منگل 07 جمادى الأولى 1434هـ - 19 مارچ 2013م
آخری وقت اشاعت: منگل 27 ربيع الثاني 1433هـ - 20 مارچ 2012م KSA 14:22 - GMT 11:22

پاکستانی پارلیمنٹ میں قومی سلامتی کمیٹی کی سفارشات

"امریکا سے سلالہ پوسٹ حملے پر غیر مشروط معافی طلب کی جائے"

منگل 27 ربيع الثاني 1433هـ - 20 مارچ 2012م
اسلام آباد ۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ، ایجنسیاں

قومی سلامتی کے بارے میں خصوصی کمیٹی نے پاکستانی پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں پیش کردہ سفارشات میں تجویز کیا ہے کہ حکومت پاکستان امریکا سے کہے کہ وہ سلالہ چیک پوسٹ حملے پر غیر مشروط معافی مانگے اور ڈرون حملے بند کرے۔

سفارشات میں تجویز کیا گیا ہے کہ آئین پاکستان کے شق چالیس اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق امریکا پاکستان کی خود مختاری، علاقائی سالمیت کا احترام کرے اور تعاون کے تمام معاہدوں کو تحریری شکل دیں اور اس پر پارلیمان کی نگرانی قائم کی جائے

امریکا اور نیٹو کے ساتھ اشتراک عمل کی نئی شرائط منگل کو پارلیمان کے مشترکہ اجلاس میں پیش کردی گئی ہیں جن میں سلالہ چیک پوسٹ پر حملے میں 24 پاکستانی فوجیوں کی ہلاکت پر امریکا سے غیر مشروط معافی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

پارلیمانی کمیٹی برائے قومی سلامتی کے چیئرمین سینیٹر رضا ربانی نے سینیٹ اور قومی اسمبلی کے مشترکہ اجلاس میں سفارشات پیش کرتے ہوئے کہا کہ اب یہ پارلیمان کا اختیار ہے کہ وہ چاہے تو ان میں ترامیم کر کے ان کی منظوری دے یا پھر انھیں مسترد کر دے۔ امریکا کے ساتھ اشتراک عمل سے متعلق رہنما اصولوں پر مبنی مسودے میں امریکا سے پاکستان میں اپنی سرگرمیوں پر نظرِ ثانی کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔

اس کی وضاحت کرتے ہوئے سفارشات میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کی سرحدوں کے اندر ڈرون حملوں کا سلسلہ بند کیا جائے، عسکریت پسندوں کے تعاقب میں غیر ملکی افواج کو پاکستانی حدود میں داخلے کی اجازت نہیں ہونی چاہیئے۔ ’’اس امر کو تسلیم کرنے کی ضرورت ہے کہ ڈرون حملے غیر مفید ہیں جن قیمتی جانیںضائع اور املاک کو نقصان پہنچتا ہے، مقامی آبادی میں شدت پسندی کے رجحانات میں اضافہ ہوتا ہے، دہشت گردوں کی حمایت بڑھتی ہے اور امریکا مخالف جذبات بھڑکتے ہیں۔‘‘

مجوزہ سفارشات میں مہمند ایجنسی میں کیے گئے حملے کے ذمہ داران کو کیفر کردار تک پہنچانے اور اس یقین دہانی کا مطالبہ کیا گیا ہے کہ مستقبل میں امریکا اور نیٹو پاکستان کی سالمیت کے خلاف ایسے حملوں سے ہر ممکن اجتناب کرنے کے اقدامات کریں گے۔ ’’پاکستان کے فوجی اڈوں اور فضائی حدود کے استعمال کی اجازت کے لیے پارلیمان کی منظوری درکار ہو گی۔‘‘

نیٹو سپلائی لائن سے متعلق معاہدے کی شرائط کا مفصل ازسر نو جائزہ لینے کی سفارش کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ان قافلوں کی پاکستان میں داخلے اور اخراج کے وقت سخت چیکنگ کی جائے۔ مزید برآں 50 فیصد نیٹو کے کنٹینرز کی ترسیل پاکستان ریلوے کے ذریعے کرنے کی بھی سفارش کی گئی ہے۔

’’پاکستان کے راستے سے درآمدی اشیاء کی (نیٹو کو) ترسیل پر محصولات اور دیگر چارجز لگائے جائیں تاکہ اس رقم کو شاہراہوں کے ڈھانچے اور ان کی مرمت کے لیے استمال کیا جاسکے۔ یہ پیسہ خصوصی طور پر کراچی سے طورخم اور کراچی سے چمن تک کی سڑکوں کے ڈھانچے کو اچھی حالت میں رکھنے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔‘‘ سینیٹ کے چیئرمین نیئر حسین بخاری نے پارلیمان کا مشرکہ ملتوی کرتے ہوئے کہا کہ مجوزہ سفارشات پر باضابطہ بحث کا آغاز پیر کو ہو گا۔

یاد رہے کہ نومبر 2011ء میں افغان سرحد سے ملحقہ قبائلی علاقے مہمند ایجنسی میں نیٹو کے فضائی حملے پر احتجاج کرتے ہوئے پاکستان نے امریکا اور نیٹو کے ساتھ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں تعاون معطل کر دیا تھا۔ امریکی قیادت سلالہ حملوں کو ’’غیر ارادی‘‘ قرار دے کر ان میں ہونے والے جانی نقصانات پر افسوس کا اظہار کر چکی ہے۔

ان حملوں کے بعد اپنے فوری ردعمل کے طور پر پاکستان نے زمینی راستے کے ذریعے افغانستان میں نیٹو کے لیے سپلائی بھی روک دی تھی اور بلوچستان میں امریکا کے زیر استعمال شمسی ائیر بیس کو خالی کرا لیا گیا تھا جب کہ افغانستان کے مستقبل کے بارے میں جرمنی کے شہر بون میں ہونے والی بین الاقوامی کانفرنس کا بھی پاکستان نے بائیکاٹ کیا تھا۔

وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے امریکا سے تعلقات کی بحالی اور مستقبل کے تعلقات کی سمت کا تعین کرنے کے لیے سفارشات کی تیاری کا کام پارلیمانی کمیٹی برائے قومی سلامتی کو سونپا تھا۔ کمیٹی نے باہمی مشاروت کے کئی اجلاسوں اور وزارت خارجہ و مسلح افواج سے مشاورت کے بعد مجوزہ سفارشات وزیراعظم کو بھجوا دی تھیں، جن پر اب حتمی بحث کا آغاز ہو گا۔

صدر آصف علی زرداری نے 17 مارچ کو نئے پارلیمانی سال کے آغاز پر پارلیمان کے مشترکہ اجلاس سے اپنے پانچویں سالانہ خطاب میں کہا تھا کہ 2011ء پاک امریکا تعلقات کے لیے چیلجنوں کا سال تھا۔ ’’ہم امریکا کے ساتھ باہمی مفاد اور عزت و احترام پر مبنی بامقصد تعلقات قائم کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔‘‘