منگل 07 جمادى الأولى 1434هـ - 19 مارچ 2013م
آخری وقت اشاعت: جمعرات 22 ربيع الثاني 1433هـ - 15 مارچ 2012م KSA 22:50 - GMT 19:50

حامد کرزئی کا غیر ملکی فوج کے قبل از وقت انخلاء کا مطالبہ

افغان طالبان نے امریکا کے ساتھ مذاکرات ختم کر دیے

جمعرات 22 ربيع الثاني 1433هـ - 15 مارچ 2012م
کابل ۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ، ایجنسیاں

افغانستان کے طالبان مزاحمت کاروں نے امریکا کے ساتھ اعتماد کی فضا بحال کرنے کے لیے جاری غیر رسمی مذاکرات منقطع کر دیے ہیں جبکہ افغان صدر حامد کرزئی نے امریکی فوجیوں کو دیہات سے نکل جانے کا حکم دیا ہے اور غیر ملکی فوجوں کے 2014ء سے قبل انخلاء کا مطالبہ کیا ہے۔

طالبان نے اپنی ویب سائٹ پر جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ ''امریکیوں کی مسلسل تبدیل ہوتی ہوئی پوزیشن کے پیش نظر امارت اسلامی نے ان کے ساتھ ہر طرح کے مذاکرات منقطع کر دیے ہیں''۔

طالبان نے اپنے بیان میں گذشتہ اتوار کو جنوبی صوبہ قندھار میں ایک امریکی فوجی کے ہاتھوں سولہ افغانوں کے اندوہناک قتل کے واقعہ اور بگرام کے ہوائی اڈے پرگذشتہ ماہ قرآن مجید کو نذر آتش کرنے کے واقعہ کا حوالہ نہیں دیا لیکن یہ خیال کیا جاتا ہے کہ طالبان نے ان دونوں واقعات کے بعد ہی امریکا سے مذاکرات منقطع کرنے کا فیصلہ کیا ہے کیونکہ ان کی وجہ سے افغانوں میں شدید اشتعال پایا جا رہا ہے۔

افغانوں کا غصہ ٹھنڈا کرنے کے لیے امریکی وزیر دفاع لیون پینیٹا گذشتہ روز اچانک افغانستان کے غیر علانیہ دورے پر قندھار پہنچے تھے اور انھوں نے افغان صدر حامد کرزئی اور دوسرے حکام سے بات چیت کی تھی لیکن اس ملاقات کے حوالے سے دونوں لیڈروں نے بالکل مختلف بیانات جاری کیے ہیں۔

امریکی وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ افغانستان میں رونما ہونے والے حالیہ واقعات کے بعد امریکا کی قیادت میں نیٹو فوج کا انخلاء پہلے سے طے شدہ شیڈول کے مطابق 2014ء ہی میں مکمل ہو گا اور اس سے پہلے انخلاء نہیں ہو گا۔

لیکن حامد کرزئی کے ترجمان ایمل فیضی نے ان کی لیون پینیٹا سے جو گفتگو نقل کی ہے،اس کے مطابق انھوں نے کہا کہ ''ہم اب تمام سکیورٹی ذمے داریوں کو قبول کرنے کو تیار ہیں اور ہم اس بات کو ترجیح دیں گے کہ افغانستان سے غیر ملکی فوج کا انخلاء 2014ء کے بجائے 2013ء ہی میں ہو جائے''۔

افغان صدر کے دفتر کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق انھوں نے مسٹر لیون پینیٹا سے کہا کہ امریکا کی قیادت میں بین الاقوامی فوجوں کو افغان دیہات سے ان کے اڈوں پر منتقل کیا جائے۔

تاہم نیٹو فوج یا لیون پینیٹا کی جانب سے افغان صدر کے اس مطالبے پر فوری طور پر کوئی تبصرہ سامنے نہیں آیا۔ تاہم امریکی وزیر دفاع نے افغان صدر سے ملاقات کے بعد صحافیوں سے گفتگو میں اس اعتماد کا اظہار کیا تھا کہ فریقین 2014ء کے بعد امریکی فوج کی افغانستان میں موجودگی سے متعلق مجوزہ معاہدے کو طے کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔

انھوں نے یہ بھی کہا کہ امریکی اور افغان حکام رات کے وقت غیرملکی فوج کی متنازعہ چھاپہ مارکارروائیوں سے متعلق کسی تصفیے تک پہنچ جائیں گے۔ حامد کرزئی اور دوسرے افغان لیڈروں کو غیر ملکی فوجوں کی رات کے وقت چھاپہ مار کارروائیوں پر سب سے بڑا اعتراض یہ ہے کہ اس سے افغان خاندانوں کے تقدس کو مجروح کیا جاتا ہے اور ان کے دوران سیکڑوں بے گناہ شہریوں کو قتل کیا جا چکا ہے۔

مسٹر لیون پینیٹا نے حامد کرزئی سے ملاقات میں یہ وعدہ کیا کہ سولہ افغانوں کے قتل کے مجرم امریکی فوجی کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا اور پینٹاگان اس واقعہ کا ہر پہلو سے جائزہ لے گا اور یہ بھی دیکھے گا کہ آیا فوجیوں پر طویل جنگ کے اثرات اور تناؤ کی وجہ سے تو یہ واقعہ پیش نہیں آیا تھا۔