منگل 07 جمادى الأولى 1434هـ - 19 مارچ 2013م
آخری وقت اشاعت: اتوار 02 جمادى الأولى 1433هـ - 25 مارچ 2012م KSA 07:27 - GMT 04:27

حکمران اسلامی جماعت کو سُبکی کا سامنا

اسرائیلی رکن پارلیمان کی رباط آمد پر مراکشیوں کا شدید ردعمل

ہفتہ 01 جمادى الأولى 1433هـ - 24 مارچ 2012م
مراکش کی حکمران جماعت کے ارکان نے اسرائیلی وفد کی موجودگی پر بحر متوسطہ اسمبلی کے اجلاس کا بائیکاٹ کر دیا ہے
مراکش کی حکمران جماعت کے ارکان نے اسرائیلی وفد کی موجودگی پر بحر متوسطہ اسمبلی کے اجلاس کا بائیکاٹ کر دیا ہے
رباط ۔العربیہ ڈاٹ نیٹ

مراکش کے دارالحکومت رباط میں یونین برائے بحر متوسط پارلیمانی اسمبلی کے اجلاس میں اسرائیلی پارلیمان کے ایک رکن کی شرکت پر سیاسی جماعتوں اور سول سائٹی کے گروپوں نے اپنے شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے اور اس موقع پر احتجاجی مظاہرہ کیا ہے۔

مراکش کے متعدد گروپوں نے اسرائیلی رکن پارلیمان کی رباط میں آمد کی اطلاع پر ہفتے کے روز پارلیمان کی عمارت کے باہر بحر متوسطہ پارلیمانی اسمبلی کا اجلاس شروع ہونے سے قبل احتجاجی مظاہرہ کیا۔اس اسرائیلی رکن پارلیمان کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی ہے۔

مراکش میں عراق اور فلسطین کی حمایت کے لیے قائم کیے گئے قومی ایکشن گروپ کے ایک عہدے دار خالد سفیانی نے اسرائیلی رکن پارلیمان کے مراکش کے دورے کی مذمت کی اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر انھیں بے دخل کرے۔

اس اسرائیلی کے دورے سے مراکش کی حکمراں اسلامی جماعت انصاف اور ترقی پارٹی کوبھی سُبکی کا سامنا کرنا پڑا ہے کیونکہ یہ جماعت ماضی میں خود اسرائیلی عہدے داروں کے مراکش کے دوروں کی مخالفت کرتی رہی ہے اور اس نے سابق اسرائیلی وزیرخارجہ زیپی لیفینی کے دورے کی بھی شدید مذمت کی تھی۔

اب مراکشی شہری اس جماعت کی قیادت میں مخلوط حکومت کی کارکردگی کو ملاحظہ کررہے ہیں اور وہ اس بات کا بھی جائزہ لے رہے ہیں کہ وہ اسرائیلی عہدے داروں کے دوروں کے تناظر میں کیا موقف اختیار کرتی ہے۔

انصاف اور ترقی پارٹی نے اپنا تشخص بچانے کے لیے اپنے ارکان کو بحر متوسط پارلیمانی اسمبلی کے اجلاس کا بائیکاٹ کرنے کا حکم دیا تھا۔اس جماعت کے پارلیمانی لیڈر عزیز عماری العربیہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اجلاس کے بائیکاٹ کا فیصلہ ان کی اسرائیل کے ساتھ کسی قسم کے تعلقات سے انکار کی پالیسی کا حصہ ہے۔

قبل ازیں عزیز عماری نے مراکش کی ایک نیوز ویب سائٹ کو بتایا تھا کہ ان کی جماعت ایسی کسی بھی پارلیمانی سرگرمی میں حصہ نہیں لے گی جس میں صہیونی ریاست سے تعلق رکھنے والے عہدے دار شرکت کریں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ انھیں اس بات کا یقین نہیں کہ آیا اسرائیلی رکن پارلیمان ان کی جماعت کی قیادت میں مراکش کی مخلوط حکومت کی رضا مندی سے ملک میں داخل ہوا تھا۔

بحر متوسط پارلیمانی اسمبلی کے اجلاس میں عرب بہاریہ انقلابات کے نتیجے میں جنم لینے والی پارلیمانوں کے ارکان کی حمایت کے طریقوں، ان ممالک میں جمہوریت کو مضبوط بنانے کے لیے اقدامات، خطے میں اقتصادی ترقی اور شام کی صورت حال کے حوالے سے غور کیا جانا تھا۔