بدھ 08 جمادى الأولى 1434هـ - 20 مارچ 2013م
آخری وقت اشاعت: ہفتہ 17 ربيع الثاني 1433هـ - 10 مارچ 2012م KSA 09:22 - GMT 06:22

ایک گاڑی اور مکان کو نشانہ بنایا گیا

جنوبی وزیرستان: امریکی ڈرون کا میزائل حملہ، 13 افراد جاں بحق

ہفتہ 17 ربيع الثاني 1433هـ - 10 مارچ 2012م
اسلام آباد ۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ، ایجنسیاں

پاکستان کے وفاق کے زیرانتظام شمال مغربی قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں امریکا کے مرکزی خفیہ ادارے(سی آئی اے) کے بغیر پائیلٹ جاسوس طیارے کے میزائل حملے میں تیرہ افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

پاکستانی حکام کے مطابق افغان سرحد کے قریب واقع جنوبی وزیرستان کی تحصیل لدھا کے علاقے منڈاٶ میں امریکی ڈرون نے ایک مکان اور ایک گاڑی کو میزائلوں سے نشانہ بنایا ہے اور ان پر چار میزائل داغے ہیں۔

پاکستان کے شمال مغربی قبائلی علاقوں میں کالعدم تحریک طالبان اور القاعدہ کے مبینہ ٹھکانوں پر اس سال امریکی ڈرونز کا یہ آٹھواں حملہ ہے۔ فوری طور پر اس میزائل حملے میں مرنے والوں کی شناخت نہیں بتائی گئی۔مقامی لوگوں کے مطابق حملے کے بعد بھی امریکی ڈرون کو فضا میں پروازیں کرتے دیکھا گیا۔ واضح رہے کہ ڈرون حملوں کے بعد طالبان جنگجو تباہ شدہ جگہ کا محاصرہ کرلیتے ہیں جس کی وجہ سے فوری طور پر ہلاکتوں کے بارے میں پتا نہیں چلتا۔

درایں اثناء جمعہ کو جنوبی وزیرستان سے ملحقہ قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں طالبان جنگجوٶں نے پاکستانی سکیورٹی فورسز کی ایک گاڑی پر حملہ کیا جس کے نتیجے میں سات فوجی شہید ہو گئے ہیں۔ ایک انٹیلی جنس عہدے دار نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ سکیورٹی فورسز کی جوابی فائرنگ میں آٹھ جنگجو مارے گئے ہیں۔

دوسری جانب القاعدہ نے گذشتہ ماہ شمالی وزیرستان میں امریکی ڈرون حملے میں اپنے ایک کمانڈر بدرمنصور کی ہلاکت کی تصدیق کردی ہے۔جہادی ویب سائٹس کے مواد کی نگرانی کرنے والی امریکا میں قائم سائٹ مانیٹرنگ سروس کی اطلاع کے مطابق پاکستان میں القاعدہ کے میڈیا ترجمان احمد فاروق کے انٹرنیٹ پر پوسٹ کیے گئے ایک ویڈیو بیان سے بدر منصور کی ہلاکت کی تصدیق ہوئی ہے۔

مقامی طالبان جنگجوٶں نے اس سے پہلے یہ کہا تھا کہ بدر منصور 9 فروری کو امریکی ڈرون کے ایک میزائل حملے میں مارے گئے تھے لیکن امریکی یا پاکستانی حکام نے ان کی موت کی تصدیق نہیں کی تھی۔نو منٹ کی مذکورہ ویڈیو میں زندہ اور مردہ بدر منصور کی تصاویر شامل ہیں.

ویڈیو میں القاعدہ کے میڈیا ترجمان نے پاکستانی حکومت پر امریکی میزائل حملوں کے لیے تعاون کرنے کا الزام عاید کیا ہے اور کہا ہے کہ ڈرون پروگرام پاکستانی حکومت کی مکمل رضامندی سے جاری ہے۔بدر منصور پاکستان کے سب سے بڑے صوبہ پنجاب سے تعلق رکھتے تھے اور وہ 2008ء سے شمالی وزیرستان میں مقیم تھے۔ان پر ملک کے مختلف علاقوں میں خودکش حملے کرانے کا الزام تھا۔

امریکی سی آئی اے نے حالیہ برسوں کے دوران پاکستان کے قبائلی علاقوں میں دوسو سے زیادہ ڈرون حملے کیے ہیں۔ ان میں زیادہ تر حملے شمالی اور جنوبی وزیرستان پر کیے گئے ہیں امریکی حکام کا کہنا ہے کہ میزائل حملوں میں جنگجو یا ان کے حامی مارے جارہے ہیں جبکہ انسانی حقوق کی تنظیمیں امریکیوں کے اس دعوے کے حوالے سے سوالات اٹھا رہی ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ امریکی ڈرون حملوں میں زیادہ تر عام شہری مارے جارہے ہیں۔

لیکن پاکستانی اور امریکی حکام کے دعووں کے مطابق ان حملوں میں القاعدہ اور افغان طالبان کو نشانہ بنایا جارہا ہے اور بعض حملوں میں پاکستانی طالبان بھی نشانہ بنے ہیں۔دوسری جانب مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ امریکی ڈرون حملوں میں عام شہری ،بچے ،بوڑھے ،خواتین اور نوجوان نشانہ بن رہے ہیں اور طالبان جنگجوٶں کے شُبے میں علاقے میں موجود لوگوں کو بلا امتیاز مارا جا رہا ہے۔