منگل 07 جمادى الأولى 1434هـ - 19 مارچ 2013م
آخری وقت اشاعت: پیر 03 جمادى الأولى 1433هـ - 26 مارچ 2012م KSA 18:06 - GMT 15:06

حقائق اکٹھا کرنے والی ٹیم کو روکنے کے لیے اقدام

اسرائیل نے یواین انسانی حقوق کونسل سے تعلقات منقطع کرلیے

پیر 03 جمادى الأولى 1433هـ - 26 مارچ 2012م
اسرائیل مغربی کنارے پر قبضے کے بعد وہاں پانچ لاکھ یہودیوں کو بسا چکا ہے۔
اسرائیل مغربی کنارے پر قبضے کے بعد وہاں پانچ لاکھ یہودیوں کو بسا چکا ہے۔
مقبوضہ بیت المقدس۔العربیہ ڈاٹ نیٹ


اسرائیل نے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کی جانب سے مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینیوں کی سرزمین پربسائی گئی یہودی بستیوں کی تحقیقات کے فیصلہ کے بعد اس کے ساتھ روابط منقطع کرلیے ہیں۔

اسرائیلی وزارت خارجہ کے ترجمان یگال پالمر نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ''وزارت خارجہ نے اس تنظیم (اقوام متحدہ، انسانی حقوق کونسل) کے ساتھ روابط کار منقطع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔البتہ اسرائیل نے ابھی کونسل کو اس فیصلے سے مطلع نہیں کیا ہے''۔

ترجمان کے مطابق اسرائیل نے یہودی بستیوں کی تعمیر سے متعلق تحقیقات کے لیے آنے والی اقوام متحدہ کی ٹیم کو بھی اسرائیلی علاقے یا مغربی کنارے میں داخل ہونے سے روکنے کا فیصلہ کیا ہے۔واضح رہے کہ اسرائیل اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل پر یہ الزام عاید کرچکا ہے کہ وہ اس کے خلاف متعصبانہ پالیسی پر عمل پیرا ہے۔

جنیوا میں قائم انسانی حقوق کونسل نے گذشتہ ہفتے ایک قرارداد کی منظوری دی تھی جس میں مقبوضہ مغربی کنارے اور مشرقی القدس میں یہودی آبادکاروں کے لیے تعمیرات کی مذمت کی گئی تھی اور اسرائیل کی یہودی آبادکاری سے متعلق سرگرمیوں کی تحقیقات کے لیے ایک فیکٹ فائنڈنگ مشن کو علاقے میں بھیجنے کا فیصلہ کیا تھا۔اسرائیلی لیڈر یواین کونسل کے اس اقدام پر چراغ پا ہیں اوراب وہ کونسل کے ساتھ تعلقات منقطع کرنے کے اعلانات کررہے ہیں۔

انتہا پسند صہیونی وزیرخارجہ ایویگڈور لائبرمین نے سوموار کو ایک بیان میں کہا ہے کہ ''اسرائیل کونسل کے ساتھ اپنے تعلقات منقطع کررہا ہے اور اس کا یہ مطلب ہے کہ ہم اس کے ساتھ کام کرنے نہیں جارہے ہیں اورنہ ہم کونسل کے کسی تحقیقاتی مشن کو کام کرنے کی اجازت دیں گے''۔

دوسری جانب فلسطینی یو این کونسل کے تحقیقاتی مشن کویہودی آبادکاری سے متعلق دستاویزات اور شواہد پیش کرنے کے لیے اکٹھے کررہے ہیں۔سنئیر فلسطینی عہدے دار نبیل شعت نے بتایا ہے کہ مغربی کنارے اور مقبوضہ القدس میں تعمیر کی گئی یہودی بستیوں کے نقشے اور تصاویر تیار کی جارہی ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ''اسرائیل انسانی حقوق کونسل کے ساتھ اپنے روابط کو منقطع کرکے تحقیقاتی عمل کو روک نہیں سکتا۔ہم اسرائیلی قبضے کے خلاف تحقیقات کرنے اور اس پر پابندیاں عاید کرنے والے کسی بھی بین الاقوامی ادارے سے رجوع کریں گے''۔

واضح رہے کہ عالمی برادری کا بڑا حصہ دریائے اردن کے مغربی کنارے میں اسرائیل کے زیر قبضہ فلسطینی علاقوں پر یہودی بستیوں کو عشروں پرانے تنازعے کے حل میں بڑی رکاوٹ سمجھتا ہے اور وہ صہیونی ریاست سے ان بستیوں کو منجمد کرنے کا مطالبہ کرتا چلا آرہا ہے جبکہ اسرائیل نے امریکا کی پشت پناہی سے یہودی آبادکاروں کے لیے ان تعمیرات کو جاری رکھا ہوا ہے اور امریکا نے کبھی اس پر اسرائیل کے خلاف اپنے مخالف دوسرے ممالک کی طرح کوئی اقدام نہیں کیا بلکہ وہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اسرائیل کے خلاف پیش کی گئی قراردادوں کو ویٹو کرتا چلا آرہا ہے۔

اسرائیلی فوج نے انیس سوسڑسٹھ کی جنگ میں مغربی کنارے اورغزہ کی پٹی پر قبضہ کیا تھا جس کے بعد سے اب تک وہ پانچ لاکھ سے زیادہ یہودی آبادکاروں کو مقبوضہ بیت المقدس شہر، اس کے نواح اور مغربی کنارے کے دوسرے علاقوں میں بسا چکا ہے۔اسرائیل نے دوہزار پانچ میں غزہ کی پٹی کو سکیورٹی وجوہات کی بنا پر خالی کر دیا تھا اور وہاں بسائے گئے یہودی آبادکاروں اورتعینات فوج کو واپس بلا لیا تھا لیکن تب سے اسرائیلی فوج نے غزہ کی پٹی کا زمینی ،فضائی اور بحری محاصرہ کر رکھا ہے۔