امریکا کے صدر براک اوباما نے ایران کو خبردار کیا ہے کہ تہران کے نیوکلیئر تنازعے کے سفارتی حل کا امکان معدوم ہوتا جا رہا ہے۔ انہوں نے تہران پر زور دیا کہ وہ عالمی رہنماوں کے ساتھ بات چیت کے اس مرحلے کا فائدہ اٹھائے تاکہ وہ انکار کے بدترین انجام سے بچ سکے۔ امریکی صدر براک اوباما نے کہا کہ وہ اور کیمرون اس بات کا عہد کرتے ہیں کہ افغان مشن کو ترک نہیں کیا جائے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون کے دورہ امریکا کے موقع پر مشترکہ نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
حالیہ کچھ عرصے میں افغانستان میں کئی ایسے واقعات رونما ہوئے ہیں جن کی وجہ سے افغانستان میں تعینات نیٹو افواج پر افغانستان سے جلد تر انخلاء کے لیے دباؤ بڑھتا دکھائی دے رہا ہے۔ تاہم امریکا کے دورے پر آئے برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون کے ساتھ وائٹ ہاؤس میں نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے امریکی صدر براک اوباما نے اس تاثر کو رد کر دیا کہ بین الاقوامی برادری افغانستان کے بارے میں جلد بازی میں فیصلہ لے گی۔
صدر اوباما کا کہنا تھا کہ "سن دو ہزار تیرہ میں افغانستان میں نیٹو افواج کا کردار افغان سکیورٹی فورسز کی معاونت کی حد تک رہ جائے گا اور طے شدہ پروگرام کے تحت دو ہزار چودہ ہی میں بین الاقوامی افواج کا افغانستان سے انخلاء عمل میں آئے گا۔"
نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا: ’’میں نہیں سمجھتا کہ اس وقت ہم موجودہ پلان میں اچانک کوئی تبدیلی کرنے جا رہے ہیں۔‘‘ اوباما اور کیمرون نے اس بات پر اصرار کیا کہ دونوں ممالک کی افواج کی جانب سے القاعدہ کو شکست دینے کے لیے قربانیوں نے دونوں ملکوں کے خلاف دہشت گردی کے منصوبوں کا تدارک کیا ہے۔
اس موقع پر برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے افغانستان کی صورت حال کو ’بہت مشکل‘ قرار دیا تاہم کہا کہ افغانستان پہلے سے بہتر حالت میں ہے۔ ان کا کہنا تھا، ’’میں سمجھتا ہوں کہ جو کام ہم دو ہزار چودہ کے اختتام تک کرنا چاہتے ہیں وہ قابل عمل اور قابل حصول ہے۔ ہم اس مشن کو ادھورا نہیں چھوڑیں گے کیونکہ افغانستان اب القاعدہ کی ایسی پناہ گاہ نہیں بنے گا جہاں سے وہ ہم پر حملے کر سکے۔‘‘
امریکی صدر نے اسی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا: ’’ہم اس مشن کو مکمل کریں گے، اور ایسا ہم ذمہ داری کے ساتھ کریں گے۔‘‘ امریکی صدر نے کہا کہ وہ جانتے ہیں کہ دس سال کی اس جنگ سے لوگ تھک چکے ہیں اور لوگوں نے اس جنگ کے دوران بڑی قربانیاں دی ہیں۔