منگل 07 جمادى الأولى 1434هـ - 19 مارچ 2013م
آخری وقت اشاعت: پیر 03 جمادى الأولى 1433هـ - 26 مارچ 2012م KSA 22:51 - GMT 19:51

شامی فورسز پر شہریوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرنے کا الزام

کوفی عنان کی شامی بحران پر روس میں بات چیت کے بعد چین آمد

پیر 03 جمادى الأولى 1433هـ - 26 مارچ 2012م
اقوام متحدہ کے سابق سیکرٹری جنرل کوفی عنان اور روسی وزیرخارجہ سرگئی لاروف۔
اقوام متحدہ کے سابق سیکرٹری جنرل کوفی عنان اور روسی وزیرخارجہ سرگئی لاروف۔
دبئی۔العربیہ ڈاٹ نیٹ


اقوام متحدہ اور عرب لیگ کے خصوصی ایلچی برائے شام کوفی عنان روس کے دارالحکومت ماسکو میں روسی قیادت سے شامی بحران پر بات چیت کے بعد چین پہنچ گئے ہیں جبکہ انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے شامی فوج پر بچوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرنے کا الزام عاید کیا ہے۔

روسی صدر دمتری میدویدیف نے کوفی عنان سے بات چیت کے دوران انھیں نے ان کے شام میں مشن کے لیے اپنی مکمل حمایت کا یقین دلایا ہے اور کہا ہے کہ ان کا مشن شام میں خونریز خانہ جنگی سے بچنے کے لیے آخری موقع ہوسکتا ہے۔تاہم اس کی کامیابی کے لیے مزید وقت درکار ہوگا۔

روس نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ شامی صدر بشارالاسد کے مخالفین کے لیے غیرملکی حمایت امن کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے جبکہ عرب اور مغربی حکام شامی حزب اختلاف کے مختلف دھڑوں کو یک جا کرنے اور ان کی امداد کے لیے ترکی کے دارالحکومت انقرہ مں دوسری دوستان شام کانفرنس کی تیاریوں میں مصروف ہیں۔

کوفی عنان کے ترجمان احمد فوزی نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ انھوں نے ماسکو میں روسی قیادت سے جامع بات چیت کی ہے۔ وہ روس کی جانب سے شامی بحران کے پُرامن حل کے لیے اپنی ثالثی کی کوششوں کی بھرپور حمایت پر اس کے شکرگزار ہیں اور انھوں نے روس سے کہا ہے کہ وہ ان کی حمایت کا سلسلہ جاری رکھے۔

فوری طور یہ واضح نہیں ہوا کہ روس اپنے اتحادی شامی صدر بشارالاسد پر کوفی عنان کے امن منصوبے پر عمل درآمد کے لیے دباؤ ڈالے گا یا نہیں۔اس امن منصوبے میں شامی فورسز اور حزب اختلاف کے درمیان فوری جنگ بندی اور شامی شہروں سے سرکاری فوج کو اس کے بھاری اسلحے سمیت واپس بلانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

درایں اثناء نیویارک میں قائم انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے شامی فوج پر ملک کے شمالی علاقے میں شہریوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرنے کا الزام عاید کیا ہے۔

تنظیم کا کہنا ہے کہ لوگوں کو باغیوں کی جانب پیش قدمی کے وقت فوجیوں کے آگے چلنے پر مجبور کیا جارہا ہے اور علاقے کے مکینوں نے اطلاع دی ہے کہ سرکاری فوج بچوں کو ٹینکوں اور سکیورٹی بسوں کے آگے ڈھال کے طور پر استعمال کرتی رہی ہے۔

ایچ آر ڈبلیو کے ایک تحقیقات کار اولے سالوینگ نے تنظیم کی جاری کردہ رپورٹ میں بتایا ہے کہ ''شامی فوج کی جانب سے انسانی ڈھالوں کے استعمال سے ایک اور جواز سامنے آگیا ہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو شام کا معاملہ ہیگ میں قائم عالمی فوجداری عدالت میں بھیجنا چاہیے''۔

اس رپورٹ میں شام کے شمال مغربی صوبہ ادلب کے مکینوں کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ صدر بشارالاسد کے وفاداروں نے انھِیں باغیوں کے ٹھکانوں کی جانب پیش قدمی کرتے ہوئے فوجیوں کے آگے آگے چلنے پر مجبور کیا تھا۔اس طرح اس نے مقامی لوگوں کی زندگیوں کو خطرات سے دوچار کردیا تھا۔