منگل 07 جمادى الأولى 1434هـ - 19 مارچ 2013م
آخری وقت اشاعت: بدھ 05 جمادى الأولى 1433هـ - 28 مارچ 2012م KSA 01:07 - GMT 22:07

براک اوباما یہودی ووٹروں کی حمایت کے حصول کے لیے کوشاں

امریکا، اسرائیل کے میزائل دفاعی نظام کے لیے مزید فنڈز دے گا

بدھ 05 جمادى الأولى 1433هـ - 28 مارچ 2012م
واشنگٹن۔العربیہ ڈاٹ نیٹ


امریکی محکمہ دفاع پینٹاگان کا کہنا ہے کہ وہ کانگریس سے اسرائیل کے کم فاصلے کے میزائل دفاعی نظام''آئرن ڈوم'' کے لیے مزید فنڈز دینے کی درخواست کرے گا۔

اسرائیل کا یہ میزائل دفاعی نظام حال ہی میں غزہ کی جانب سے فائر کیے گئے راکٹوں میں سے اسی فی صد کو روکنے میں کامیاب رہا ہے۔واضح رہے کہ آئرن ڈوم راکٹ اور مارٹر شیلڈ دفاعی نظام اسرائیل کے سرکاری ادارے رافیل ایڈوانسڈ ڈیفنس سسٹم لمیٹڈ نے تیار کیا تھا اور اس کے اخراجات امریکا نے برداشت کیے تھے۔

امریکی کانگریس نے مالی سال دوہزار گیارہ میں اس کے لیے بیس کروڑ پچاس لاکھ ڈالرز کے فنڈز کی منظوری دی تھی۔ یہ مالی سال تیس ستمبر کو ختم ہوگیا تھا اور اب امریکی صدر براک اوباما کی انتظامیہ کانگریس سے اس سال کے لیے اضافی فنڈز دینے کی منظوری کے لیے کہے گی۔

اس میزائل دفاعی نظام کو لبنان اور غزہ کی پٹی کی جانب سے آنے والے میزائلوں اور راکٹوں کو روکنے کے لیے تیار کیا گیا ہے اور امریکا اس میزائل دفاعی نظام کے لیے ایسے وقت میں مزید فنڈز دینے کا خواہاں ہے جب اسرائیل ایران کی جوہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کی تیاری کررہا ہے جبکہ اوباما انتظامیہ اس وقت ایران پر اسرائیلی حملے کی مخالفت کررہی ہے اور اس کا کہنا ہے کہ ایران کے جوہری بحران کے حل کے لیے سفارت کاری کو موقع دیا جانا چاہیے۔

لیکن دوسری جانب امریکا میں انتخابات کے سال صدر براک اوباما اسرائیل کی دفاعی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے مکمل حمایت کا اظہار بھی چاہتے ہیں تاکہ وہ ایک مرتبہ پھر یہودی ووٹروں کی حمایت حاصل کرنے میں کامیاب ہوسکیں۔دوہزار آٹھ میں منعقدہ صدارتی انتخابات میں انھوں نے یہودیوں کے ہردس میں سے آٹھ ووٹ حاصل کیے تھے۔

پینٹاگان کے ترجمان جارج لٹل نے ایک بیان میں کہا کہ اسرائیل کی سکیورٹی کی حمایت صدر اوباما اور وزیردفاع لیون پینیٹا کی اولین ترجیح ہے۔انھوں نے کہا کہ میزائل دفاعی نظام نے اسی ماہ کے آغاز میں غزہ کی پٹی سے فائر کیے گئے راکٹوں کو روکنے اور اسرائیل کی سکیورٹی میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ترجمان کے بہ قول غزہ کی پٹی سے جنوبی اسرائیل کی جانب کم سے کم تین سو راکٹ اور مارٹر فائر کیے گئے تھے اور آئرن ڈوم نے ان میں سے اسی فی صد کو ہدف کو نشانہ بنانے سے روکا تھا۔