بحرین میں مسلح مظاہرین کے پاس ایرانی ساختہ اسلحے کا انکشاف

سیکیورٹی اہلکاروں پر حملوں کے الزام میں چھے افراد گرفتار

نشر في:

خلیجی ریاست بحرین کی وزارت داخلہ نے منامہ میں ایک پولیس افسر کے گھر پر پٹرول ہم حملے کے الزام میں چھے افراد کو حراست میں لیا ہے۔

بحرین میں "العربیہ" ٹی وی کے نامہ نگار محمد العرب کے مطابق پولیس افسر کے مکان پر حملہ اپوزیشن سے تعلق رکھنے والے مظاہرین نے کیا۔ یہ پولیس اہلکار ملک میں دنگا فساد کی روک تھام اور انسداد دہشت گردی کے محکمے میں کام کرتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق منامہ میں مسلح مظاہرین نے پولیس افسر کے گھر پر دھاوا بول کر اسے آگ لگا دی جس کے نتیجے میں مذکورہ پولیس افسر اوراس کے بچے بھی جل کر زخمی ہوئے ہیں۔

ادھر سماجی رابطے کی ویڈیو سائٹ"یو ٹیوب" پر نشر ایک ویڈیو فوٹیج میں "الدیر" کے مقام پر مظاہرین کو دوران احتجاج ایرانی اسلحہ لہراتے دکھایا گیا ہے۔

اسی سلسلے میں "العربیہ" کے نامہ نگار نے بتایا کہ یہ ویڈیو خود مظاہرین نے تیار کی ہے، جس میں وہ اپنے پاس موجود اسلحہ دکھانا چاہتے ہیں۔ مظاہرین کے ہاتھوں میں موجود بندوقوں اور کلاشنکوفوں میں ایرانی ساختہ بھی ہیں۔ ان میں ایک آٹھ ایم ایم بندوق جس پر"ایران" لکھا واضح نظر آ رہا ہے بیشتر مظاہرین نے ہاتھوں میں اٹھا رکھی ہے۔

ایران کے عسکری امور کے ماہر برگیڈیئر جنرل حسام سویلم نے "العربیہ" سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ویڈیو میں مظاہرین کے ہاتھوں میں اٹھائی بندوقیں اور کلاشنکوفیں ایرانی شہر "آراک" میں تیار کی جاتی ہیں۔ یہ اسلحہ فلسطینی تنظیم حماس اور لبنانی حزب اللہ کے پاس بڑی مقدار میں موجود ہے۔ ان بندوقوں کا بیشتر استعمال ٹارگٹ کلنگ کے لیے کیا جاتا ہے۔

پولیس افسر کے مکان پر مسلح مظاہرین کے حملے کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں "العربیہ" کے نامہ نگار محمد العرب نے بتایا: "بحرین میں گذشتہ ایک سال کے دوران پولیس اہلکاروں کے گھروں پر حملوں کے کئی واقعات رونما ہوئے ہیں۔ اس طرح کے واقعات میں ملک میں حق، احرار، خلاص اور وفاق جیسی بنیاد پرست تنظیمیں ملوث رہی ہیں۔ بعض شہروں میں سیکیورٹی اہلکاروں کے گھروں پر حملے اب ایک حساس مسئلہ بن چکے ہیں۔