یمن:علی صالح کے جانشین صدر کے انتخاب کے لیے پولنگ

جنوبی شہر عدن میں نصف پولنگ مراکز بند

نشر في:

یمن میں ریفرینڈم نما صدارتی انتخاب کے لیے ووٹ ڈالے گئے ہیں۔ان کے نتائج سامنے آتے ہی اعزازی صدر علی عبداللہ صالح کے تینتیس سالہ اقتدار کا خاتمہ ہو جائے گا۔

ریفرینڈم کی طرز پر ہونے والے صدارتی انتخابات میں یمن کے نائب صدر عبد ربہ منصور ہادی واحد امیدوار ہیں۔ان انتخابات کا حزب اختلاف کے دو بڑے گروپوں۔۔۔۔۔۔ جنوبی یمن کی علاحدگی پسند تحریک اور شمالی یمن سے تعلق رکھنے والے حوثی شیعہ باغیوں۔۔۔۔۔۔ نے بائیکاٹ کیا ہے۔

صدارتی انتخاب کے لیے منگل کی صبح آٹھ بجے پولنگ شروع ہوئی جو شام تک جاری رہی۔ ایک کروڑ بیس لاکھ یمنی ووٹ دینے کے اہل تھے۔صدارتی انتخابات کے ابتدائی نتائج آیندہ دوروز میں متوقع ہیں۔تاہم مکمل نتائج کا اعلان دس روز تک کیا جائے گا۔انتخابی نتائج سے یہ بات بھی واضح ہو جائے گی کہ چھیاسٹھ سالہ منصور ہادی کو ملک میں عبوری مدت کی حکمرانی کے لیے کتنے فی صد یمنی عوام کی حمایت حاصل ہے۔

گذشتہ تینتیس سال سے برسراقتدار ،صدر علی عبداللہ صالح کے خلاف گذشتہ سال جنوری میں عوامی مزاحمتی تحریک برپا کرنے والے بڑے گروپوں نے یمنی عوام پر زوردیا تھا کہ وہ عبد ربہ منصور ہادی کی حمایت کریں اور ان کے حق میں ووٹ ڈالیں۔علی صالح نے بھی گذشتہ روز ایک بیان میں یمنیوں سے بھرپور انداز میں انتخابات میں حصہ لینے کی اپیل کی تھی۔

دوسری جانب جنوبی یمن کی علاحدگی پسند تحریک میں شامل سخت گیر دھڑوں نے صدارتی انتخابات کے بائیکاٹ کی اپیل کر رکھی تھی۔ انھوں نے منگل کو ''یوم سول نافرمانی'' کے طور پر منایا ہے اور وہ ووٹروں کو پولنگ مراکز کی جانب جانے سے روکتے رہے ہیں۔

حکومت نے کسی قسم کی گڑ بڑ سے بچنے کے لیے ملک بھر میں سخت حفاظتی انتظامات کیے تھے اور پولنگ اسٹیشنوں پر پہرے کے لیے ایک لاکھ تین ہزار فوجی تعینات کیے گئے تھے لیکن اس کے باوجود جنوبی یمن کے بڑے شہر عدن میں نصف پولنگ بوتھوں پر علاحدگی پسند تحریک سے تعلق رکھنے والے مسلح جنگجوٶں نے قبضہ کرلیا تھا۔

صدارتی انتخاب کے لیے پولنگ کے موقع پر جنوبی یمن میں سکیورٹی فورسز اور علاحدگی پسندوں کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئی ہیں جن میں ایک بچے سمیت چار افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

عبد ربہ منصور ہادی خود بھی جنوبی یمن سے تعلق رکھتے ہیں۔ انھوں نے گذشتہ اتوار کو ایک نشری تقریر میں ملک میں اصلاحات کا وعدہ کیا تھا اور علاحدگی پسندوں اور شمالی یمن سے تعلق رکھنے والے شیعہ باغیوں سے کہا تھا کہ وہ ان کے مطالبات کو پورا کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ صرف مذاکرات سے ہی طویل عرصے سے تصفیہ طلب مسائل کا کوئی حل تلاش کیا جاسکتا ہے۔

واضح رہے کہ علی عبداللہ صالح نے نومبر میں خلیج تعاون کونسل کی جانب سے انتقال اقتدار کے لیے پیش کردہ فارمولے پر دستخط کیے تھے اور اختیارات اپنے نائب صدرعبد ربہ منصور ہادی کو سونپ دیے تھے۔جی سی سی کی ثالثی میں طے شدہ معاہدے پر عمل درآمد کے بعد علی صالح نوے روز تک ملک کے اعزازی صدر رہے ہیں اور ان کی یہ مدت صدارتی انتخابات کے انعقاد کے ساتھ ختم ہو جائے گی اور ان میں قائم مقام صدرعبد ربہ منصور ہادی کو دوسال کی عبوری مدت کے لیے صدر منتخب کرلیا جائے گا۔اس کے بعد صدارتی اورپارلیمانی انتخابات منعقد کرائے جائیں گے۔