فرانس کے جنوبی شہر تولوز میں پولیس کارروائی میں گذشتہ ہفتے مارے گئے مسلم نوجوان محمد مراح کو بعض حکومتی عہدے داروں کے احتجاج کے باوجود دفن کردیا گیا ہے۔
اس سے پہلے الجزائر کے حکام نے محمد مراح کی میت کو قبول کرنے اور اس کی ملک میں تدفین کی اجازت دینے سے انکار کردیا تھا جس کے بعد ان کے خاندان نے اس کو فرانس ہی میں دفن کرنے کا فیصلہ کیا۔
پیرس کی جامع مسجد کے امام اور مسلم کونسل کے لیڈر عبداللہ زکری نے فرانسیسی خبررساں ادارے ایف پی کوتولوز میں بتایا کہ محمد مراح کے خاندان نے الجزائری حکام کے انکار کے بعد انھیں چوبیس گھنٹے میں میت کی تدفین کے لیے انتظامات کرنے کا کہا تھا۔
انھوں نے بتایا کہ الجزائر نے سکیورٹی وجوہات کی بنا پر محمد مراح کو ان کے خاندان کے آبائی قبرستان میں دفن کرنے کی اجازت دینے سے انکار کردیا تھاجس کے بعد مقتول کو تولوز کے کارن بیرئیو قبرستان کے مسلم حصے میں جمعرات کو ایک بے نامی قبر میں اتار دیا گیا ہے۔ان کی نماز جنازہ اور تدفین کے عمل میں دس پندرہ نوجوان شریک تھے اور پولیس نے صحافیوں کو قبرستان کی جانب نہیں جانے دیا۔
تولوز کے مئیر کا کہنا تھا کہ وہ محمد مراح کی اپنے شہر میں تدفین نہیں چاہتے اور انھوں نے یہ بھی اعلان کیا کہ میت کی تدفین کا عمل چوبیس گھنٹے کے لیے موخر کردیا گیا ہے لیکن عبداللہ زکری نے ان کے اس اعلان کی مذمت کی اور کہا کہ تدفین میں تاخیر کا کوئی جواز نہیں تھا ،محمد مراح فرانسیسی شہری تھا اور اسے فرانس ہی میں دفن کیا جانا چاہیے تھا۔انھوں نے کہا کہ میت کی بے توقیری کے خدشے کے پیش نظر محمد مراح کی قبر کو بے نام رکھا گیا ہے۔
گذشتہ جمعرات کو فرانسیسی پولیس نے سات افراد کے مبینہ قاتل تئیس سالہ مسلم نوجوان محمد مراح کو محاصرے کی کارروائی کے دوران ہلاک کردیا تھا۔پولیس نے جنوبی شہر تولوز میں اس کے اپارٹمنٹ کا تیس ،بتیس گھنٹے تک محاصرہ کیے رکھا تھا۔ فرانسیسی حکام کے بہ قول محمد مراح کے سرمیں گولیوں کے نشان تھے اور وہ انھی کے زخموں کی تاب نہ لاکر ہلاک ہواتھا۔
فرانسیسی حکومت نے بدھ کو محمد مراح کی میت الجزائر لے جانے کی اجازت دے دی تھی۔ اس کا جسد خاکی جمعرات کو ائیرالجزائر کی پرواز کے ذریعے فرانس سے لے جایا جانا تھا۔ میت کے ساتھ مرحوم کی والدہ اور بہن نے جانا تھا اور اسے الجزائر کے جنوبی علاقے میں دفن کیا جانا تھا لیکن الجزائر کے انکار کے بعد فرانسیسی صدر نکولا سارکوزی نے اس کی میت کو تولوز ہی میں دفن کرنے کی اجازت دے دی اور کہا ہے کہ اب اس باب کو بند کیا جانا چاہیے۔
قبل ازیں محمد مراح کے والد نے فرانسیسی پولیس کے خلاف اپنے بیٹے کی ہلاکت پر قانونی چارہ جوئی کا اعلان کیا ہے اور اس سلسلہ میں انھوں نے ایک الجزائری وکیل کی خدمات حاصل کرلی ہیں۔
الجزائری وکیل ضحییٰ مختاری نے بتایا ہے کہ محمد بن مراح کے والد محمد بن الیل مراح منگل کو الجزائر میں ہمارے دفتر میں آئے تھے اور انھوں نے ہمیں فرانسیسی سکیورٹی سروسز کے خلاف ان کے بیٹے کی زندہ گرفتاری کے لیے طے شدہ طریق کار اختیار نہ کرنے پر قانون چارہ جوئی کرنے کے لیے کہا ہے''۔
اس خاتون وکیل کا کہنا تھا کہ''جناب مراح کے خیال میں ان کے بیٹے کو پولیس کارروائی میں قتل کیا گیا ہے اور انھوں نے فرانسیسی سکیورٹی سروسز کے خلاف مقدمہ دائر کرنے کے لیے کہا ہے اور ہم محمد مراح کی تدفین کے بعد اس ضمن میں کارروائی شروع کریں گے''۔
بن الیل مراح نے فرانسیسی ریڈیو24سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ''پولیس نے تولوز میں ان کے بیٹے کے فلیٹ کا کئی گھنٹے تک محاصرہ کیے رکھا تھا اور وہ نیندآور گیس کا استعمال کرکے اسے ایک بچے کی طرح پکڑ سکتی تھی''۔
انھوں نے سوال کیا کہ ''پولیس والے اتنی عجلت میں کیوں تھے؟انھوں نے ان کے بیٹے کو کیوں قتل کیا ہے؟جرم ثابت ہونے کی صورت میں اسے کئی سال تک جیل کی سزا یا عمر قید کی سزا سنائی جاسکتی تھی کیونکہ فرانس میں موت کی سزا نہیں ہے''۔
دوسری جانب فرانسیسی وزیرخارجہ الین جوپے نے ریڈیو کلاسیک سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پولیس کے ہاتھوں اپنے بیٹے کی ہلاکت پر مقدمہ چلانے کا اعلان کرنے والے والد کو تو شرم سے ہی اپنا منہ بند رکھنا چاہیے۔انھوں نے کہا کہ ''اگر میں اس عفریت کا والد ہوتا تو میں شرم سے ہی اپنا منہ بند کرلیتا''۔
فرانسیسی صدر نکولا سارکوزی کے ایک سنئیر مشیر ہینری گیانو نے بھی محمد مراح کے والد کی جانب سے قانون چارہ جوئی کی دھمکی کی مذمت کی ہے۔انھوں نے کہا کہ ''یہ ان کا حق ہے لیکن اس ضمن میں ذہن میں ایک ہی لفظ آتا ہے کہ یہ غیر شائستہ اقدام ہوگا کیونکہ یہ لڑکا ایک عفریت تھا اور اس نے بے گناہوں کا خون بہایا تھا''۔
محمد مراح پرگیارہ مارچ کو تین فوجیوں اور پندرہ مارچ کو تین یہودی بچوں اور ایک ربی کو قتل کرنے کا الزام عاید کیا گیا تھا اور مبینہ طور پر اس نے ان افراد کی ہلاکت کا اعتراف کیا تھا۔محمد مراح نے اپنی ہلاکت سے قبل اپنے فلیٹ کے قریب پہنچنے والے پولیس اہلکاروں سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا تھا کہ اس نے پاکستان میں القاعدہ سے عسکری تربیت حاصل کی۔اس نے یہ واردات اسرائیلی فوج کے ہاتھوں فلسطینی بچوں کے قتل عام اور افغانستان میں فرانسیسی فوج کی کارروائیوں کے ردعمل میں کی تھی۔
مراح کے والد نے ریڈیو فرانس 24 کے ساتھ بدھ کو ایک انٹرویو میں کہا کہ ''اگر میرے بیٹے کا واقعی ان ہلاکتوں میں ہاتھ تھا تو یہ ٹھیک نہیں ہے۔اگر اس نے واقعی بے گناہ لوگوں کو قتل کیا تو وہ غلط تھا لیکن اگر دوسرے لوگوں نے اسے ایسا کرنے پر مجبور کیا تو بھی یہ غلط تھا''۔