منگل 07 جمادى الأولى 1434هـ - 19 مارچ 2013م
آخری وقت اشاعت: جمعرات 06 جمادى الأولى 1433هـ - 29 مارچ 2012م KSA 06:14 - GMT 03:14

احتجاجی تحریک میں شامل ہو کر لڑنے کا اعلان

شام: دو بریگیڈیئر جنرل سمیت 16 دیگر افسران باغیوں میں شامل

جمعرات 06 جمادى الأولى 1433هـ - 29 مارچ 2012م
العربیہ ڈاٹ نیٹ

شام میں سرکاری فوج کے باغیوں کےخلاف حملوں میں اضافے کے ساتھ ساتھ سرکاری فوج میں پڑنے والی پھوٹ میں بھی تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ اطلاعات کے مطابق گذشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران دو بریگیڈئر جنرل سمیت کم سے کم سولہ اعلیٰ افسران باغیوں سے جا ملے ہیں۔

فوج سے فرار ہونے والے افسروں میں وسطی علاقے کے انٹیلی جنس چیف بریگیڈیئر جنرل عدنان محمد الاحمد، چھاپہ مار دستے کے سربراہ بریگیڈئیر مغوارحسین محمد اور چیفس آف اسٹاف کے رکن بریگیڈئیر جنرل زیاد فہد شامل ہیں۔

"العربیہ ڈاٹ نیٹ" کے مطابق شامی انقلابی کارکنوں کی جانب سے انٹرنیٹ پر جاری ایک ویڈیو بیان میں بتایا گیا ہے کہ حکومت نے فوج سے بغاوت کرنے والے افسران کے خلاف انتقامی کارروائی کے تحت بریگیڈئیر جنرل زیادہ فہد کےگھر کی بجلی اور مواصلات کی سہولیات کاٹ دی ہیں۔

ادھر فوج سے بغاوت کرنے والے ایک دوسرے سینیئر افسر بریگیڈیئر جنرل عدنان محمد الاحمد نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ فوج کا اصل کام ملک کا دفاع اور عوام کا تحفظ ہے لیکن انہوں نے ایک سال کے دوران یہ دیکھا کیا ہے کہ سرکاری فوج صرف ایک شخص کی حکومت بچانے کے لیے عوام کا اجتماعی قتل عام کر رہی ہے۔ فوج کے ہاتھوں عوام کے جان ومال اور ان کی عزت وآبرو کی پامالی کے سنگین واقعات رو نما ہور رہے ہیں جس کے بعد ان کا سرکاری فوج میں کسی قسم کی خدمات انجام دینا عوام کےخلاف مظالم میں دانستہ تعاون کے مترادف تھا۔

خیال رہے کہ شام میں سرکاری فوج کی کل تعداد تین لاکھ سے زیادہ ہے جو 12 بریگیڈ پر مشتمل ہے۔ ان میں سات آرمڈ بریگیڈ، تین بریگیڈ انفنٹری اور اسپیشل ری پبلیکن گارڈز بھی شامل ہیں۔ ری پبلیکن گارڈز کی کل تعداد 10 ہزار اہلکاروں پر مشتمل ہے جس کی کمان صدر بشار الاسد خود کر رہے ہیں۔ ان کے بھائی ماہر الاسد کی کمان میں بریگیڈ 4 میں بیس ہزار اہلکار موجود میں بریگیڈ چار اور ری پبلیکن گارڈز کی ذمہ داریوں میں حکومت اور صدر بشار الاسد کے خاندان کا دفاع اور باغی فوجیوں کے خلاف کارروائی شامل ہیں۔

شام میں سرکاری فوج میں بغاوت کا آغاز گذشتہ برس کے وسط میں شروع ہو گیا تھا۔ آغاز میں کچھ فوجی محض جانیں بچانے کے لیے بھاگ گئے تھے۔ تاہم کچھ دوسرے میجر حسین ھرموش کی قیادت میں باغیوں کے ساتھ مل کر سرکاری فوج کےخلاف لڑنے لگے۔

جولائی 2011ء میں کرنل ریاض الاسعد کی سربراہی میں فری آرمی کا اعلان کیا گیا۔ اس وقت فری آرمی کی تعداد 30 ہزار سے زائد بتائی جاتی ہے۔ کچھ دوسرے ذرائع یہ توقع ظاہر کر رہے ہیں کہ باغی فوجیوں کی تعداد جلد ہی ایک لاکھ بیس ہزار سے تجاوز کر جائے گی۔