امریکا نے شامی صدر بشار الاسد پر الزام عاید کیا ہے کہ وہ اقوام متحدہ، عرب لیگ امن منصوبہ پر وعدے کے باوجود عمل درآمد کرنے میں ناکام رہے ہیں۔
امریکی محکمہ خارجہ کی خاتون ترجمان وکٹوریا نولینڈ نے واشنگٹن میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ شامی صدر بشار الاسد نے اقوام متحدہ کے سابق سیکرٹری جنرل کوفی عنان کی جانب سے بحران کے حل کے لیے پیش کردہ امن منصوبے پر عمل درآمد کے لیے ضروری اقدامات نہیں کیے ہیں۔
مس نولینڈ نے کہا کہ ''امریکا کو شام میں گرفتاریوں اور تشدد کی جاری کارروائیوں پر تشویش ہے اور وہ بشار الاسد پر تشدد کے خاتمے کے لیے دباؤ جاری رکھے گا۔ہم ان کے وعدوں کو نہیں، عملی اقدامات کو دیکھیں گے''۔
وہ شامی فورسز کی باغیوں کے ایک مرکز میں بدھ کو نئی کارروائی کا حوالہ دے رہی تھیں حالانکہ بشار الاسد نے ایک روز قبل ہی کوفی عنان کے امن منصوبہ اور شہروں سے ٹینکوں کی واپسی کے لیے حزب اختلاف کے مطالبہ کو تسلیم کرنے کا اعلان کیا تھا۔
اس دوران لندن میں قائم شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق نے اطلاع دی ہے کہ شامی فورسز نے ٹینکوں کے ساتھ وسطی شہر قلعۃ المضیق اور اس کے نواحی دیہات میں حکومت مخالفین کے خلاف نئی کارروائی شروع کی ہے اور فوجی سترہ روز تک گولہ باری کے بعد صوبہ حماہ میں واقع اس شہر میں داخل ہو گئے ہیں۔
آبزرویٹری کی اطلاع کے مطابق شہر میں باغیوں اور سرکاری فوج کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئی ہیں اور سرکاری فوجی باغیوں کی مزاحمت کی وجہ سے پیش قدمی کرنے میں ناکام رہے ہیں جبکہ شدید فائرنگ اور دھماکوں کی آوازیں قریبی دیہات میں بھی سنی جاسکتی تھیں۔
ابو غازی نامی ایک مقامی کارکن نے بیروت سے اطلاع دی ہے کہ سرکاری فوج کی طاقت میں برتری کی وجہ سے باغی آزاد شامی فوج کے مسلح جنگجو شہر سے نکل گئے ہیں۔قلعۃ المضیق شہر میں ایک تاریخی قلعہ واقع ہے جس کو لڑائی کے دوران گولہ باری سے نقصان پہنچا ہے اور اس کی ایک ویڈیو یوٹیوب پر پوسٹ کی گئی ہے۔
آبزرویٹری نے یہ بھی بتایا ہے کہ شمال مغربی صوبہ ادلب ، وسطی شہر حمص اور جنوبی صوبہ درعا میں بھی سرکاری فوج اور باغیوں کے درمیان جھڑپیں ہوئی ہیں۔ مبصرین کے مطابق ایک روز قبل شامی حکومت کی جانب سے کوفی عنان کے امن منصوبہ کو تسلیم کرنے کے اعلان کے باوجود بر سرزمین تشدد کے واقعات میں کوئی کمی واقع نہیں ہوئی اور شامی فورسز نے حسب سابق حکومت مخالفین کے خلاف اپنی کارروائیاں جاری رکھی ہوئی ہیں۔