مصری پولیس افسروں کا دوران ملازمت داڑھی رکھنے کی اجازت کا مطالبہ
وزیر داخلہ کے انکار پر اسلام پسند ارکان پارلیمنٹ سے تصادم کا امکان
مصری پولیس کے اہلکاروں اور افسروں نے دوران ملازمت داڑھی رکھنے کی اجازت حاصل کرنے کی خاطر فیس بک پر "میں باریش افسر ہوں" کے عنوان سے ایک مہم کا آغاز کیا ہے۔ سماجی ویب سائٹ پر شروع کی جانے والی یہ منظم مہم وزارت داخلہ کے لئے ان دنوں سوہان روح بنی ہوئی ہے۔
"میں باریش افسر ہوں" مہم کے ترجمان کیپٹن ھانی الشاکری نے فیس بک کے پیج پر داڑھی والی ڈسپلے پکچر لگا رکھی ہے۔ ان کا کہنا تھا: "میں جانتا ہوں ہمارے چاہنے والے مصری پولیس افسروں کو سنت رسول سے مزین چہرے کے ساتھ دیکھنا چاہتے ہیں۔"
کیپٹن شاکری نے بتایا کہ وہ داڑھی سے متعلق سنت کی ترویج دیکھنا چاہتے ہیں۔ بہ قول ھانی الشاکری استبدادی حکومت کے دنوں میں ختم ہوتی ہوئی اس کی آدمیت بحال ہو رہی ہے۔ "میں اپنے اس موقف سے پیچھے نہیں ہٹوں گا کیونکہ یہ نبی کی سنت ہے۔"
داڑھی کی حمایت میں صرف پولیس کا محکمہ ہی سرگرم نہیں بلکہ سماجی رابطے کی ویب
سائٹ فیس بک پر جنرل پرسیکیوشن اور مصری عدلیہ کے افسران بھی اپنے نگرانوں سے داڑھی رکھنے کی اجازت طلب کرتے نظر آتے ہیں۔
ایسا لگتا ہے کہ وزیر داخلہ جنرل محمد ابراہیم اور ان کے نائب کے درمیان داڑھی رکھنے کے مسئلے پر ہونے والی میٹنگ بھی بے نتیجہ رہی ہے کیونکہ ملاقات کے بعد سامنے آنے والے حکومتی موقف میں کہا گیا ہے کہ حکومت پولیس سروس میں کسی اہلکار کو داڑھی رکھنے کی اجازت نہیں دے سکتی۔ "داڑھی کا کلچر وزارت داخلہ کی قدیم روایات کی خلاف ورزی ہے۔"
وزیر داخلہ کے دفتر میں بعض اہلکاروں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر داڑھی رکھنے والے پولیس اہلکاروں کے خلاف تادیبی کارروائی کی گئی تو پارلیمنٹ میں موجود اسلامی جماعت کے نمائندے وزیر داخلہ کے خلاف پھٹ پڑیں گے، جس کے بعد وزیر اور منتخب نمائندوں کے درمیان تصادم کی حالت پیدا ہو سکتی ہے۔
ادھر جامعہ الازہر سے وابستہ سرکردہ علماء کا کہنا کہ داڑھی کی سنت کے بارے میں جمہور علماء کے طے شدہ موقف کے بعد پولیس اہلکاروں کے ساتھ محاذ آرائی کرنا وقت کا ضیاع ہے۔ فقھاء کے ایک مکتبہ فکر کے مطابق داڑھی نہ رکھنے پر کوئی سزا نہیں تاہم دوسرے مکتبہ فکر کے نزدیک یہ عمل واجب ہے۔