صہیونیوں کے زیر اثر مغربی میڈیا اسلام اور مسلمانوں کے خلاف پروپیگنڈے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتا اور بعض اسلامی ممالک میں پڑھائے جانے والے تعلیمی نصاب میں شامل اسلامی تعلیمات اور خاص طور پر یہود ونصاریٰ سے تعلقات اور جہاد سے متعلق قرآنی آیات اور احادیث نبوی پر مبنی تحریروں پر تنقید کو ایک فیشن سمجھا جاتا ہے لیکن خود صہیونی ریاست اسرائیل کے تعلیمی اداروں میں کیا پڑھایا جا رہا ہے ،اس پر ان کی کم ہی نظر پڑتی ہے اور مغربی میڈیا کو وہاں سب اچھا ہی نظر آتا ہے۔
لیکن بعض انصاف پسند یہودی دانشور صہیونی ذہنیت اور اس کی چیرہ دستیوں کی کہانیاں سامنے لاتے رہتے ہیں اور ان کی لکھی بعض کتب سے یہودی بچوں کی ذہن سازی کے سارے عمل کی تفصیل سامنے آئی ہے جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اسرائیل کے مدارس میں پڑھایا جانے والا نصاب کیسے یہودی بچوں میں فلسطین اور عرب مخالف جذبات کو پروان چڑھا رہا ہے۔
اس ضمن میں اسی مہینے ایک کتاب منظرعام پر آرہی ہے جس میں یہ انکشاف کیا گیا ہے کہ انیس سونوے کے عشرے سے اسرائیلی اسکولوں میں پڑھائی جانے والی کتب میں فلسطین مخالف جارحانہ حکمت عملی پر عمل درآمد کیا جارہا ہے۔
اس کتاب کی مصنفہ مقبوضہ بیت المقدس کی عبرانی یونیورسٹی کی پروفیسر نوریت پیلیڈ الہانان ہیں اور اس کا عنوان :''فلسطین، اسرائیلی اسکولوں میں:تعلیم میں نظریہ اور پروپیگنڈا'' ہے۔مصنفہ کا کہنا ہے کہ اسرائیلی اسکولوں میں تدریس کی یہ حکمت اختیار کی گئی ہے کہ بچوں کو اس طرح ذہنی طور پر تیار کیا جائے کہ جب وہ فوج میں بھرتی ہوں تو ان میں فلسطین مخالف جذبات عروج پر ہوں۔
پیلیڈ الہانان نے اپنی کتاب میں انیس سو نوے کی دہائی کے بعد شائع شدہ بیسیوں اسرائیلی کتب کے حوالے اور اقتباسات اپنے نظریے کے حق میں پیش کیے ہیں جن سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ یہ کتب کس طرح فلسطین مخالف جذبات کو پروان چڑھانے میں معاون ثابت ہورہی ہیں۔
پیلیڈ الہانان نے خلیجی روزنامے دی نیشنل سے اسی ہفتے ایک انٹرویو میں کہا کہ ''میں ان وجوہات کا جائزہ لینا چاہتی تھی جن کی بنیاد پر اچھے یہودی بچے جب فوج میں شمولیت اختیار کرتے ہیں تو وہ عفریت کیونکر بن جاتے ہیں''۔
اس خاتون پروفیسر کا کہنا ہے کہ ''بچپن کے زمانے میں ان اسرائیلی بچوں کی فلسطینیوں سے کبھی بالمشافہ ملاقات نہیں ہوتی لیکن اپنی نصاب کتب کے مندرجات سے وہ انھیں مکمل طور پر جانتے ہوتے ہیں''۔
اسرائیلی بچوں کو جو نصاب پڑھایا جاتا ہے،اس میں یہ بھی لکھا ہے کہ ''اسرائیل کے فلسطینی شہری جدیدیت کے خلاف ہیں اور وہ غیرقانونی طور پر مکانوں کی تعمیر کررہے ہیں''۔یواے ای سے شائع ہونے والے اخبار کی رپورٹ کے مطابق ایک اور اقتباس میں کہا گیا ہے کہ ''فلسطینی آبادی کے اعتبار سے اسرائیل کے لیے ایک خوفناک مسئلہ بنتے جارہے ہیں''۔
اسرائیلی مدارس میں پڑھائی جانے والی جغرافیے کی ایک کتاب میں کہا گیا ہے کہ ''عرب معاشرہ اپنی فطرت کے اعتبار سے تبدیلیوں پر معترض ہوتا ہے۔وہ جدت کو اپنانے میں بھی تردد کا مظاہرہ کرتا ہے اور جدیدیت بظاہران کے لیے خطرناک ہوتی ہے''۔پروفیسر پیلیڈ الہانان کے بہ قول عربوں کو قدامت پسند اور قبائلی کے روپ میں پیش کیا جاتاہے۔
اسرائیل کے انتہا پسند ماہرین تعلیم نے پروفیسر پیلیڈ الہانان پر اسرائیل مخالف جذبات کو ہوا دینے کا الزام عاید کیا ہے۔ان کی دلیل یہ ہے کہ نصابی کتب میں تعصب امریکا سمیت بہت سے ممالک میں موجود ہے۔مصنفہ پر بائیں بازو کے انتہاپسندانہ خیالات کی حامل ہونے کا بھی الزام عاید کیا گیا ہے۔
لیکن پروفیسر پیلیڈ الہانان نے اس تنقید کو مسترد کردیا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ وہ اہم نتائج کو سامنے لائی ہیں جن سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ اسرائیلی تعلیمی مدارس میں فلسطینیوں کے خلاف نفرت اور تعصب ہی سکھایاجاتا ہے۔انھوں نے مرکزی دھارے میں شامل اسکولوں کی نصابی کتب کو بھی اپنی تحقیق میں شامل کیا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ مقبوضہ بیت المقدس کے نقشے میں سے اہم فلسطینی مقامات کو مٹا دیا گیا ہے اور ایک کتاب میں اس شہر کو ''یہود کا تاریخی دارالحکومت'' قراردیا گیا ہے۔
ان میں سے ایک کتاب میں انیس سو تریپن میں مغربی کنارے کے گاؤں قبیہ میں اسرائیلی فوج کے ہاتھوں فلسطینیوں کے قتل عام کا واقعہ بیان کیا گیا ہے اور اس میں کہا گیا ہے کہ ''اس کارروائی سے اسرائیلی شہریوں کا اعتماد اور فوج کا مورال اور وقار بحال ہواتھا''۔ اس طرح اس دعوے کے ساتھ فلسطینیوں کے قتل عام کا جواز پیش کیا گیا ہے۔مصنفہ کا کہنا ہے کہ اسرائیل پورے علاقے سے عربوں کا صفایا چاہتا ہے اور اسرائیلی حکام بچوں کو یہ بات سکھانے میں کامیاب رہے ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ اگر انھوں نے نصابی کتب کو اس انداز میں تبدیل نہ کیا تو وہ مستقبل میں اچھے فوجی حاصل نہیں کرسکیں گے۔