اسپین کی ایک عدالت نے سعودی عرب کے شاہی خاندان کی ایک اہم کاروباری شخصیت شہزادہ ولید بن طلال کو تین سال قبل ایک فیشن ماڈل کو ہراساں کرنے کے الزامات سے بری کر دیا ہے۔
فرانسیسی خبر رساں ایجنسی "اے ایف پی" کی رپورٹ کے مطابق اسپین کے جزیرہ کے دارالحکومت البالیاریک میں مالما دی مایوروکا کی عدالت نے شہزادہ ولید بن طلال کے خلاف دائر مقدمے کو ناکافی دلائل اور پیش کردہ مشتبہ ثبوت کی بنا پر مدعیٰ علیہ کو بری کرنے کا اعلان کیا۔
فاضل عدالت کے فیصلے کے مطابق مدعیہ، شہزادہ ولید بن طلال کے خلاف خود پرتشدد کے ٹھوس ثبوت فراہم نہیں کر سکی، اس لئے مدعیٰ علیہ کو باعزت بری کیا جاتا ہے۔
قبل ازیں شہزادہ ولید نے عدالت میں اپنے وکیل کے ذریعے سے بتایا تھا کہ ان کے خلاف ہسپانونی فیشن ماڈل کی جانب سے ایک جعلی مقدمہ دائر کیا گیا ہے۔ مقدمہ میں مدعیہ کی جانب نے ہراساں کیے جانے کی جو تاریخ بیان کی گئی ہے اس تاریخ کو شہزادہ طلال اسپین میں موجود ہی نہیں تھے۔
قبل ازیں مئی سنہ 2010ء کو اسپین کی ایک عدالت نے شہزادہ ولید بن طلال کےخلاف ناکافی ثبوتوں کی بناء پر مقدمہ خارجہ کر دیا تھا تاہم 24 مئی کو ایک دوسری عدالت نے کیس پر نظر ثانی کا فیصلہ کیا۔ مقدمہ پر دوبارہ کارروائی 27 جولائی 2011ء کو ہوئی تھی، جس کے بعد مدعیہ سے مزید ثبوت پیش کرنے کو کہا گیا تھا۔ جمعرات کے روز ہونے والی کیس کی سماعت کے دوران بھی مدعیہ کی طرف سے مدعیٰ علیہ کے خلاف ٹھوس ثبوت پیش نہیں کیے جا سکے جس کے بعد عدالت نے شیخ ولید بن طلال کو ان پر عائد تمام الزامات سے بری کر دیا۔
دوسری جانب اسپین میں عدالتی امور میں قانونی معاونت فراہم کرنے والی ایک لیگل فرم "اولیفا ایالا" نے ایک بیان میں کہا ہے کہ شہزادہ ولید بن طلال اسپینی فیشن ماڈل کی جانب سے جھوٹا مقدمہ دائر کرنے پر اس کے خلاف ہرجانے کا دعویٰ دائر کرنے پر غور کر رہے ہیں۔
لیگل فرم کی جانب سے شہزادہ ولید بن طلال کے ساتھ ہر ممکن تعاون کا یقین دلاتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اگر انہوں نے فیشن ماڈل کے خلاف کوئی آئینی چارہ جوئی کا فیصلہ کیا تو وہ اس معاملے میں ان کا ساتھ دیں گے۔
"اولیفا ایالا" کا کہنا ہے کہ اس کے قانونی ماہرین پہلے بھی شہزادہ ولید بن طلال کی قانونی معاونت کر چکے ہیں۔ فرم کی جانب سے پہلے بھی واضح کیا گیا تھا کہ شہزادہ ولید کے پر عائد تمام الزامات بے بنیاد اور شرمناک ہیں کیونکہ مقدمہ میں مدعیہ نے خود کو ہراساں کرنےکا جو دن بتایا ہے اس دن شہزادہ ولید اپنے خاندان کے ہمراہ فرانس میں تھے، ان کی فرانس میں موجودگی کے کئی گواہ موجود ہیں۔