مراکش میں ایک سولہ لڑکی نے اپنی عصمت دری کے مرتکب شخص کے ساتھ زبردستی شادی کے بعد زہریلی چوہے مار گولیاں کھا کر خود کشی کر لی۔ یاد رہے کہ مراکشی قانون کے تحت زیادتی کا ملزم اگر عصمت دری کا شکار ہونے والی خاتون سے شادی کر لے تو وہ سزا سے بچ سکتا ہے۔
خواتین حقوق لیگ کی سربراہ فوزیہ عسولی نے "اے ایف پی" نیوز ایجنسی کو بتایا کہ سولہ امینہ الفیلالی کی گزشتہ ہفتے عصمت دری کی گئی۔ الاعراش شہر سے تعلق رکھنے والی اس دوشیزہ نے اپنی عزت پامال کرنے والے شخص سے زبردستی شادی کے بعد خود کشی کر لی۔"
امینہ کے والدین نے اپنی بیٹی کی عصمت دری کے مرتکب شخص کے خلاف گزشتہ برس مقدمہ دائر کرایا تھا۔ عدالت نے امینہ سے عمر میں دس سال بڑے ملزم کو سزا دینے کے بجائے فیصلہ صادر کیا کہ امینہ کی ملزم سے شادی کرا دی جائے۔
عدالت نے اپنی دانست میں دونوں کی شادی کا فیصلہ صادر کرتے ہوئے وجہ یہ بتائی کہ اس طرح زیادتی کی شکار امینہ کی زندگی برباد ہونے سے بچ سکتی ہے لیکن اس فیصلے کا نتیجہ مدعیہ کی زندگی کے خاتمے کی صورت میں سامنے آیا۔
یاد رہے کہ مراکشی قانون کے تحت زیادتی کا ملزم اگر عصمت دری کا شکار ہونے والی خاتون سے شادی کر لے تو وہ سزا سے بچ سکتا ہے۔ حقوق نسواں کے لئے کام کرنے والی انجموں نے اس قانون میں تبدیلی کے لئے کئی بار مطالبہ کیا ہے۔
امینہ کی خودکشی کی خبر سماجی رابطوں کی ویب سائٹس کے ذریعے بڑے پیمانے پر مراکش اور دنیا کے دوسرے حصوں میں پہنچی جس کے بعد فیصلہ صادر کرنے والے جج کے خلاف ایکشن لینے کے مطالبات سامنے آ رہے ہیں۔