اسرائیلی عدالت میں زیر حراست فلسطینی کھلاڑی کی بھوک ہڑتال

اسیر کے اہل خانہ کی"العربیہ ڈٹ نیٹ" کے توسط سے مدد کی اپیل

نشر في:

اسرائیلی جیل میں زیر حراست فلسطینی قومی فٹ بال ٹیم کے کھلاڑی اور ٹیم کے سابق رکن محمود السرسک نے اپنی بلا جواز گرفتاری کےخلاف بھوک ہڑتال شروع کر رکھی ہے اور آج اس کی بھوک ہڑتال چھٹے دن میں داخل ہو گئی ہے۔ دوسری جانب محروس کھلاڑی کے اہل خانہ نے "العربیہ ڈاٹ نیٹ" کے توسط سے عالمی برادری بالخصوص عرب اور عالمی فٹبال فیڈریشنز سے مدد کی اپیل کرتے ہوئے محمود کو رہائی دلوانےکے لیے اسرائیل پر دباؤ ڈالنےکا مطالبہ کیا ہے۔

محروس فلسطینی فٹبالرکے بھائی عماد نے "العربیہ ڈاٹ نیٹ" سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ اس کا بھائی گذشتہ ہفتے کے نصف سے بھوک ہڑتال پر ہے۔ محمود السرسک نے بھوک ہڑتال اس وقت شروع کی جب اسرائیل جیل انتظامیہ نے اسے چھے ماہ کے لیے مزید انتظامی حراست میں رکھنے کا فیصلہ کیا۔ صہیونی عدالت کی جانب سے سرسک کے مقدمہ کی کارروائی آگے بڑھاتے ہوئے کہا گیا کہ ملزم کو اسرائیل کے سوا دنیا کے کسی ملک میں نہیں لے جایا سکتا۔

ایک سوال کے جواب میں عماد کا کہنا تھا کہ اس کے محروس بھائی کو نہایت تکلیف دہ ماحول میں رکھا گیا ہے۔ صحرائی جیل "النقب" میں اسے ایک بالکل الگ تھلگ کوٹھڑی میں قید تنہائی میں ڈالا گیا ہے جہاں اس کےقریب کوئی دوسرا اسیربھی نہیں۔ ایک ہفتے سے جاری بھوک ہڑتال نے اسے اوربھی نڈھال کردیا ہے، لیکن اسیرمحمود سرسک اپنی رہائی تک بھوک ہڑتال جاری رکھنے پرمُصرہے۔

یاد رہے کہ محمود سرسک کو اسرائیلی فوج نے 23 جولائی 2009ء کو اس وقت حراست میں لے لیا تھا جب وہ غزہ کی پٹی سے بیت حانون کی "ایریز" راہداری سے مغربی کنارے میں داخل ہورہا تھا۔ مغربی کنارے میں اس کی آمد کا مقصد نابلس کے فٹ کلب کے تحت ہونے والے مختلف میچوں میں حصہ لینا تھا۔ حراست کے اس اڑھالہ سالہ عرصےمیں محروس پرکوئی الزام بھی عائد نہیں کیا گیا ہے۔ اس کے باوجود اسرائیلی عدالتیں ہر چھ ماہ کے بعد اس کی انتظامی حراست میں مزید چھ ماہ کا اضافہ کردیتی ہیں۔

ایک دوسرے سوال کے جواب میں محروس کے بھائی نے کہا کہ انہیں اور ان کے پورے خاندان کومحمود سرسک کی زندگی خطرے سے دوچاردکھائی دیتی ہے، کیونکہ اس کے ساتھ اسرائیلی انتظامیہ نے جو رویہ اپنا رکھا ہے اس سے ظاہرہوتا ہے کہ اسرائیل اس پرکوئی جعلی مقدمہ قائم کرکے طویل المدت قید کی سزا دینے کی منصوبہ بندی کررہا ہے۔ اسیر کے اہل خانہ کے ساتھ فلسطینی اسپورٹ کلب نے بھی محمود کی گرفتاری کوبلا جواز قراردیتے ہوئے اس کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔ فلسطین فٹبال یونین کی جانب سے انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں اور فلسطینی انتظامیہ کے منفی کرداربھی سخت نکتہ چینی کی جاتی رہی ہے۔