روس اور چین نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں شام سے متعلق مغربی ممالک کے پیش کردہ بیان سے اتفاق کیا ہے جس میں عرب لیگ اور اقوام متحدہ کے مشترکہ ایلچی کوفی عنان کی امن کوششوں کی حمایت کا اظہار کیا گیا ہے اور شامی صدر بشارالاسد کو چھے نکاتی امن منصوبہ کو تسلیم نہ کرنے کی صورت میں مزید اقدامات پر انتباہ کیا گیا ہے۔
روس کے وزیرخارجہ سرگئی لاروف نے برلن میں اپنے جرمن ہم منصب سے ملاقات کے بعد اس امید کا اظہار کیا ہے کہ اس بیان کو بدھ کو اتفاق رائے سے منظور کر لیا جائے گا۔ اقوام متحدہ میں متعین سفارت کاروں کا کہنا ہے کہ روس کی جانب سے سلامتی کونسل میں شام کے بارے میں صدارتی بیان کی حمایت صدر بشار الاسد کے لیے ایک دھچکا ہو گی۔
منگل کو سلامتی کونسل کے بند کمرے کے اجلاس میں فرانس کی جانب سے مغربی ممالک کی حمایت سے پیش کردہ بیان کے مندرجات پر غور کیا گیا جس کے بعد روسی سفیر ویٹالے چرکین نے صحافیوں کو بتایا کہ ماسکو مغربی ممالک کے اس مسودے کی حمایت کو تیار ہے۔
درایں اثناء اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بین کی مون نے جکارتہ میں ایک تقریر میں کہا کہ شامی بحران بہت ہی سنگین شکل اختیار کرچکا ہے اور اس کے پورے خطے اور دنیا کے لیے تباہ کن اثرات ہوں گے۔ان کا کہنا تھا کہ شام میں ہرطرح کے تشدد کا خاتمہ ان کی اولین ترجیح ہے۔
مغربی سفارت کاروں کے مطابق شام میں خونریزی روکنے سے متعلق سلامتی کونسل میں صدارتی بیان پیش کرنے کا فیصلہ قبل ازیں روس اور چین کی جانب سے سلامتی کونسل میں دو مرتبہ قراردادوں کو ویٹو کیے جانے کے بعد کیا گیا ہے۔ اس بیان میں عرب لیگ اور اقوام متحدہ کے مشترکہ خصوصی ایلچی کوفی عنان کے مشن کی مکمل حمایت کا اظہار کیا گیا ہے۔
بیان میں سلامتی کونسل کی جانب سے شام میں بگڑتی ہوئی صورت پر شدید تشویش اور شامی بحران کے حل کے لیے اقوام متحدہ کے سابق سیکرٹری جنرل کوفی عنان کے چھے نکاتی منصوبے کی مکمل حمایت کا اظہار کیا گیا ہے۔ اس میں شام میں جنگ بندی ،سیاسی ڈائیلاگ کا عمل شروع کرنے اور انسانی امدادی اداروں کو متاثرین تک مکمل رسائی دینے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
اقوام متحدہ میں فرانسیسی سفیر جیرارڈ اورڈ کا کہنا ہے کہ ''کوفی عنان نے اپنے مشن کے لیے سلامتی کونسل کی حمایت کا مطالبہ کیا تھا اور وہ یہ چاہتے تھے کہ کونسل کے تمام رکن ممالک ان کی بحران کے حل کے لیے کوششوں کی حمایت کریں۔اس لیے اس صدارتی بیان میں صرف کوفی عنان کی حمایت ہی کو محور بنایا گیا ہے''۔
ان کا کہنا تھا کہ سلامتی کونسل میں متعین رکن ممالک صدارتی بیان کی منظوری سے قبل اپنے اپنے دارالحکومتوں سے مشاورت کرنا چاہتے تھے۔تاہم ابھی یہ واضح نہیں کہ روس اور چین اس بیان کے بعض مندرجات کی مخالفت کریں گے یا وہ بھی دوسرے ممالک کی طرح اس کی حمایت کرتے ہیں۔
واضح رہے کہ سلامتی کونسل میں کسی ایشو کی حمایت یا مخالفت میں منظور کیے جانے والے بیانات کی قراردادوں کی طرح قانونی طور پر پابندی ضروری نہیں ہوتی۔ البتہ ان کی منظوری کے لیے تمام رکن ممالک کی حمایت ضروری ہے۔
سلامتی کونسل میں فرانس کی جانب سے پیش کردہ اس بیان کو برطانیہ، جرمنی، پرتگال اور امریکا کی حمایت حاصل ہے اور یہ امریکا کی تیار کردہ ایک اور قرار داد سے مختلف ہے جس میں شام سے امدادی کارکنان کو متاثرہ علاقوں تک رسائی دینے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔تاہم اس قرارداد پر مذاکرات تعطل کا شکار ہیں اور کوفی عنان شامی حزب اختلاف اور صدر بشارالاسد کو جنگ بندی پر آمادہ کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔
سلامتی کونسل نے اس سے قبل گذشتہ سال اگست میں شام کے بارے میں صدارتی بیان منظور کیا تھا جس میں صدر بشارالاسد کے مخالفین کے خلاف ان کی سکیورٹی فورسز کے کریک ڈاؤن کی مذمت کی گئی تھی اور ان سے تشدد کا سلسلہ ختم کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔
واضح رہے کہ روس اور چین نے اکتوبر میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں شام پر اسلحے کی پابندی سے متعلق مغربی ممالک کی پیش کردہ قرارداد کو ویٹو کر دیا تھا اور جنوری میں شام میں خونریزی روکنے کے لیے ایک اور قرارداد کو مسترد کر دیا تھا۔ اس قرارداد میں شام میں فوری طور پر تشدد روکنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔اس کے تحت شام کے خلاف نہ تو کوئی پابندیاں عاید کرنے کی تجویز تھی اور نہ کسی فوجی کارروائی کی اجازت دی گئی تھی۔