17 افغانوں کے قاتل امریکی فوجی پر 29 الزامات میں فرد جرم عاید
طالبان کا قاتل امریکی فوجی کے ٹرائل پر اظہار عدم اعتماد
امریکا میں ایک فوجی عدالت میں سترہ افغانوں کے قاتل اسٹاف سارجنٹ رابرٹ بیلز پر قتل عمد کے سترہ اور ارادہ قتل اور شہروں پر حملے کے چھے، چھے الزامات پر فرد جرم عاید کر دی گئی ہے جس کے نتیجے میں اسے سزائے موت کا سامنا ہو سکتا ہے جبکہ افغانستان کے طالبان مزاحمت کاروں نے افغانوں کے قاتل امریکی فوجی کے خلاف کسی بھی عدالت میں مقدمہ چلانے کی کارروائی پر عدم اعتماد کا اظہار کر دیا ہے۔
اڑتیس سالہ امریکی فوجی رابرٹ بیلز پر گیارہ مارچ کو علی الصباح افغانستان کے جنوبی صوبہ قندھار کے ضلع پنجوائی کے دو دیہات میں کسی محرک کے بغیر اپنی نو ایم ایم کی پستول اور ایم چار کی بندوق کے ساتھ گھروں میں گھس کر فائرنگ کرنے کا الزام ہے جس کے نتیجے میں نو افغان بچے اور آٹھ بالغ قتل ہو گئے تھے۔ اس نے ان میں سے بعض کی لاشوں کو جلا دیا تھا۔ اس امریکی فوجی کی فائرنگ سے چھے افغان زخمی ہو گئے تھے۔ان میں ایک مرد ،ایک خاتون اور چار بچے شامل ہیں۔
افغانستان میں امریکی فوج کے ترجمان کرنل گیری کولب نے فرد جرم کے حوالے سے بتایا ہے کہ اس امریکی فوجی پر قتل عمد کے سترہ الزامات، ارادہ قتل کے چھے اور شہریوں پر حملے کے چھے الزامات میں فرد جرم عاید کی گئی ہے۔اس طرح اس پر کل انتیس الزامات میں فرد جرم عاید کی گئی ہے۔ اگر اس کے خلاف منصفانہ انداز میں مقدمہ چلتا ہے تو اسے سزائے موت کا سامنا ہوسکتا ہے۔
کسی امریکی فوجی پر افغانستان میں بے گناہ شہریوں کی اس طرح وحشیانہ انداز میں ہلاکت کا یہ بدترین الزام ہے اور اس واقعہ کے بعد افغانستان اور امریکا کے درمیان تعلقات کشیدہ ہو چکے ہیں۔ابھی تک یہ واضح نہیں ہوا کہ اس امریکی فوجی نے رات کے وقت اپنے اڈے سے باہر جاکر دودیہات میں گھروں میں سوئے ہوئے افغانوں پر فائرنگ کیوں کی تھی؟
لیکن اس واقعہ سے ایک مرتبہ پھر گذشتہ ایک عشرے سے عراق اور افغانستان میں جاری جنگوں میں حصہ لینے والے امریکی فوجیوں کی ذہنی صحت کے حوالے سے سوالات اٹھنا شروع ہو گئے ہیں اور یہ کہا جا رہا ہے کہ مسلسل جنگی ماحول میں رہنے کی وجہ سے بیشتر امریکی فوجیوں کے اعصاب جواب دے چکے ہیں،ان میں سے بیشتر فوجی تشدد پسند ہو چکے ہیں اور وہ معمولی باتوں پر مقامی لوگوں کو اپنی فائرنگ کا نشانہ بنا رہے ہیں۔
طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے افغانستان میں کسی نامعلوم مقام سے ٹیلی فون کے ذریعے برطانوی خبررساں ادارے رائیٹرز سے بات کرتے ہوئے فائرنگ کے مذکورہ واقعہ کے حوالے سے کہا کہ ''یہ پہلے سے طے شدہ سرگرمی تھی۔ ہم یقینی طور پر افغانستان میں تمام امریکی فورسز سے انتقام لیں گے اور ہمیں اس طرح کے ٹرائیلز پر کوئی اعتماد نہیں ہے''۔
گذشتہ روز ایک امریکی عہدے دار نے بتایا تھا کہ آرمی اسٹاف سارجنٹ رابرٹ بیلز کے خلاف قتل کے سترہ الزامات اور ارادہ قتل کے چھے الزامات پر فرد جرم عاید کی جائے گی۔ رابرٹ بیلز اس وقت کنساس میں فورٹ لیون ورتھ کے مقام پر واقع فوجی جیل میں زیر حراست ہے اور اس پر وہیں قائم کی گئی فوجی عدالت میں مقدمہ چلایا جا رہا ہے۔اسے گذشتہ ہفتے افغانستان سے اس جیل میں منتقل کیا گیا تھا۔
رابرٹ بیلز کی پیروی کرنے والے وکیل ہینری براؤن کا کہنا ہے کہ امریکی حکام کے پاس گیارہ مارچ کو افغان صوبہ قندھار کے ضلع پنجوائی کے دودیہات میں پیش آئے فائرنگ کے واقعات کے بارے میں ٹھوس ثبوت نہیں ہیں۔
لیکن طالبان کے ترجمان نے بہت سے افغانوں کے اس دعوے کو دُہرایا ہے کہ بے گناہ افغانوں کے اندوہناک قتل کے اس واقعہ میں ایک سے زیادہ امریکی فوجی ملوث تھے۔تاہم امریکی عہدے دار اس دعوے کی تردید کرتے چلے آرہے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ رابرٹ بیلز نے اکیلے ہی یہ واردات انجام دی تھی۔
ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ ''اب امریکی حکام لوگوں کو دھوکا دینے اور صرف ایک ہی فوجی کو واقعہ کا ذمے دار قرار دینے کی کوشش کررہے ہیں۔یہ امریکی حکومت کا جُرم ہے اور وہ ایک سنگین جُرم میں عیاری کا مظاہرہ کرنے کی کوشش کر رہی ہے''۔
افغانوں کے قاتل امریکی فوجی کے سول وکیل جان ہینری براؤن کا کہنا ہے اس کا موکل محب وطن ،ایک محبت کرنے والا والد اور خاوند ہے۔وہ اپنے ایک ساتھی کے زخمی ہونے کے بعد صدمے سے دوچار ہوگیا تھا اور یہ واقعہ اس کی افغانوں پر فائرنگ کا محرک بنا تھا۔
بیلز نے اپنے ایک ساتھی فوجی کے زخمی ہونے کے بعد کیا دیکھا تھا اور اس کا اس پر کیا اثر ہوا تھا،اس حوالے سے اب تک مختلف رپورٹس منظرعام پر آئی ہیں۔امریکی محکمہ دفاع کے ایک عہدے دار کا کہنا ہے کہ بیلز کے یونٹ سے تعلق رکھنے والا ایک فوجی گیارہ مارچ کو فائرنگ کے واقعہ سے ایک یا دو روز قبل زخمی ہوا تھا لیکن اس بات کا کوئی ثبوت نہیں کہ رابرٹ بیلز نے اس واقعہ کو بچشم خود دیکھا تھا اور آیا اس کا اس کے فعل میں کوئی کردار تھا یا نہیں۔
افغان حکام نے امریکا سے قاتل فوجی کے خلاف مقدمے کی کارروائی میں مبصر کا کردار دینے کا مطالبہ کیا تھا۔ان کا کہنا ہے کہ افغانستان کو اس کیس میں ہونے والی پیش رفت کے حوالے سے مسلسل باخبر رکھا جائے۔تاہم افغان صدر حامد کرزئی نے قاتل امریکی کو افغان نظام انصاف کے حوالے کرنے کا مطالبہ نہیں کیا، البتہ افغان پارلیمان کے بعض ارکان ایسا کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں اور ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس کیس کو جلد سے جلد نمٹایا جائے تاکہ عام افغانوں کو مطمئن کیا جا سکے۔
افغانستان کے طالبان مزاحمت کار اس سے پہلے ''جنونی'' قاتل امریکی فوجی کے ہاتھوں بے گناہ دیہاتیوں کے قتل عام کے انتقام میں ملک میں موجود امریکی فوجیوں کے سر قلم کرنے کی دھمکی دے چکے ہیں۔انھوں نے واقعہ کے فوری بعد ایک بیان میں کہا تھا کہ ''امارت اسلامی ایک مرتبہ پھر امریکیوں کو خبردار کرتی ہے کہ ان سے انتقام لیا جائے گا اور اللہ کی مدد سے آپ کے جنونی قاتل فوجیوں کو قتل اور ان کے سرقلم کیے جائیں گے''۔ طالبان نے اپنے ملک میں موجود جارحین اور قاتلوں سے ہرافغان شہید کے قتل کا بدلہ لینے کا اعلان کیا تھا۔
امریکی وزیردفاع لیون پینیٹا کا کہنا تھا کہ قاتل فوجی کوامریکا کے فوجی عدالتی نظام کے تحت سزائے موت دلانے کی کوشش کی جائے گی لیکن انھوں نے فائرنگ کو انفرادی فعل قراردیا اور کہا تھا کہ اس سے امریکی فوج کے افغانستان سے انخلاء کے منصوبے پر کوئی اثرات مرتب نہیں ہوں گے۔
رابرٹ بیلز کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ وہ افغانستان میں آنے سے قبل تین مرتبہ عراق میں خدمات انجام دے چکا تھا اور دسمبر میں وہ پہلی مرتبہ افغانستان میں آیا تھا۔ عراق میں تعیناتی کے دوران اس کا سر زخمی ہو گیا تھا لیکن امریکی فوجی حکام نے اسے کلئیر کر دیا تھا اور افغانستان بھیجنے کے لیے اسے فٹ قرار دیا تھا۔ اب اسے امریکی حکام پاگل ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ اسے کسی بڑی سزا سے بچایا جا سکے۔اس کے بارے میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ وہ چار سال پہلے شراب نوشی کے الزام میں گرفتار ہو چکا ہے اور وہ کوئی اچھے چال چلن کا مالک نہیں بلکہ جرائم پیشہ ذہنیت کا حامل ہے۔