عراقی وزیر خارجہ ہوشیار زیباری کا کہنا ہے کہ جمعرات کو بغداد میں منعقد ہونے والے عرب لیگ کے سربراہ اجلاس میں شامی صدر بشار الاسد سے یہ اقتدار چھوڑنے کا مطالبہ نہیں کیا جائے گا کیونکہ یہ طے کرنا عرب لیگ کا نہیں بلکہ شامی عوام کا کام ہے۔
عراقی وزیر خارجہ کے مطابق اس اجلاس میں شامی صدر بشار الاسد پر مزید زور دیا جائے گا کہ وہ جمہوریت پسندوں کے خلاف کریک ڈاؤن بند کریں۔ عرب لیگ میں سخت الفاظ کی حامل اس اجلاس کی مجوزہ قرارداد کو قطر اور سعودی عرب کی پشت پناہی حاصل رہی ہے۔
عراقی وزیر خارجہ زیباری نے سربراہ اجلاس سے قبل منعقد ہونے والے عرب لیگ کے وزرائے خارجہ کے ایک اجلاس کے بعد بدھ کے روز کہا، ’عرب لیگ کا مؤقف سادہ ہے۔ ہم نے یہ کبھی نہیں کہا کہ بشار الاسد حکومت چھوڑ دیں۔ ہم نے اس موضوع پر بات نہیں کہ اور نہ ہم کبھی اس سمت میں جائیں گے۔‘
ہوشیار زیباری نے کہا کہ ملک کا صدر کسے منتخب کرنا ہے، یہ طے کرنا عرب لیگ یا کسی اور ادارے کا نہیں بلکہ شامی عوام کا استحقاق ہے۔ ’ہم نے اس موضوع پر کسی طرح کی کوئی بات نہیں کی۔‘
تاہم عراقی وزیر خارجہ نے یہ بھی کہا کہ شام کا مسئلہ اب علاقے یا عرب لیگ کا مسئلہ نہیں بلکہ عالمی برادری کی توجہ کا مرکز ہے اور وہاں جاری قتل عام کسی صورت بھی قابل برداشت نہیں ہے۔
اس سے قبل عرب لیگ کے سیکرٹری جنرل نبیل العربی کی جانب سے ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ اس سربراہ اجلاس میں شام کے لیے کوفی عنان کے چھے نکاتی امن منصوبے کی حمایت میں اتفاق رائے کی کوشش کی جائے گی۔ اس سے قبل شام نے کوفی عنان کے تجویز کردہ اس منصوبے کو تسلیم کرنے کا اعلان کیا تھا۔
گزشتہ 20 برسوں میں یہ پہلا موقع ہے کہ عراقی دارالحکومت بغداد میں عرب لیگ کا کوئی سربراہ اجلاس منعقد ہو رہا ہے۔ اجلاس میں کلیدی اہمیت شام کے مسئلے کو حاصل رہے گی، جہاں انسانی حقوق کے اداروں کے مطابق گزشتہ ایک سال میں دس ہزار سے زائد افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں۔
عراق کے دارالحکومت بغداد میں کئی سال کے وقفے کے بعد منعقد ہونے والی عرب سربراہ کانفرنس کی تیاریوں کے جلو بغداد کے مکینوں کو سخت مشکلات کا سامنا ہے۔ دوسری جانب عرب لیگ کا یہ سربراہ اجلاس اب تک کا سب سے مہنگا اجلاس ہو گا جسے مہنگی ترین اور سب سے زیادہ سیکیورٹی فراہم کی جائے گی۔
"العربیہ ڈاٹ نیٹ" کے مطابق بغداد میں عرب سربراہ کانفرنس کے انعقاد سے کئی روز قبل ہی شہر کو سیکیورٹی فورسز کے حوالے کر دیا گیا۔ جس کے نتیجے میں بغداد کے مکینوں کو حساس مقامات سے دور ہٹنے پر مجبور ہونا پڑا جبکہ باقی آبادی اپنے گھروں میں محصور ہو کر رہ گئی ہے۔
ایک اندازے کے مطابق عرب مہمانوں کی آمد تک بغداد کی نصف آبادی شہر کے شمالی اور جنوبی علاقوں کی طرف منتقل کر دی جائے گی جبکہ بقیہ نصف کو کہا جائے گا کہ وہ گھروں میں ٹی وی اسکرین کے سامنے بیٹھ کر وقت گذاریں۔ بغداد کی سڑکوں پر پولیس اور فوج کے مسلح دستے مشترکہ گشت جاری رکھے ہوئے ہیں۔
عراقی حکومت کے ترجمان علی الدباغ کا کہنا ہے کہ بعض عرب ممالک کے سفارت خانوں کی جانب سے بغداد کانفرنس میں شرکت کے لیے تیاری مکمل نہیں کی گئی۔ عراق میں تعینات عرب ممالک کے سفیر سربراہ کانفرنس کے لیے اپنا مخصوص ایجنڈا پیش کریں گے، تاہم مجموعی طور پر اجلاس میں شام کا مسئلہ، دہشت گردی کےخلاف جنگ اور عرب لیگ کے ڈھانچے کی تشکیل نو اہم موضوعات ہوں گے۔
عرب تجزیہ نگار احمد الابیض نے "العربیہ ڈاٹ نیٹ" سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بغداد عرب سربراہ اجلاس اب تک کی مہنگی ترین کانفرنس ہو گی۔ یہ بغداد کانفرنس کا ایک خاصہ ہے کہ اس کی سیکیورٹی کے لیے اتنے سخت ترین اتنظامات کے ساتھ اتنی بڑی تعداد میں سیکیورٹی اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔ اجلاس کے دوران بغداد میں تجارتی سرگرمیاں بھی ٹھنڈی رہیں گی۔