لیبیا کے حکام نے موریتانیہ سے سابق مقتول صدر معمرقذافی کے انٹیلی جنس سربراہ عبداللہ السنوسی کو اپنے ملک کے حوالے کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
لیبی حکومت کے ترجمان ناصر آل مناعی نے ہفتے کے روز طرابلس میں ایک نیوزکانفرنس کے دوران کہا کہ ''آج پراسیکیوٹرجنرل نے موریتانوی حکومت کو انٹرپول کے ذریعے ایک درخواست بھیجی ہے جس میں اس سے کہا گیا ہے کہ وہ عبداللہ السنوسی کو لیبیا کے حوالے کرے''۔
انھوں نے کہا کہ ''لیبیا کی وزارت خارجہ سابق انٹیلی جنس چیف کی گرفتاری کے بعد سے موریتانیہ سے رابطے میں ہے،لیبی حکومت انھیں قبول کرنے کو تیار ہے اور ان کا لیبیا میں منصفانہ ٹرائل کیا جائے گا''۔
قبل ازیں موریتانیہ کے ایک سکیورٹی ذریعے نے اطلاع دی تھی کہ سابق صدر معمرقذافی کے دور کے انٹیلی جنس سربراہ عبداللہ السنوسی کو دارالحکومت نواکشوط کے ہوائی اڈے پر جمعہ اور ہفتہ کی درمیانی شب گرفتار کرلیا گیا ہے۔
وہ مراکش کے شہر کیسا بلانکا سے معمول کی پرواز پر آئے تھے اور مالی کے ایک جعلی پاسپورٹ پر سفر کررہے تھے۔انھیں گرفتاری کے بعد نواکشوط میں نیشنل انٹیلی جنس کے دفتر میں لے جایا گیا تھا لیکن فوری طور پر یہ واضح نہیں ہوا کہ ان کے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے گا۔
موریتانیہ کی سرکاری خبررساں ایجنسی نے اس اطلاع کی تصدیق کی تھی کہ لیبیا کے سابق انٹیلی جنس سربراہ عبداللہ السنوسی کو جعلی پاسپورٹ پر سفر کے الزام میں گرفتار کرلیا گیا ہے جبکہ لیبیا کی وزارت خارجہ کے ترجمان سعد الشلمانی کا کہنا تھا کہ ان کی گرفتاری کی تصدیق نہیں ہوئی ۔
عبداللہ السنوسی ہیگ میں قائم عالمی فوجداری عدالت (آئی سی سی) کو لیبیا میں مقتول صدر معمر قزافی کے خلاف مسلح عوامی بغاوت کے دوران انسانیت کے خلاف جرائم کے الزامات میں مطلوب ہیں۔وہ سابق صدر کے برادر نسبتی ہیں۔
آئی سی سی کا کہنا ہے کہ باسٹھ سالہ عبداللہ السنوسی نے معمرقذافی کے خلاف مسلح عوامی بغاوت کے دوران بالواسط انسانیت کے خلاف جرائم کا ارتکاب کیا تھا اور خاص طور پر بن غازی میں حکومت مخالفین کو کچلنے میں ان کا کردار تھا۔
نیجر اور مالی کے سکیورٹی ذرائع نے اکتوبر میں اطلاع دی تھی کہ عبداللہ السنوسی اپنے متعدد ساتھیوں سمیت ان کے علاقے سے گذر کر گئے تھے۔اس کے ایک ماہ کے بعد لیبیا کی نئی حکومت نے ان کی گرفتاری کا اعلان کیا تھا لیکن تب ان کی کوئی تصویر جاری نہیں کی گئی تھی۔
درایں اثناء فرانسیسی صدر نکولا سارکوزی نے عبداللہ السنوسی کی موریتانیہ میں گرفتاری کا خیرمقدم کیا ہے اور انھیں لیبیا کے حوالے کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔