولی کھیلی جا رہی ہے، اسی طرح کے حالات سعودی عرب میں پید اکرنے کی سازش کی گئی ہے تاہم وہ ملک میں کسی قسم کی بدامنی اور دہشت گردی کے کھیل کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔

وزارت داخلہ نے قطیف کے شہریوں سے اپیل کی ہے وہ تخریب کار اور امن دشمن عناصر پر گہری نظر رکھیں اور ان کی ملک دشمن سازشوں کا شکار نہ ہوں۔ بعض بیرونی ہاتھ قطیف کے شہریوں کو شدت پسندی پر اکسا رہے ہیں لیکن عوام ملک دشمن ان غیر ملکی سازشی ہاتھوں کو کاٹ کر رکھ دیں۔