امریکا میں ایک مسافر طیارے کے پائلٹ کو دوران پرواز اچانک ہسٹریا کا دورہ پڑا جس کے باعث قریب تھا کہ طیارہ گر کر تباہ ہو جاتا تاہم مسافروں نے "دماغی توازن کھو جانے والے "پائلٹ اوسان بحال کرانے میں مدد کی جس کے بعد مسافروں میں موجود ایک پائلٹ نے طیارے کو بہ حفاظت ہوائی اڈے پر اتار لیا۔
"العربیہ ڈاٹ نیٹ" کے مطابق امریکی طیارے کے پائلٹ کے ساتھ یہ حادثہ بدھ کو علی الصباح اس وقت پیش آیا جب وہ نیویارک سے "لاس ویگاس" جا رہا تھا۔ طیارے میں 193 مسافر سوار تھے۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ پائلٹ کے دماغ پر اچانک پڑنے والے اثر کے باعث اس نے اونچی آواز میں القاعدہ، افغانستان، دہشت گردی، عراق اور اسرائیل کے الفاظ بڑبڑانا شروع کر دیئے۔
مسافروں نے ہمت کرکے پائلٹ پر قابو پانے کے بعد اسے جہاز کی ایک سیٹ کے ساتھ باندھ دیا جبکہ مسافروں ہی میں سے جہاز اڑانے میں مہارت رکھنے والے ایک شخص نے کاک پٹ کا کنٹرول سنبھالنے کے بعد طیارے کو بہ حفاظت ریاست ٹیکساس کے "اماریللو" ہوائی اڈے پر اتار دیا۔
اطلاعات کے مطابق طیارے کے ساتھ پیش آنے والے اس واقعے کی خبر اسی طیارے کی مالک کمپنی "جیٹ بلیو" کی جانب سے جاری کی گئی ہے جس میں پائلٹ کے ساتھ پیش آئے واقعے کی تصدیق بھی کی گئی ہے۔ عینی شاہدین کے مطابق پائلٹ نے جب چیخ پکار کے ساتھ طیارے میں اچھل کود شروع کی تو کوئی چھے سے دس مسافروں نے اسے قابو کر کے نشست کی سیٹ بیلٹ کے ساتھ باندھ دیا۔
عینی شاہدین نے بتایا کہ طیارے کا پائلٹ 49 سالہ کلائٹون اوسپورن کاک پٹ سے نکل کر ٹائلٹ میں گیا اور کافی دیرتک واپس نہ آیا۔ جب ٹائلٹ سے باہر نکلا تو وہ ہوش وحواس میں نہ تھا۔ اس کی زبان پر القاعدہ، دہشت گردی، اسرائیل، عراق اور افغانستان کے الفاظ کی گردان تھی اور وہ نہایت خوف کے عالم میں تمام مسافروں سے دعاؤں کی درخواست کر رہا تھا۔ وہ بار بار القاعدہ، افغانستان اور عراق کا نام لیتا اور کہتا یہ طیارہ ابھی ہمارے اوپر گرنے والا ہے۔ آپ سب لوگ دعا کریں۔ اپنے رب کو یاد کریں۔ اسی کیفیت میں ایک دوسرے مسافرنے طیارے کا کنٹرول سنھبالنے کے بعد اسے ہنگامی طور پر ایک قریبی ہوائی اڈے پر اتار دیا۔ ہوائی اڈے پر"ایف بی آئی" کے اہلکار اور دماغی معائنہ کار موجود تھے، جو متاثرہ پائلٹ کو اپنے ساتھ لے گئے۔