منگل 07 جمادى الأولى 1434هـ - 19 مارچ 2013م
آخری وقت اشاعت: اتوار 02 جمادى الأولى 1433هـ - 25 مارچ 2012م KSA 07:13 - GMT 04:13

میڈیا پر الزام تراشی نے مفاہمت خطرے میں ڈال دی

غزہ میں توانائی اور معاشی بحران فتح ۔ اسرائیل ملی بھگت کا نتیجہ ہے: حماس

اتوار 02 جمادى الأولى 1433هـ - 25 مارچ 2012م
غزہ ۔ یوسف صادق

فلسطین کے محصور شہر غزہ کی پٹی میں دو ماہ سے ایندھن اور بجلی کے بحران کے تسلسل میں شہر کی حکمراں جماعت اسلامی تحریک مزاحمت "حماس" اپنی حریف فتح پر پھٹ پڑی۔ حماس نے الزام عائد کیا ہے کہ مغربی کنارے کی حکمراں الفتح غزہ کی پٹی میں توانائی اور ایندھن کے بحران میں براہ راست ملوث ہے۔

دونوں جماعتوں کے درمیان میڈیا کے ذریعے ایک دوسرے پر الزام تراشی نے مفاہمت کے لیے جاری مساعی خطرے میں ڈال دی ہیں۔ خدشہ ہے کہ گذشتہ برس مئی میں فتح کے لیڈر محمود عباس اور حماس کے سیاسی شعبے کے سربراہ خالد مشعل کے درمیان طے پایا مفاہمتی معاہدہ ناکام ہو جائے گا۔

"العربیہ ڈاٹ نیٹ" کے نامہ نگار کے مطابق حماس کی قیادت کی طرف سے فتح پر الزام تراشی ماضی میں بھی کی جاتی رہی ہے تاہم مفاہمتی مساعی کے شروع ہونے کے بعد تیزو تند بیانات گذشتہ جمعہ کواس وقت سامنے آنا شروع ہوئے جب غزہ میں ایک احتجاجی ریلی کے دوران حماس کے رہ نما ڈاکٹر خلیل حیہ نے ایندھن کا بحران پیدا کرنے میں فتح کے ملوث ہونے کے دستاویزی ثبوت دکھائے۔

انہوں نے کہا کہ رام اللہ اتھارٹی امریکا، اسرائیل اور بعض دیگر ممالک کے ساتھ مل کر غزہ کی پٹی میں بنیادی ضروریات کا بحران پیدا کرنا چاہتی ہے تاکہ حماس کی حکومت کو ناکام بنایا جا سکے۔ انہوں نے بتایا کہ دستاویزی ثبوتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ گذشتہ کچھ عرصے کے دوران فتح کی قیادت نے مختلف عرب ملکوں میں امریکی اور اسرائیلی انٹیلی جنس حکام سے خفیہ ملاقاتیں کی ہیں۔ ان ملاقاتوں میں کئی عرب اور یورپی شخصیات بھی شریک تھیں، جنہیں فتح کی حمایت حاصل تھی۔ ان ملاقاتوں میں یہ طے پا کہ غزہ کی پٹی کا معاشی محاصرہ مزید سخت کیا جائے گا۔ مغربی کنارے اور اسرائیل کی جانب سے غزہ کو بجلی اور ایندھن کی فراہمی روکی جائے گی۔

حماس کے سیاسی شعبے کے رُکن خلیل حیہ نے غزہ میں اپنی پارٹی کے ہزاروں حامیوں کے اجتماع سے خطاب میں کہا کہ وہ جلد فتح اور رام اللہ اتھارٹی کےخلاف مزید ٹھوس ثبوت لائیں گے اور قوم کے سامنے ان کے تمام کالے کرتوت بے نقاب کریں گے۔ ان کے پاس غزہ میں ایندھن اور معاشی بحران پیدا کرنے والوں کے نام بھی موجود ہیں ۔

ادھر حماس کے زیر انتظام ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ انہیں غزہ کا بحران سنگین کرنے کے لیے فتح کے رہنماؤں، امریکی، اسرائیلی، عرب اور یورپی یونین کی شخصیات کے خفیہ اجلاسوں کے ثبوت ملے ہیں۔ تاہم انہیں یہ ثبوت کس ذریعے سے حاصل ہوئے اس کے بارے میں کچھ نہیں بتایا گیا۔

ڈاکٹر خلیل حیہ نے کہا کہ فتح پر توانائی کا بحران پیدا کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ "شہر میں ڈیڑھ ملین سے زائد لوگوں کی مشکلات کی ذمہ دار فتح اور مغربی کنارے کی حکمران قیادت ہے کیونکہ وہ حماس کی حکومت کا تختہ الٹنے کے لیے دشمنوں کے ساتھ ساز باز کر کے سازشیں کر رہی ہے"۔

انہوں نے بتایا کہ عرب مملکوں میں خفیہ اجلاسوں کے دوران حماس کی حکومت کےخلاف جو سازش تیار کی گئی اس کے کئی ابواب ہیں۔ ان میں غزہ کی پٹی میں توانائی کا بحران پیدا کرنا، عوام کو حماس کی حکومت کےخلاف سول نافرمانی کی تحریک برپا کرنا شہر میں پر تشدد کارروائیاں کرنا شامل ہیں۔

فتح کی قیادت پر الزام تراشی صرف ڈاکٹر خلیل حیہ کی جانب سے نہیں آئی بلکہ اسی طرح کی زبان حماس کے پارلیمانی بلاک کے ایک رکن مشیر المصری بھی استعمال کر چکے ہیں۔ ایک بیان میں انہوں نے کہا تھا کہ جب سے صدر محمود عباس کو عبوری وزارت عظمیٰ کا اضافی چارج دینے کی سفارش کی گئی ہے محمود عباس کی "ٹیون" ہی بدل گئی ہے۔ اب وہ حماس کےخلاف ایک نئی سازش تیار کر رہے ہیں۔ مشیر المصری نے اسرائیل اور فلسطینی اتھارٹی دونوں کو غزہ کی پٹی میں توانائی کے بحران کا قصور وار قرار دیا۔

"حماس مفاہمت کو سبوتاژ کر رہی ہے"

دوسری جانب مغربی کنارے میں حکمران جماعت الفتح نے حماس کی تنقید کو مسترد کر دیا ہے۔ فتح کے ترجمان احمد عساف نے حماس کی قیادت کے بیانات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اس نوعیت کی بیان بازی مفاہتمی مساعی کو تباہ کرنے کے مترادف ہے۔

ترجمان نے کہا کہ حماس کی قیادت کے سخت لب ولہجے سے غزہ کی پٹی میں فتح کی قیادت اور کارکنوں کی جانیں خطرے میں پڑ گئی ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ فتح کے رہ نماؤں کو کچھ ہوا تو اس کی تمام ترذمہ داری حماس پر عائد ہو گی۔

احمد عساف نے حماس رہ نما ڈاکٹر خلیل حیہ کی طرف سے غزہ میں توانائی بحران میں فتح کے ملوث ہونے کے دستاویزی ثبوت من گھڑت قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیے۔ انہوں نے کہا کہ فتح، اسرائیل، امریکا عرب ممالک کی شخصیات پر مشتمل خفیہ اجلاسوں کا کوئی ٹھوس ثبوت نہیں۔ اس طرح کی الزام تراشی فتح کو بدنام کرنے کی سازش ہے۔ انہوں نے استفسار کیا کہ اگر فتح نے اسرائیل اور امریکا کےحکام کے ساتھ خفیہ مذاکرات کیے ہیں تو ان کی تفصیلات حماس کو کیسے ملیں؟ کیونکہ حماس کا تو دعویٰ ہے کہ اس کے امریکا اور اسرائیل دونوں میں سے کسی سے کوئی روابط نہیں ہیں۔

فتح کے ترجمان کا کہنا تھا کہ رام اللہ حکومت صدر محمود عباس کی ہدایت پر ماہانہ 120 ملین ڈالرز کی رقم فراہم کر رہی ہے اورسنہ 2007ء کے بعد سے اب تک غزہ کو سات کروڑ ڈالرز ادا کیے جا چکے ہیں۔