عالمی فوجداری عدالت کو جنگی جرائم کے الزامات میں مطلوب سوڈانی صدر عمرحسن البشیر عرب لیگ کے سربراہ اجلاس میں شرکت کے لیے خرطوم سے بغداد کے لیے روانہ ہوگئے ہیں۔
سوڈان کے سرکاری ریڈیو نے بدھ کو پچھلے پہر صدر بشیر کے اپنے وفد کے ہمراہ خرطوم سے روانہ ہونے کی اطلاع دی ہے۔عراقی صدر جلال طالبانی کے دفتر نے گذشتہ اتوار کو اعلان کیا تھا کہ عمر حسن البشیر عرب سربراہ اجلاس میں شرکت کریں گے لیکن سوڈان کی جانب سے اس کے بعد کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا تھا۔
عراقی وزارت خارجہ نے اپنی ویب سائٹ پر اطلاع دی ہے کہ سوڈانی صدر بشیر کے تحفظ کی سو فی صد ضمانت دی جاتی ہے اورعرب سربراہ اجلاس کے دوسرے شرکاء کا بھی اسی طرح تحفظ کیا جائے گا۔واضح رہے کہ عراق نے عالمی فوجداری عدالت (آئی سی سی ) کے قیام سے متعلق روم معاہدے پر دستخط نہیں کیے تھے۔اس لیے وہ سوڈانی صدر کو گرفتار کرنے کا پابند نہیں ہے۔
عرب لیگ کے رکن بائیس ممالک کے سربراہان حکومت اور ریاست کا جمعرات کو بغداد میں اجلاس ہورہا ہے جس میں عرب دنیا کو درپیش مسائل اور خاص طور پر شام میں جاری بحران کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا جائے گا۔انیس سو نوے میں سابق مصلوب صدر صدام حسین کی فوجوں کی کویت پر چڑھائی کے بعد عراق میں عرب لیگ کا یہ پہلا سربراہ اجلاس ہے۔
عراقی حکومت نے عرب سربراہ اجلاس کے موقع پربغداد میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے ہیں اور سکیورٹی فورسز کے ہزاروں اضافی اہلکار تعینات کیے گئے ہیں جبکہ دارالحکومت میں چیک پوائنٹس پرٹریفک کے ازدحام سے بچنے کے لیے حکومت نے پانچ روز کے لیے عام تعطیل کردی ہے۔
واضح رہے کہ سوڈانی صدرعمرحسن البشیر کے خلاف ہیگ میں قائم عالمی فوجداری عدالت (آئی سی سی) نے مارچ 2009ء میں دارفور میں انسانیت کے خلاف جرائم کے پانچ الزامات اورجنگی جرائم کے دوالزامات پروارنٹ گرفتاری جاری کیے تھے جس کے بعد وہ گرفتاری سے بچنے کے لیے صرف انھی ممالک کے دورے کررہے ہیں جن کے ساتھ ان کے اچھے تعلقات استوار ہیں۔سوڈانی صدر نے اس سے قبل جنوری میں لیبیا کا دورہ کیا تھا۔
اس عالمی عدالت نے لیبیا کے سابق مرد آہن معمر قذافی کے خلاف بھی انسانیت مخالف جرائم میں ملوث ہونے کے الزامات میں وارنٹ گرفتاری جاری کیے تھے لیکن اکتوبر میں لیبیا کے باغی جنگجوٶں نے انھیں گرفتارکرنے کے فوری بعد ہی بے دردی سے قتل کردیا تھا اور ان کے خلاف اس عالمی عدالت یا کسی اور عدالت میں مقدمہ چلانے کی نوبت ہی نہیں آنے دی تھی۔
عالمی فوجداری عدالت نے جولائی 2010ء میں سوڈانی صدربشیر کے خلاف نسل کشی کے الزامات پر فردجرم عاید كركے دوسری مرتبہ ان کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے تھے۔اس سے پہلے ان پرعاید کی گئی فرد جُرم میں انسانیت کے خلاف جرائم، قتل، ہلاکتوں، تشدد اور آبروریزی کے سات الزامات شامل کیے گئے تھے لیکن سوڈانی صدرعالمی فوجداری عدالت کے دائرہ کار کو تسلیم کرنے سے انکارکرچکے ہیں۔
یادرہے کہ سوڈان کے مغربی علاقے دارفور سے تعلق رکھنے والے غیرعرب باغیوں نے 2003ء میں خرطوم کی مرکزی حکومت کے خلاف اس کی مبینہ زیادتیوں پر ہتھیار اٹھائے تھے۔تب سے باغیوں اورسرکاری سکیورٹی فورسز کے درمیان لڑائی میں ہزاروں افراد ہلاک اورلاکھوں بے گھرہوچکے ہیں لیکن ان کی تعداد کے بارے میں مختلف اعدادوشمار پیش کیے جاتے رہے ہیں۔ اقوام متحدہ کے اعدادوشمار کے مطابق دارفورمیں 2003ء کے بعد سے کم سے کم تین لاکھ افراد ہلاک اور ستائیس لاکھ سے زیادہ بے گھر ہوچکے ہیں جبکہ سوڈانی حکومت کا کہنا ہے کہ خانہ جنگی میں صرف دس ہزار افراد مارے گئے ہیں۔