منگل 07 جمادى الأولى 1434هـ - 19 مارچ 2013م
آخری وقت اشاعت: جمعرات 06 جمادى الأولى 1433هـ - 29 مارچ 2012م KSA 21:51 - GMT 18:51

علماء کی اقدار جمہوریہ کی اقدار سے لگا نہیں کھاتیں: فرانسیسی وزراء

چار مسلم علماء کے فرانس میں داخلے پر پابندی عاید

جمعرات 06 جمادى الأولى 1433هـ - 29 مارچ 2012م
پیرس ۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ

فرانسیسی حکومت نے چار مسلم علماء کے ملک میں داخلے پر پابندی عاید کر دی ہے۔ وہ ایک اسلامی کانفرنس میں شرکت کے سلسلہ میں فرانس آنے والے تھے۔ فرانسیسی حکومت نے ان پر پابندی کے لیے یہ موقف اختیار کیا ہے کہ ان علماء کی جانب سے نفرت اور تشدد کی تبلیغ سے جمہوریہ کے اصولوں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔

فرانسیسی وزیر خارجہ الین جوپے اور وزیر داخلہ کلود گئیو نے جمعرات کو ایک بیان جاری کیا ہے جس میں سوئس دانشور طارق سعید رمضان کی فرانس میں اسلامی کانفرنس یونین کے زیر اہتمام کانفرنس میں شرکت کے لیے آمد پر افسوس کا اظہار کیا گیا ہے۔

فرانسیسی حکومت کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق عکرمہ صابری، عائض بن عبداللہ القرنی، صفوت الحجازی اور عبداللہ بصفر پر فرانس میں داخلے پر پابندی عاید کی گئی ہے جبکہ قطری عالم دین علامہ یوسف القرضاوی اور ایک اور عالم محمود المصری نے پہلے ہی فرانس نہ آنے کا فیصلہ کیا تھا۔

فرانسیسی صدر نکولا سارکوزی نے چھے اپریل سے نو اپریل تک پیرس کے نواحی علاقے لی بورگے میں منعقد ہونے والے کانفرنس میں شرکت سے روکنے کے لیے ان علماء پر پابندی عاید کرنے کی ہدایت کی تھی اور یہ فیصلہ دو ہفتے قبل الجزائری نژاد فرانسیسی نوجوان محمد مراح کے ہاتھوں مبینہ طور پر سات افراد کے قتل کے ردعمل میں کیا گیا ہے۔

فرانسیسی وزراء کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ''یہ لوگ اپنے بیانات میں تشدد اور نفرت کی تعلیم دے رہے تھے۔ ان کے موقف سے جمہوریہ کی اقدار واصولوں کو شدید نقصان پہنچا ہے اور موجودہ صورت حال کے تناظر میں امن عامہ کے لیے سنگین خطرات پیدا ہو گئے تھے''۔

بیان میں اسلامی کانفرنس یونین فرانس کی جانب سے سوئس شہری اور دانشور طارق سعید رمضان کو مدعو کرنے پر افسوس کا اظہار کیا گیا ہے اور دونوں وزراء نے یہ کہا ہے کہ ان کا موقف اور بیانات جمہوریہ کی روح کے منافی ہیں اور اس سے فرانسیسی مسلمانوں کی کوئی خدمت نہیں ہو گی۔

طارق سعید رمضان کے خلاف کیس

مصری نژاد سوئس دانشور طارق سعید رمضان نے گذشتہ دنوں اپنے بیانات اور تحریروں میں یہ موقف اختیار کیا تھا کہ مذہب محمد مراح کے جرم میں کوئی مرکزی محرک نہیں تھا اور اس کے جرم پر ''اسلامی'' کا لیبل نہیں لگایا جانا چاہیے۔

فرانسیسی اخبار لی موندے کے ساتھ ایک انٹرویو میں انھوں نے کہا کہ ''فرانس کو یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ محمد مراح فرانس کا بیٹا ہے، الجزائر کا نہیں''۔

قبل ازیں انھوں نے اپنی ایک تحریر میں لکھا تھا کہ ''مذہب محمد مراح کا مسئلہ تھا اور نہ اس کا مذہبی سیاست سے کوئی تعلق تھا۔ ایک فرانسیسی شہری کی حیثیت میں کوئی جگہ نہ ملنے پر وہ مایوسی کا شکار ہو گیا تھا۔ اسے اپنے ہی ملک میں وقار حاصل نہیں تھا اور وہ خود کو حقیر سمجھتا تھا۔ اس صورت حال میں وہ افغانستان اور فلسطین کے کاز کے ساتھ خود کو جوڑ سکتا تھا۔ اس نے ان کی مخالف علامتوں پر حملے کیے اور فوج کو نشانہ بنایا۔ اس نے کسی تمیز کے بغیر یہودیوں، عیسائیوں اور مسلمانوں کو قتل کیا''۔

انھوں نے مزید لکھا کہ ''اس کا سیاسی نقطہ نظر یہ تھا کہ ایک نوجوان آزاد ہوتا ہے۔ وہ اسلامی اقدار یا نسل پرستی یا یہود مخالف جذبات سے متاثر نہیں ہوا تھا۔ وہ الجھاؤ کا شکار ایک نوجوان تھا۔ اس نے ہر اس ہدف کو نشانہ بنایا جو اس کو نظر آ رہا تھا۔ وہ بہ ذات خود ایک سوشل آرڈر کا شکار تھا جس نے اس کی ذات کو گہنا دیا تھا اور اس جیسے لاکھوں اور لوگ بھی اسی طرح کی صورت حال سے دوچار ہیں۔ انھیں دیوار سے لگا دیا گیا ہے۔ وہ فرانس کا ایک ایسا شہری تھا جس کو دوسروں کے برابر کے حقوق اور مواقع حاصل نہیں تھے''۔