منگل 07 جمادى الأولى 1434هـ - 19 مارچ 2013م
آخری وقت اشاعت: بدھ 28 ربيع الثاني 1433هـ - 21 مارچ 2012م KSA 06:25 - GMT 03:25

کتاب کی اشاعت کے لئے دار نشر عربیہ سے معاہدہ

مصری رقاصہ اپنی خود نوشت میں حکمرانوں و کاروباری شخصیات سے تعلقات کا بھانڈا پھوڑیں گی

منگل 27 ربيع الثاني 1433هـ - 20 مارچ 2012م
معروف مصری رقاصہ هياتم
معروف مصری رقاصہ هياتم
قاهرہ ۔ عمر عبدالجواد

عرب دنیا کی مشہور مصری رقاصہ ھیاتم نے اپنی زندگی کی یاد داشتوں پر مبنی کتاب لکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ کتاب کی اشاعت کے لئے رقاصہ اور دار نشر عربیہ کے درمیان معاہدہ طے پا گیا ہے۔

معاہدے کے تحت کتاب شائع کرنے والا مکتبہ ھیاتم کو بھاری معاوضہ ادا کرے گا، تاہم اس معاوضے کی تفصیل ظاہر نہیں کی گئی ہے۔ اس سے قبل معروف مصری ادیب احسان عبدالقدوس کے ملتے جلتے موضوع پر تحریر کردہ ناول "رقاصہ اور سیاستدان" کو بہت زیادہ شہرت ملی۔

مصری رقاصہ کا کہنا ہے کہ ضابطہ تحریر میں آنے والی اس کی یاد داشتوں کی اہمیت اس لئے دوچند ہو جائے گی کیونکہ اس میں وہ مصر کے سابق معزول صدر حسنی مبارک کی حکومت میں شامل سرکاری عمال اور سیاست دانوں سے اپنے تعلقات کا پردہ چاک کرنے والی ہیں۔

بہ قول ھیاتم ان کے سیاسی رہنماؤں سے تعلقات کبھی تو خفیہ شادیوں اور کبھی علانیہ تعلقات کی صورت میں مترشح ہوتے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں نے ہمیشہ ان تعلقات کو جائز حدود میں ہی استوار کیا ہے۔ مصری رقاصہ کا دعوی ہے کہ ان کی کتاب میں صرف مصری قیادت کے راز ہی فاش نہیں کریں گی بلکہ وہ اپنی کتاب میں ان دولتمندوں کے چہروں سے بھی نقاب الٹیں گی کہ جو ہر قیمت پر ان کی قربت کے متمنی رہے۔ انہی متمول شخصیات میں ایک ایسا کاروباری چہرہ بھی شامل رہا ہے کہ جس نے انہیں اس مقصد کے لئے سوئٹزرلینڈ میں اپنا محل اور انتہائی مہنگے زیوارت بطور تحفہ دینے کی پیشکش کی تھی، تاہم میں نے یہ سب لینے سے انکار کر دیا تھا۔

ھیاتم کا کہنا ہے کہ جن لوگوں کے ان سے تعلقات رہے ہیں اور اب کتاب کے ذریعے منظر عام آیا چاہتے ہیں، ان سے درخواست ہے کہ وہ ناراض نہ ہوں کیونکہ انقلاب کے بعد وہ آہنی شکنجہ ٹوٹ چکا ہے کہ جس سے سارے خوفزدہ رہتے تھے۔ انہوں نے دوٹوک الفاظ میں یہ بات کہی کہ اپنی کتاب میں صرف اور صرف سچ لکھیں گی۔ میری اس حق گوئی پر اعتراض کرنے والوں کو قانونی چارہ جوئی کا پورا حق حاصل ہو گا۔

انہوں نے کہا کہ میں نے سابق صدر کے دور میں یہ کتاب لکھنے کا فیصلہ اس لئے نہیں کیا کہ اس میں سامنے آنے والی تفصیلات کے بعد ان کی زندگی محفوظ نہیں رہنا تھی۔ انہوں نے یاد دلایا کہ ایسی ہی ایک خود نوشت کو تحریر کرنے والی معروف مصری فنکارہ سعاد حسنی کو ان کی کتاب کی اشاعت سے پہلے ہی خاموش کرا دیا گیا۔ سعاد کے قاتلوں کا آج تک سراغ نہیں لگایا جا سکا۔

اپنی یاد داشتوں میں 1949 کو پیدا ہونے والی ھیاتم اپنے فنی سفر پر روشنی ڈالیں گی جس کا آغاز شراب خانوں سے ہوا۔ ھیتم کی زندگی کے مختلف مراحل پر بھی کتاب میں روشنی ڈالی جائے گی۔

انہوں نے اپنے قارئین سے توقع ظاہر کی ہے کہ وہ ان کی کتاب میں سامنے آنے والوں ناموں پر صدمے سے دوچار نہیں ہوں گے۔ ان پردہ نشینوں میں ایک نام معروف کالم نگار اور صحافی کا ہے جبکہ اس فہرست میں ایک نام مصری پارلیمنٹ کے رکن اور سابقہ دور کی مشہور کاروباری شخصیت کا بھی ہے۔ ھیتم کا کہنا تھا کہ انہوں نے اپنی شادی کا صرف دو مرتبہ باقاعدہ اعلان کیا ہے۔