افغانستان: مسلح افغان کے حملے میں دو برطانوی فوجی ہلاک

نیٹو فوجیوں کی جوابی فائرنگ سے حملہ آور مارا گیا

نشر في:


افغانستان کے جنوبی علاقے میں افغان فوج کی وردی میں ملبوس ایک مسلح شخص نے فائرنگ کرکے دوبرطانوی فوجیوں کو ہلاک کردیا ہے۔

نیٹو کے ایک عہدے دار نے برطانوی فوجیوں کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔اس عہدے دار نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ یہ واقعہ جنوبی صوبہ ہلمند کے دارالحکومت لشکرگاہ میں نیٹو کے مرکزی فوجی اڈے پر سوموار کی صبح پیش آیا ہے۔برطانوی وزارت دفاع نے بھی اس واقعہ کے بارے میں باخبر ہونے کی تصدیق کی ہے لیکن اس سے متعلق مزید کوئی معلومات جاری کرنے یا برطانوی فوجیوں کی ہلاکت کی تصدیق کرنے سے انکار کیا ہے۔

نیٹو فوج کے ترجمان میجر جیسن ویگنر نے ایک بیان میں کہا ہے کہ افغان فوج کی وردی میں ملبوس مسلح شخص نے اپنے ہتھیار سے بین الاقوامی فوجیوں پر فائرنگ کردی تھی اور اتحادی فوجیوں نے جوابی فائرنگ کرکے اسے موقع پر ہی ہلاک کردیا۔تاہم ترجمان نے واقعہ کی مزید کوئی تفصیل نہیں بتائی۔

واضح رہے کہ جنگ زدہ ملک میں گذشتہ سال سے افغان قومی فوج کی وردی میں ملبوس حملہ آوروں کے قابض فوجیوں پر حملوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے اور اس کی طرح کی کارروائیوں کو ''سبز وردی والوں کے نیلی وردی والوں'' پر حملوں کا نام دیا جارہا ہے۔

گذشتہ ماہ امریکی فوجیوں کے ہاتھوں بگرام کے ہوائی اڈے پر قرآن مجید کی بے حرمتی اور اس کے نسخے نذرآتش کرنے کے واقعہ کے بعد اس طرح کے حملوں میں چھے امریکی فوجیوں کو ہلاک کیا جاچکا ہے۔ افغانوں نے اس واقعہ پرشدید احتجاج کیا تھا اور ملک بھر میں ان کے ایک ہفتے تک جاری رہے احتجاجی مظاہروں کے دوران تیس سے زیادہ افراد ہلاک ہوگئے تھے۔افغانوں نے اپنے احتجاجی مظاہروں کے دوران ملک سے امریکی فوج کے جلد سے جلد انخلاء کا مطالبہ کیا تھا۔

امریکی محکمہ دفاع پینٹاگان کے فراہم کردہ اعدادوشمار کے مطابق سن دوہزار سات کے بعد افغان فوجیوں یا ان کی وردی میں ملبوس مسلح افراد نے نیٹو کے فوجیوں پر پینتالیس حملے کیے ہیں اور ان میں سے پچھہتر فی صد گذشتہ دوسال کے دوران کیے گئے ہیں۔افغان فوج کی وردی مارکیٹ میں بآسانی دستیاب ہے اور افغان مزاحمت کار یہ وردی پہن کر غیرملکی فوجیوں پر حملوں کے لیے ان کے اڈوں تک پہنچنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں جبکہ افغان اور نیٹو فوج حفاظتی تدابیر کے باوجود ایسے حملوں کی روک تھام میں ناکام ہیں۔

ہلمند میں برطانوی فوجیوں کی ہلاکت کا یہ واقعہ ایک امریکی فوجی کے ہاتھوں سترہ افغان دیہاتیوں کے اندوہناک قتل کے دوہفتے کے بعد پیش آیا ہے۔اس امریکی فوجی نے گیارہ مارچ کو جنوبی صوبہ قندھار کے ضلع پنجوائی کے دودیہات میں کسی محرک کے بغیر اپنی نو ایم ایم کی پستول اور ایم چارکی بندوق کے ساتھ گھروں میں گھس کر بے گناہ افغانوں پر فائرنگ کردی تھی جس کے نتیجے میں نو افغان بچے اور آٹھ بالغ قتل ہوگئے تھے۔اس قاتل فوجی پرامریکا میں ایک فوجی عدالت میں قتل عمد کے سترہ اور ارادہ قتل اور شہریوں پر حملے کے چھے ،چھے الزامات میں فرد جرم عاید کردی گئی ہے جس کے نتیجے میں اسے سزائے موت کا سامنا ہو سکتا ہے۔