بھوک ہڑتال ختم کرنے کے بدلے میں فلسطینی خاتون کو غزہ بدر کرنے کا معاہدہ

اسلامی جہاد کی کارکن کو اسرائیلی جیل سے غزہ بھیج دیا جائے گا

نشر في:

اسرائیلی جیل میں کسی الزام کے بغیر زیرحراست فلسطینی خاتون هناء شلبی نے خود کو غزہ کی پٹی میں بھیجنے کے لیے اسرائیلی حکام کے ساتھ معاہدہ طے پانے کے بعد بھوک ہڑتال ختم کردی ہے۔

فلسطین کے وزیر جیل خانہ جات عیسیٰ قعقاع نے بتایا ہے کہ هناء شلبی کا اسرائیلی حکام کے ساتھ ایک معاہدہ طے پا گیا ہے جس کے تحت انھیں غزہ کی پٹی میں جلا وطن کردیا جائے گا اور اس سے معاہدے کے بعد انھوں نے بھوک ہڑتال ختم کردی ہے۔

تیس سالہ هناء شلبی کا تعلق مغربی کنارے سے ہے۔ انھیں گذشتہ سال اکتوبر میں اسرائیلی فوجی گیلاد شالیت کی رہائی کے بدلے میں قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے کے تحت پچیس ماہ کی قید کے بعد رہا کیا گیا تھا لیکن انھیں بعد میں کسی الزام کے بغیر دوبارہ گرفتار کرلیا گیا۔انھوں نے صہیونی حکام کے تشدد آمیز سلوک کے خلاف سولہ فروری سے جیل میں کھانا کھانا چھوڑ رکھا تھا۔اس طرح انھوں نے چوالیس روز تک اسرائیلی حکام کے ناروا سلوک کے خلاف بھوک ہڑتال کی ہے۔

اسرائیلی جیلوں میں قید فلسطینیوں کے امور کی ذمے دار فلسطینی قیدی کلب نے نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ''هناء شلبی کوبھوک ہڑتال ختم کرنے کے بدلے میں تین سال کے لیے غزہ کی پٹی میں بھیجا جائے گا۔ہم ان کے انتخاب کو قبول کرتے ہیں لیکن ان کی غزہ بدری مسئلے کا کوئی حل نہیں ہے''۔

شلبی کے وکیل جواد بولوس نے غزہ بدری سے متعلق معاہدے پر عمل درآمد کے آغاز کے حوالے سے اپنی لاعلمی کا اظہار کیا ہے لیکن دوسری جانب اسرائیلی فوج نے اس معاہدے کی تصدیق کی ہے اور کہا ہے کہ هناء شلبی کو آیندہ چند روز میں غزہ کی پٹی بھیج دیا جائے گا۔

هناء شلبی کو ان کی بگڑتی ہوئی صحت کے پیش نظر انیس مارچ کو اسپتال منتقل کردیا گیا تھا جہاں ڈاکٹروں نے بتایا کہ ان کا چودہ کلوگرام وزن کم ہوچکا ہے اور نبض کمزور پڑچکی ہے۔ان کے وکیل کا کہنا ہے کہ بھوک ہڑتال کے بعد اسرائیلی حکام نے انھیں قید تنہائی میں رکھا ہوا تھا۔حنہ نے اس سے پہلے ایک بیان میں کہا تھا کہ اسرائیلی فوجی افسروں نے ان کی جامہ تلاشی لینے کی کوشش کی تھی۔

ان کے ایک اور وکیل فوازشالودی کے بہ قول:''ھناء نے مجھے بتایا کہ انھیں گرفتاری کے وقت ان کے خاندان کے سامنے تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا۔اس کے بعد جیل میں تفتیش کے دوران اور پھر مرد فوجیوں کو جامہ تلاشی دینے سے انکار پر انھیں دوبارہ مارا پیٹا گیا''۔

اسرائیلی حکام نے ان الزامات کی تردید کی تھی لیکن واضح رہے کہ اسرائیلی حکام فلسطینی سے ناروا سلوک سے متعلق الزامات کی ہمیشہ تردید کرتے ہیں۔اس حوالے سے وہ دیدہ دلیری سے جھوٹ بولنے کے لیے مشہور ہیں،وہ کم ہی اپنی چیرہ دستیوں اور فلسطینیوں پر مظالم کا اعتراف کرتے ہیں اور بالعموم فلسطینیوں کے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں حتیٰ کہ انھیں جان سے ماردینے کا بھی کوئی نہ کوئی جواز ان کے پاس موجود ہوتا ہے۔

هناء شلبی سے قبل اسلامی جہاد سے ہی تعلق رکھنے والے فلسطینی قیدی خضرعدنان نے اسرائیلی جیل میں چھیاسٹھ روز تک بھوک ہڑتال کی تھی جس کی وجہ سے ان کی حالت بگڑ گئی تھی۔ان کی بھوک ہڑتال کی عالمی میڈیا میں نمایاں کوریج کی گئی تھی جس کی وجہ سے اسرائیل کو سبکی کا سامنا کرنا پڑا تھا اور اسرائیلی وزارت انصاف نے خضرعدنان کو اپریل میں رہا کرنے سے اتفاق کیا تھا۔

اسلامی جہاد کی سرگرم خاتون کارکن هناء شلبی قبل ازیں پچیس ماہ تک اسرائیل کے بدنام زمانہ انتظامی حراستی قانون کے تحت جیل میں قید رہی تھیں۔اسرائیلی فوج نے اس امر کی وضاحت نہیں کہ اس نے اس خاتون کو دوبارہ کیوں گرفتار کیا تھا۔

اسرائیل کی انسانی حقوق کی تنظیمیں فلسطینیوں کو کسی الزام اور ٹرائل کے بغیر حراست میں رکھنے کی مذمت کرچکی ہیں۔ فلسطینی قیدیوں کی تنظیم کے چئیرمین قدورا فارس کا کہنا ہے کہ اس وقت تین سو فلسطینی اسرائیل کی انتظامی حراست میں ہیں۔ گذشتہ سال شالیت کی رہائی کے بعد سے پندرہ فلسطینیوں کو دوبارہ گرفتار کیا گیا تھا اور ان میں سے چھے ابھی تک اسرائیلی جیلوں میں بند ہیں۔

یاد رہے کہ برطانوی انتداب(مینڈیٹ ) کے دور سے تعلق رکھنے والے اسرائیلی قوانین کے تحت فوجی ٹرائبیونلز کسی بھی شخص کو کسی الزام کے بغیر چھے ماہ تک قید کرسکتے ہیں اورحراستی مدت میں عدالت کے روبرو ہر نئی سماعت کے موقع پر منظوری کی صورت میں مزید چھے ماہ کے لیے توسیع کی جا سکتی ہے۔